دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

آدمی لحاظ کے باعث مجبور ہو جاتا ہے ، بحال ناگواری جو کچھ لیا، وہ سوال ہی نہیں   بلکہ ظلم وغصب ومُصَادَرہ (ڈنڈو تاوان) ہے ۔ یہ دقیقہ وَاجِبُ اللِّحَاظ ہے (اس نکتہ کا لحاظ بہت ضروری ہے ) کہ بہت متصوفۂ زمانہ (اس زمانے کے نام نہاد صوفی) اس میں  مبتلا ہیں  ، انہیں   اس کا لحاظ فرض ہے اور مریدین کو لازم کہ اپنا مال وجان سب اپنے پیر کی مِلک سمجھیں  ، پیر کہ شرائطِ پیری کا جامع ہو، نائب رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے اور ائمۂ دین فرماتے ہیں  : جو اپنے آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مِلک نہ جانے ، حلاوتِ سنّت اس کے مذاقِ جان تک نہ پہنچے (یعنی :  وہ سنت کی لذت سے محروم رہے گا)۔

     قالہ الإمام سھل التُّسْتَرِيُّ نقلہ الإمام القسطلاني في ’’المواہب‘‘ وغیرہ۔([1])

            صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :  ھل أنا ومالي إلّا لک یا رسول اللّٰہ! ’’میں   اور میرا مال حضور کے سوا کس کے ہیں  ؟ یا رسول اللہ ‘‘۔([2])

واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی أعلم۔)

خاتمہ چند ترکیب نماز حاجت میں   

          ترکیب اوّل(۱) :  وضوئے تازہ اچھی طرح کرے ، دو رکعت نماز نفل پڑھے ، بعد سلام عرض کرے :  ((اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَۃِ،  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّيْ أَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّيْ فَیَقْضِيْ حَاجَتِيْ)) ([3]) اور اپنی حاجت ذکر کرے ، یہ دعا صحیح حدیث میں   تعلیم فرمائی۔

          قال الرضاء :  ایک نابینا خدمت اقدس حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں   حاضر ہو کر اپنی نابینائی کا شاکی ہوا، حضور نے یہ نماز ودعا ارشاد فرمائی، انہوں   نے مسجد میں   جاکر پڑھی، کچھ دیر نہ گزری تھی کہ دونوں   آنکھیں   کھل گئیں   گویا کبھی اندھے نہ تھے ۔

            یہ حدیث ترمذی ونسائی وابن ماجہ وابن خزیمہ وطبرانی وحاکم وبیہقی نے روایت کی، امام ترمذی فرماتے ہیں   : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، حاکم نے کہا  : بخاری ومسلم دونوں   کی شرطوں   پر صحیح ہے ، امام ابوالقاسم طبرانی، پھرامام بیہقی، پھر امام منذری وغیرہم ائمہ نے فرمایا :  صحیح ہے ۔([4])

          أقول :  حدیث میں   ’’یا محمد‘‘ہے ، مگر اس کی جگہ ’’یا رسول اللّٰہ‘‘ کہنا چاہیے کہ صحیح مذہب میں   حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نام لے کر ندا کرنا ناجائز ہے ، علماء فرماتے ہیں  : اگر روایت میں   وارد ہو جب بھی تبدیل کر لیں  ، یہ مسئلہ ہمارے رسالہ ’’تَجَلِّي الْیَقِیْنِ بِأَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْنِ‘‘ میں   مُفصَّل ومشرَّح مذکور ہے ، ([5]) ولہٰذا حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہٗ نے ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ فرمایا،  واللہ تعالیٰ اعلم۔

          ثمّ أقول :  اس دعا کے اول وآخر حمدِ الٰہی ودُرود رسالت پناہی صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِ اور آمین پر ختم اور شروع میں   اللہ تعالیٰ کو اسمائے طیبہ سے ندا وغیر ذالک جو آدابِ دعا گزرے ، ضرور بجالائے اور یونہی تمام ترکیبات میں   سمجھے ، دابِ عام ہے (یعنی :  عام طریقہ ہے ) کہ جن امور کی تفصیل اور کسی امرِعام میں  مطلقاً ان کی حاجت دوسری جگہ سے معلوم ہو ، خاص معیَّن میں   ان کے ذکر کی حاجت نہیں   سمجھی جاتی([6])۔)

          ترکیب دوم(۲) :  نمیری وابن بشکوال، وہیب بن ورد سے روایت کرتے ہیں  : جو بندہ بارہ رکعت، ہر رکعت میں   سورۃ الفاتحہ وآیۃ الکرسی وسورئہ اخلاص پڑھے پھر سجدے میں   یہ کلمات کہے :  

            سُبْحَانَ الَّذِيْ لَبِسَ الْعِزَّ وَقَالَ بِہٖ، سُبْحَانَ الَّذِيْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَتَکَرَّمَ بِہٖ،  سُبْحَانَ الَّذِيْ أَحْصٰی کُلَّ شَيْئٍ بِعِلْمِہٖ،  سُبْحَانَ الَّذِيْ لا یَنْبَغِي التَّسْبِیْحُ إِلَّا لَـہٗ، سُبْحَانَ ذِي الْمَنِّ وَالْفَضْلِ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزِّ وَالْکَرَمِ،  سُبْحَانَ ذِي الطَّوْلِ وَالنِّعَمِ أَسْأَلُکَ بَمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَھَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتَابِکَ، وَبِاِسْمِکَ الْعَظِیْمِ الْأَعْظَمِ وَجَدِّکَ الْأَعْلٰی وَکَلِمَاتِکَ التَّآمَّاتِ کُلِّھَا لَا یُجَاوِزُھُنَّ بَرٌّ وَّلَا فَاجِرٌ أَنْ تُصَلِّيَ عَلٰی مُحَمّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔([7])

 



[1]    امام سہل بن عبد اللہ تستری نے یہ بات کہی ہے اور امام احمد قسطلانی نے ’’اَلْمَوَاہِبُ اللَّدُنِیَّہ‘‘وغیرہ میں   اس بات کو نقل فرمایا ہے ۔

 ’’المواھب اللدنیۃ‘‘، المقصد السابع، الفصل الأول، ج۲، ص ۴۹۴۔

[2]    ’’سنن ابن ماجہ‘‘، باب في فضائل أصحاب رسول اللّٰہ، الحدیث :  ۹۴، ج۱، ص۷۲۔

[3]    الٰہی! میں  تجھ سے سوال کرتا اورتیری طرف توجہ کرتاہوں   ہمارے نبی محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وسیلے سے جو مہربانی والے نبی ہیں  ، یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں   آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں   کہ میری حاجت بر آئے ۔

[4]    ’’سنن الترمذي‘‘، باب في انتظار الفرج وغیر ذلک، الحدیث :  ۳۵۸۹، ج۵، ص۳۳۶، بألفاظ متقاربۃ۔

 و’’المستدرک‘‘ للحاکم، کتاب الدعائ   إلخ،  باب دعاء ردّ البصر، الحدیث :  ۱۹۵۲، ج۲، ص۲۰۳، بألفاظ متقاربۃ۔

[5]    امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے رسالہ :  ’’تَجَلِّي الْیَقِیْنِ بِأَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْنِ‘‘ میں   حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’یا محمد‘‘ پکارنے کے بارے میں   ارشاد فرماتے ہیں  : ’’علماء تصریح فرماتے ہیں  : حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نام لے کر ندا کرنی حرام ہے ، اور واقعی محلِ انصاف ہے جسے اسکا مالک ومولیٰ تبارک وتعالیٰ نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا :  اگر یہ لفظ کسی دعا میں   وارد ہو جو خود نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیم فرمائی جیسے :  دعائے ((یَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ تَوَجَّھْتُ بِکَ إِلٰی رَبِّيْ)) تاہم اسکی جگہ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘، ’’یَانَبِیَّ اللّٰہِ‘‘ چاہئے ، حالانکہ الفاظِ دعا میں   حتی الوُسْع تغییر نہیں   کی جاتی۔‘‘       (’’فتاوی رضویہ‘‘، ج۳۰، ص۱۵۷)

[6]    یعنی عام طور پر یہ طریقہ ہے کہ جب کسی عام معاملہ میں   اسکے متعلقہ امور کی تفصیلات کو مطلقاً بیان کیا گیا ہو توکسی خاص معاملہ میں   ان تفصیلات کو دوبارہ ذکر کرنے کی حاجت نہیں   رہتی۔

[7]    پاک ہے وہ ذات کہ اسی کیلئے عزت کا لباس ہے اور جس نے عزت کے ساتھ کلام فرمایا، پاک ہے وہ ذات جس نے بزرگی کے ساتھ احسان فرمایا اور اسی کے ساتھ کرم فرمایا، پاک ہے وہ ذات کہ جس کا علم کائنات کی ساری اشیاء کو گھیرے ہوئے ہے ، پاک ہے وہ ذات اوراسی کیلئے بزرگی ہے ، پاکی ہے اسے کہ صاحبِ فضل واحسان ہے ، پاکی ہے اسے کہ صاحبِ عزت وکرم ہے ، پاکی ہے اسے کہ صاحبِ قدرت وغنا اور انعام فرمانے والا ہے ، الٰہی! میں   تجھ سے تیرے عرش کی دائمی عزت کے وسیلے سے اور تیری کتاب یعنی قرآن پاک جو کہ رحمت کا مُنتَہاہے اس کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں   اور تیرے اسم اعظم اور تیری اعلیٰ بزرگی اور تیرے سب کلماتِ تامہ کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں   کہ جن سے کوئی نیکو کار اور کوئی عصیاں   شِعار ذرہ برابر انحراف نہیں   کر سکتا کہ تو اپنے محبوب محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر درود بھیج۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن