دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

جائے ۔([1])

          قال الرضاء :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  پر توکُّل فرضِ عین ہے :

            قال اللّٰہ تعالٰی :  {وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۳)}

            ’’اللہ ہی پر توکل کرو اگر مسلمان ہو۔‘‘(پ۶، المائدۃ :  ۲۳)

            اور فرماتا ہے :  { اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ(۸۴)}

            ’’اگر تم خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو۔‘‘ (پ۱۱، یونس :  ۸۴)

            خصوصاً تَصَوُّف کہ اِنْقِطَاع عَنِ الْغَیْرِ (یعنی :  غیرسے لاتعلق ہو جانے ) بلکہ فَنَا عَنِ الْغَیْر(یعنی :  دوسروں   کی خبر ہی نہ ہونے ) بلکہ نَفیِ مُطْلَق غَیرہے (یہاں   تک کہ اپنی اورغیرکی ذات سے بالکل بے نیاز ہوجانے کا نام ہے ) اس میں   نامۂ توکُّل کیونکر طے کرنے کا حکم ہو سکتا ہے ۔ ہاں  ! توکل قلب سے طرحِ اسباب (یعنی :  نئے اسباب کی تلاش) ہے نہ کہ عمل میں   ترکِ اسباب([2])، خود حکم فرماتا ہے : { فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ }

            ’’زمین میں   پھیل جاؤ اور اس کا فضل ڈھونڈو۔‘‘(پ۲۸، الجمعۃ :  ۱۰)

            ولہٰذا جب ایک صحابی نے عرض کی :  یا رسول اللہ ! اپنا ناقہ چھوڑ دوں   اور خدا پر توکل کروں  ؟ فرمایا :  بلکہ ((قَیِّدْ وَتَوَکَّلْ))۔

            ’’اس کا پاؤں   باندھ دے اور توکل کر‘‘ یعنی :  خدا پر بھروسہ کر۔

            رواہ البیھقي في ’’الشعب‘‘ بسند جیّد عن عمرو بن أُمیّۃ الضَّمْرِيِّ والترمذي بلفظ : ((اعقلھا وتوکّل)) عن أنس رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما۔ ([3])

ع  برتوکل پائے اشتر را نبید([4])

            عالَم اسباب میں   رہ کر ترکِ اسبا ب گویا اِبطال حکمتِ الٰہیہ ہے ۔

{ كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖؕ-{

            ’’جیسے کوئی ہتھیلیاں   پانی کی طرف پھیلائے ہوئے کہ وہ اس کے منہ میں   پہنچ جائے اور وہ پہنچنے والا نہیں۔‘‘(پ۱۳، الرعد :  ۱۴)

            سیدنا بایزید بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسی کو منع فرمایا، رہا اذنِ سوال۔

          أقول :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے جس طرح کچھ فرائض ومُحَرَّمات ہیں   جیسے :  نماز وزِنا، ویسے ہی قلب پر بھی ہیں  ، اور ان کی فرضیت وحرمت اسی طرح یقینی قطعی ضروریاتِ دین سے ہے جیسے صبر وشکر وتواضع واخلاص کی فرضیت، جزع (بے صبری اور واویلا پن) وکفران وتکبر ورِیاکی حرمت۔

            عوام اگر بہت متوجہ تقوی وطاعت ہوئے انہیں   فرائض ومحرمات بدنیہ پر قناعت کرتے اور فرائض ومحرمات قلبیّہ سے اصلا ًکام نہیں   رکھتے ، پڑھیں   نماز اور کریں   تکبر اور رَب عَزَّ وَجَلَّ  فرمائے :  

{ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ(۶۰)}

’’کیا جہنم میں   ٹھکانا نہیں   متکبروں   کا۔‘‘(پ۲۴، الزمر :  ۶۰)

            اربابِ قلب بشدّت متوجہ بقلب ہوتے ہیں  ، ظاہری باطنی دونوں   فرائض بجا لاتے اور دونوں   کے تمام محرَّمات سے احتراز فرماتے ہیں  ، پھر ظاہری صلاح سہل ہے (یعنی :  اعمال ظاہر ی کو درست کر لینا آسان ہے ) اور باطنی اس سے بہت مشکل کہ جوارح (بدن کے ظاہری اعضاء) کو نیک کام میں   لگانا، بد سے بچانا، ایک ہمت کا کام ہے اور قلب سے رذائل دھو دینا، فضائل سے آراستہ کر لینا، کارے دارد (اسکے لئے اہم کام ہے ) یہ منہ کا نوالہ نہیں   بلکہ بدن بھی تابعِ قلب ہے ۔

          رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں   : ((إنّ في الجسد مضغۃ إذا صلحت صلُح الجسد کلّہ وإذا فسدت فسد الجسد کلّہ ألا وھي القلب))۔

            ’’بیشک بدن میں   ایک گوشت پارہ ہے وہ سنور جائے تو سب بدن بن جائے اور جب وہ بگڑ جائے تو سب بدن خراب ہو جائے ، سنتے ہو! وہ دل ہے ۔‘‘([5])

            خلق کی کثرتِ مخالَطت (یعنی :  لوگوں   سے زیادہ میل جول وغیرہ) اعمالِ ظاہر میں   بھی بہت مُخِل ہوتی ہے ، ہزاروں   گناہ جسمانی تو وہ ہیں   کہ تنہائی میں   ہو ہی نہیں   سکتے اور جو ہو سکتے ہیں   



[1]     ’’کشف المحجوب‘‘، باب آدابہم في السؤال وترکہ، ص۴۰۵۔

[2]    یعنی :  توکل کے معنی یہ نہیں   کہ اسباب کو ترک کر کے بیٹھا رہے اور ہاتھ پیر دھرے کہے :  اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ مجھے بغیر کوشش کے بھی روزی دیگا۔بلا شبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادرِ مطلق ہے اور ایسا کرنا اس کیلئے کچھ مشکل نہیں   مگر بندے کی مذکورہ سوچ کے پیش نظر کوشش نہ کرتے ہوئے بیٹھ جانا، اپنے رب کریم عَزَّ وَجَلَّ کی مشیت کے خلاف ہے کہ عالَم ِاسباب یعنی :  دنیا میں   رہ کر ترک اسباب گویا حکمت الٰہیہ کو باطل کرنے کے مترادف ہے ۔ ہاں  ! توکل کے معنی یہ ہیں   کہ ان اسباب کو اصل نہ سمجھے اور نہ ہی ان پر بھروسہ کرے بلکہ اسی پر بھروسہ کرے کہ جو اِن اسباب کا پیدا کرنے والا اور مسبِّبِ حقیقی ہے ۔

[3]     اس حدیث مبارکہ کو بیہقی نے ’’ شعب الایمان‘‘ میں   حضرت عمرو بن امیہ ضمری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سندِ جید کے ساتھ روایت کیا اور ترمذی نے ’’اعقلھا وتوکّل‘‘کے الفاظ کے ساتھ اس کو حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔

’’شعب الإیمان‘‘، باب التوکل والتسلیم، الحدیث :  ۱۲۱۱، ج۲، ص۸۰۔

 و’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الزہد، الحدیث :  ۲۵۲۵، ج۴، ص۲۳۲۔

[4]    یعنی اونٹ کے پاؤں   پر توکل نہ کرو۔

[5]    ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الإیمان، باب فضل من استبرأ لدینہ، الحدیث : ۵۲، ج۱، ص۳۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن