دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            ’’بَلا اُترتی ہے پھر دعا اس سے جا ملتی ہے تو دونوں   کُشتی لڑتے رہتے ہیں   قیامت تک۔‘‘

                 یعنی دعا اُس بَلا کو اترنے نہیں   دیتی۔

          قال الرضاء :  رواہ البزّار والطبراني والحاکم عن أمّ المؤمنین رضي اللّٰہ تعالی عنہا۔)([1])

          حدیث ۸ :   مروی کہ فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   :

             ’’دعا عبادت کا مغز ہے ۔‘‘

          قال الرضاء :  رواہ الترمذي عن أنس رضي اللّٰہ تعالی عنہ۔)([2])

حدیث ۹ :  مذکور کہ فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   :

            ’’کیا میں   تمہیں   وہ چیز نہ بتاؤں   جو تمہیں   تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہارے رزق وسیع کر دے ، رات دن اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ دعا سلاحِ مومن(یعنی مومن کا ہتھیار) ہے ۔‘‘

          قال الرضاء :  رواہ أبو یعلی عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ تعالی عنہما۔)([3])

          حدیث ۱۰ :  فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   :

            ’’جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرے ، اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرمائے ۔‘‘

          قال الرضاء :  أخرجہ أحمد وابن أبي شیبۃ والبخاري في ’’الأدب المفرد‘‘ والترمذي وابن ماجہ والحاکم عن أبي ھریرۃ رضي اللّٰہ تعالی عنہ۔([4])

            اور یہ معنی بعض احادیثِ قدسی میں   بھی آئے ۔

            أخرجہ العسکري في ’’المواعظ‘‘ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم قال :  ((قال اللّٰہ تعالی :  من لا یدعوني أغضب علیہ))۔

یعنی :  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :  ’’جو مجھ سے دعا نہ کرے گا میں   اُس پر غضب فرماؤں   گا۔‘‘ العِیاذ باللّٰہ تعالی۔) ([5])

اے عزیز! دعا ایک عجیب نعمت اور عمدہ دولت ہے کہ پروردگار تَقَدَّسَ وَتَعَالٰی (پاک اور بلند وبالا)نے اپنے بندوں   کو کرامت فرمائی اور اُن کو تعلیم کی، حلِّ مشکلات میں   اس سے زیادہ کوئی چیز مؤثر  نہیں  ، اور دفعِ بلا وآفت میں   کوئی بات اس سے بہتر نہیں  ۔([6])

ایک دعا سے آدمی کو پانچ فائدے حاصل ہوتے ہیں  :

اوّل :  عابدوں   کے گروہ میں   داخل ہوتا ہے کہ دعا  فِي نَفْسِہٖ(یعنی بذاتِ خود) عبادت بلکہ سرِّ عبادت  (یعنی عبادت کا مغز) ہے ۔

دُوُم :  وہ اِقرارِ عجز ونیاز[7]؎داعی واعتراف بہ قدرت وکرمِ اِلٰہی پر دلالت کرتی ہے ۔

سِوُم :  امتثالِ امرِ شرع، کہ شارع نے اُس پر تاکید فرمائی، نہ مانگنے پر غضبِ اِلٰہی کی وعید آئی۔([8])

چَہَارُم :  اِتباعِ سنّت کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اکثر اوقات دعا مانگتے اور اوروں   کو بھی تاکید فرماتے ۔ ([9])

پَنجُم :  دفعِ بلا وحصولِ مدّعا (بَلاٹلنے اور مراد پوری ہونے )کہ بحکمِ { اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-}([10]) و{ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ-}([11])۔

 



[1]    اس حدیث کو بزار، طبرانی اور حاکم نے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔

’’المستدرک‘‘، کتاب الدعاء والتکبیر   إلخ، الحدیث :  ۱۸۵۶، ج۲، ص۱۶۲۔

[2]    اس حدیث کو امام ترمذی نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔

 ’’سنن الترمذي‘‘، باب  ما جاء في فضل الدعاء، الحدیث :  ۳۳۸۲، ج۵، ص۲۴۳۔

[3]    اس حدیث کو ابو یعلی نے حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا۔

’’مسند أبي یعلی‘‘، الحدیث :  ۱۸۰۶، ج۲، ص۲۰۱-۲۰۲۔

[4]    اس حدیث کوامام احمد وابن ابی شیبہ ، اور امام بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں   اور امام ترمذی وابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔

’’المستدرک ‘‘، کتاب الدعاء والتکبیر   إلخ، الحدیث :  ۱۸۴۹، ج۲، ص۱۶۰۔

[5]    ’’کنز العمال‘‘، الباب الثامن، الفصل الأول، الحدیث :  ۳۱۲۴، الجزء الثاني، ج۱، ص۲۹، (بحوالہ’’مواعظ‘‘)۔

[6]    مشکلات کو حل کرنے میں   دعا سے زیادہ اثر کرنے والی اور آفات وبلیات کو ٹالنے میں   دعا سے زیادہ بہترین کوئی چیز نہیں  ۔

[7]    یعنی جو شخص دعا کرتا ہے وہ اپنے عجز واحتیاج کا اقرار اور اپنے پروردگار کے کرم وقدرت کا اعتراف کرتا ہے ۔ ۱۲ منہ

[8]    یعنی :  دعا مانگنا شریعت ِمطہرہ کے حکم کی بجا آوری ہے کہ اللہ رب العزت جل وعلا نے فرمایا :  { اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-} (پ۲۴، المؤمن : ۶۰) ’’مجھ سے دعا کرو میں   قبو ل کر وں   گا‘‘ اور دعا نہ مانگنے والے کے بارے میں   عذاب کی وعیدہے جیساکہ حدیثِ پاک میں   آیا : ’’ جو مجھ سے دعا نہ کرے گا میں   اس پر غضب فرماؤں   گا‘‘۔

[9]    کہ دعا سے آفات وبلیات دور ہوتی ہیں   اور مقصود حاصل ہوتاہے ۔

[10]    ترجمۂ کنز الایمان : ’’مجھ سے دعا کرو میں   قبول کروں   گا۔ (پ۲۴، المؤمن : ۶۰)

[11]    ترجمۂ کنزالایمان : ’’دعا قبول کرتا ہوں   پکارنے والے کی جب مجھے پکارے ‘‘ (پ۲،  البقرۃ :  ۱۸۶)۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن