دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

وہ بھی بحال مخالَطت زائد ہوتے ہیں   اور صحبت ِعوام قلب کے لئے تو بہت ہی خطرناک ہے ، مگر بضرورتِ شرعیہ جیسے مفتیٔ شرع وقاضیٔ حق ومدرِّسِ دین وواعظِ ہُدیٰ اور غیر مالدار کے طُرُقِ کسب (یعنی :  غیر مالدار کا معاشی ضروریات کے مختلف طریقے وذرائع اپنانا)تجارت ، زراعت ، نوکری ، مزدوری ہیں   اوران سب میں   مخالَطت ناس کی حاجت اور اِصلاحِ نفس کے لئے عدمِ فراغت ہے اور تصحیحِ فرائض واجتنابِ مُحَرَّمات اَہم ضروریاتِ دینیّہ سے ہے اور ضرورتِ دینی کے وقت سوال حلال، یہ معنی ہیں   انکے اذن اور حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہٗ کے ارشاد ریاضت نفس کے ، نہ وہ جو آج کل کے مڑچرے جوگیوں   (شعبدہ بازوں  )نے اختیار کیا ہے کہ اچھے خاصے جوان تندرست، اور بھیک مانگنے کا پیشہ اور اصلاحِ قلب درکار، اصلاح ظاہر سے برکنار اور منع کیجئے تو شرع مطہر سے معارضے کو تیار، کہ بھیک مانگنا بھی رِیاض(یعنی مجاہدہ) ہے ، والکاسب حبیب اللّٰہ (یعنی :  کسبِ حلال کیلئے کوشش کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہے ) یہ حرام قطعی ہے اور شرع کا مقابلہ اور سخت تر۔ ولا حول ولا قوّۃ إلا باللّٰہ العليّ العظیم۔)

          دوسرا فائدہ :   اپنی قدر وقیمت پر متنبہ ہونا۔ جب شبلی مرید ہوئے خواجہ جنیدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  ’’اے ابو بکر! تو ملک شام کا امیر الامراء تھا، جب تک بازار میں   بھیک نہ مانگے گا دماغ تیرا نَخْوَت سے خالی نہ ہوگا (یعنی تیرے دماغ سے گھمنڈ وغرور نہ جائے گا) اور اپنی قدر وقیمت نہ جانے گا۔‘‘ ابتداء ابتداء میں   تو لوگوں   نے رئیس جان کر بہت کچھ دیا آخر رفتہ رفتہ ہر روز بازار انکا سُست ہوتا جاتا، ایک سال کے بعد یہ نوبت پہنچی کہ صبح سے شام تک پھرتے کوئی کچھ نہ دیتا، پیر سے حال عرض کی، فرمایا :  قدر تیری یہ ہے کہ کوئی تجھے کوڑی کو نہیں   پوچھتا۔([1])

          قال الرضاء :  سوال بے ضرورتِ شرعیہ اپنے لئے حرام ہے اور مسکین وحاجت مند مسلمانوں   کے لئے مانگنا حلال بلکہ سنت سے ثابت ہے ۔ اور جب مسؤلین پر ظاہر نہ کیا جائے کہ سوال دوسروں   کے لیے ہے تو ضرور وہ اپنے ہی لیے سوال جانیں   گے اور جو حالت نفس پر وہاں   طاری ہوتی یہاں   بھی ہوگی۔ خصوصا ًبازار میں   دکان دکان گدیہ گروں   کی طرح مانگتے پھرنا، خصوصاً جب کہ روزانہ ایک مدت دراز تک ہو کہ اب تو اگر یہ کہہ کر بھی ہوتا کہ اوروں   کے لیے مانگتے ہیں   جب بھی شُدہ شُدہ (آہستہ آہستہ) وہی نوبت پہنچتی کہ کوئی کچھ نہ دیتا، مگر اس کے عدم ذکر میں   کسرِ نَخْوَت بدرجہ اَتم ہے ۔([2])

            اس دوسرے طریقۂ سوال میں   جب کہ خود ضرورتِ شرعیہ نہ ہو، حضرات عُلِیّہ یہی صورت ملحوظ رکھتے ہونگے کہ سوال کیا اور خلق سے چھپ کر خفیہ تصدق فرما دیا، مساکین کی حاجت روائی ہوئی،  مخلوق نے تصدق کی فضیلت پائی، خود علاوہ تصدق اس تکبر شکنی کی دولت ملی۔ ھذا ما عندي، واللّٰہ تعالٰی أعلم۔([3]))

          تیسرا فائدہ :  رعایتِ ادب کہ مال سب خدا کا ہے ، خلق صرف وکیل ونگہبان ہے ، خود بادشاہ سے حقیر چیز مانگنا اور گاہ بیگاہ (وقت بے وقت) اسی سے ہر قسم کا سوال کرنا زیب نہیں   دیتا۔

            یحییٰ رازی نے اپنی ماں   سے کچھ مانگا، کہا :  خدا سے مانگ، فرمایا :  اے مادرِ مہربان! مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی چیز خدا تعالیٰ سے مانگوں   اور جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ بھی خدائے تعالیٰ کا جانتا ہوں  ، یعنی :  یہ سوال بھی در حقیقت خدا سے ہے ، مگر ایسی حقیر چیز بلا واسطہ اس سے مانگنا نہیں   چاہتا۔ واللّٰہ تعالٰی أعلم۔ (اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر جاننے والاہے )۔

          قال الرضاء :  اس کے متعلق بعض کلام مسئلہ ترکِ دعا میں   مَسطُور([4]) اور اصل یہ ہے کہ جب حاجت متحقَّق اور طُرُقِ کسب کی وہ حالت کہ اوپر مذکور، اور ترکِ مطلق سبب کی اجازت نہیں   تو رُجُوْع إِلَی السُّؤَال آپ ہی ضرور۔ مگر لازم ہے کہ خَلق پر نظرِ ظاہر ہو اور حقیقتِ نظر مالک ومُعطِیِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ  پر مقصور، ایسی حالت میں   محض ابطالِ اسباب چاہ کر یا اللہ ! ٹکڑا دے ، یا اللہ ! پیسہ دے ، کہتا رہنا آپ ہی ادبِ شرع سے دور،  ھذا ما ظہر لي، فافھم، واللّٰہ تعالٰی أعلم۔پھر یہ بھی وہاں   ہے جہاں   مانگنا سوال ہو، محلِّ انبساطِ تام(یعنی ایسی جگہ جہاں   کے رہنے والوں   میں   آپس میں  بے تکلفی ہو) میں   کہ باہم اتحاد ہو ایک دوسرے کے مال میں   ایسی مُغایَرت (یعنی ایسا امتیاز)نہ ہو کہ مانگنے کو ذلت وننگ وعار یا مانگنا سمجھیں  ([5]) جیسے :  ماں  ، باپ، اولاد، زوج وزوجہ کہ اسی عدم مغایرت کے باعث اِنہیں   دینے سے شرعاً زکوٰۃ ادا نہیں   ہوتی کہ یہ دینا نہ ہوا بلکہ گویا اپنے صندوقچے کے ایک خانے سے نکال کر دوسرے میں   رکھ دینا۔ تو وہاں   متعارفِ انبساط کا عملدرآمد اصلاً سوال نُہِيَ عَنْہُ میں   داخل نہیں  ([6]) بلکہ حدیث شریف میں   وارد ہے اور فقہ بھی اس کے جواز پر شاہد ہے ۔ ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں   ’’ملتقط‘‘ سے ہے :   عن الثوري رحمہ اللّٰہ تعالٰی :  أنّہ سئل عن الاستمداد من خبز غیرہ قال :  ھو مال غیرہ فلیستأذنہ ولا أحبّ لہ أن یفعل من غیر استئذان ولا إشارۃ ومھما أمکن لا یستأذن؛ لأنّہ سؤال إلّا أن یکون بینھما انبساط۔([7])

            مریدوں   سے شیخ کی فرمائش اسی اصل کے نیچے آسکتی ہے ۔ جبکہ انبساط متحقق ہو اور حالت عدمِ بار پر ناطق۔([8]) ورنہ سوال سے بدتر ہے کہ سائل مجبور نہیں   کر سکتا اور یہاں   



[1]    ’’کشف المحجوب‘‘،  باب آدابھم فی السؤال و ترکہ، ص۴۰۵-۴۰۶۔

[2]    یعنی :  لوگوں   کو یہ نہ بتاتے ہوئے مانگنا کہ دوسرے مسکینوں   کیلئے مانگتاہوں   بلکہ بظاہر اپنے لئے ہی مانگتا ہو ، اس طرح مانگنے میں   تکبر کی کاٹ زیادہ ہوتی ہے ۔

[3]    یہ کلام میرے نزدیک ہے اور سب سے بہتر علم تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کوہے ۔

[4]    اس کلام کو جاننے کیلئے فصل ہفتم کے مسئلہ ۵نیز فصل دہم کا مطالعہ فرمائیے ۔

[5]    یعنی دو شخصوں   کے مابین ایسے خوشگوار تعلقات اور بے تکلفی ہوکہ ایک دوسرے سے کوئی چیز مانگنے کو اپنی ذلت وبے عزتی تصور نہ کریں   ۔

[6]    یعنی گھر کے افراد مثلاً ماں   باپ بیوی وغیرہ سے مانگنا اس سوال میں   داخل نہیں   جس کی شرع میں   ممانعت وارد ہوئی ۔

[7]    ’’سفیان ثوری سے کسی نے دوسرے کی روٹی سے نفع اٹھانے کے متعلق سوال کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا کہ وہ تو دوسرے کا مال ہے اس سے اجازت لینی چاہیے اور کوئی شخص کسی سے صراحۃً، اشارۃً یا جہاں   جہاں   خدشہ ہو کہ یہ اس سے اجازت لئے بغیر اسکے مال سے نفع اٹھائے گا تو میں   اُس شخص کے اس طرح کے فعل کو پسند نہیں   رکھتا ہاں  ! جبکہ ان دونوں   کے ما بین انبساط (بے تکلفی) ہو تو جائز ہے ۔‘‘

  ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘ ، کتاب الکراھیۃ ، الباب الحادي عشر، ج۵، ص۳۴۱۔

[8]    شیخ کا اپنے مریدوں   سے کوئی چیز مانگنا جبکہ مرید اور شیخ کے درمیان انبساط پایاجائے اور مرید کی حالت یہ بتارہی ہو کہ اس پر بوجھ نہیں   ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن