30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تحت ثابت ہو وہ بقدر ضرورت ہی جائز رہتی ہے ) نہ کہ بِلا حاجت یا خزانہ بھرنے کے لیے ، پھر آگے مدار نیّت پر ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کہ { عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۱۳)}([1]) ہے اس کی حالت جانتا ہے کہ اصل مقصود ہدایت ہے ، نہ(کہ) جمع مال، جب توا س مجبوری کے فتوے سے نفع پا سکتا ہے ورنہ دانائے سِرّ واَخفیٰ(ہر پوشیدہ سے پوشیدہ کو جاننے والے رب عَزَّ وَجَلَّ ) کے حضور جھوٹا حیلہ نہ چلے گا اور دنیا خَر(بے وقوف ) اور دین فروش ہی نام پائے گا، والعیاذباللہ تعالیٰ ۔
اُنیسویں شرط : کسی جھوٹے حیلے سے دھوکا نہ دے ۔ مثلاً : مسجد بنوانی ہے ، مدرسے کو درکار ہے وغیرہ وغیرہ کہ اگر سرے سے بے اصل تھا تو جھوٹ ہوا اور اگر مسجد ومدرسہ واقعی تھے ان کے نام سے لے کر خود کھایا تو خیانت ہوئی اور ہر حال میں فریب بھی ہوا اور جو ملا مالِ حرام ہوا اور ایک سخت ناپاک تر دھوکا وہ ہے کہ بعض احمق جاہل خدا ناترس مالِ حرام حاصل کرنے کو ع ’’غلہ تا ارزاں شود امسال سید میشوم‘‘([2]) پر عمل کرتے ہیں ، ایسے گناہ کبیرہ سے دور بھاگے ۔
صحیح حدیث شریف میں حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’جو نسب میں اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنے کو نسبت کرے اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور آدمیوں ، سب کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل‘‘۔([3])
اور بعض سُفَہائے بے عقل جن کا باپ شیخ یا اور قوم سے ہے ، صرف ماں کے سیدانی ہونے پر سید بن بیٹھتے ہیں اور اس بناء پر اپنے آپ کو سیّد کہتے کہلاتے ہیں یہ بھی محض جہالت ومعصیت اور وہی دوسرے باپ کو اپنا باپ بنانا ہے ۔ شرع مطہر میں نسب باپ سے لیا جاتا ہے نہ(کہ) ماں سے ۔ قال اللّٰہ تعالٰی : {وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ} ([4])۔
امام خیر الدین رملی نے ’’فتاویٰ خیریہ‘‘ پھر علامہ شامی نے ’’ردّ المحتار‘‘ اور دیگر علماء نے اپنے اَسفار میں تصریح فرمائی کہ جس کی ماں سیدانی ہو اگرچہ اس وجہ سے وہ ایک فضیلت رکھتا ہے مگر زنہار (ہرگز) سید نہ ہو جائے گا۔([5])
علامہ سیدی عبدالغنی نابلسی قُدِّسَ سِرُّہُ الْقُدْسِيُّ نے ’’حدیقۂ ندیہ‘‘میں ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص اگر اپنے آپ کو سید کہے تو اسی وعید میں داخل ہے کہ اس پر خدا وملائکہ وناس کی لعنت اور اس کی عبادتیں مردود اور اَکارت۔([6]) والعِیاذ باللّٰہ ربّ العالمین۔
بیسویں شرط : اگر واقعی سید یا شیخ، علوی یا عباسی غرض ہاشمی ہے تو مال زکوٰۃ لینے کے لیے اپنا ہاشمی ہونا نہ چھپائے کہ دینے والے نے انجانی میں دے دیا تو اسے تو لینا حلال نہ ہوگا اور اگر چھپانے کے لیے اپنی دوسری قوم ظاہر کی تو اسی (مذکورہ بالا)وعید ِشدیدکا مَورِد (مصداق)ہے ، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔)
سوال : سابق مذکور ہوا کہ ترک سوا ل بہر حال اولیٰ ہے (یعنی بہتر ہے ) حالانکہ بعض اکابر دین ومشائخ طریقت نے سوال کیا ہے ، حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری اپنے ’’مکتوبات‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’شیخ ابو سعید خراز فاقے کے وقت لوگوں سے سوال کرتے ہیں ۔اور خواجہ ابو حفص حداد مغرب وعشاء کے بیچ میں بقدر ضرورت ایک دو دروازے سے مانگ لیتے ۔
خواجہ سفیان ثوری بھی سفر میں سوال کرتے اور خواجہ ابراہیم ادھم جبکہ جامع بصرہ میں معتکف تھے تین دن بعد افطار فرماتے ، اُس روز سوال کرتے ۔‘‘([7])
قال الرضاء : ان حضرات عُلِیّہ قُدِّسَتْ أَسْرَارُہُمْ کے یہ احوال علامہ مناوی نے بھی ’’تیسیر شرح جامع صغیر‘‘ میں زیر حدیث : ((من سأل من غیر فقر فإنَّما یسأل الجمر)) ([8]) ذکر کئے اور حضرت ابو سعید خراز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نسبت کہا : ہنگامِ فاقہ ہاتھ پھیلا کر ’’ثم شيء للّٰہ‘‘ فرماتے ۔([9]))
جواب : مشائخ عظام واولیائے کرام کبھی مفضول کو اختیار فرماتے ہیں ، ان کے تمام اعمال وافعال وانواع احوال میں اَغراض عالیہ ہیں ۔ بزرگوں نے وقتِ اِباحتِ شرعیہ سوال میں تین فائدے تجویز کئے ہیں ، بنظر ان فوائد کے کبھی سوال کیا اور اپنے مریدوں کو اس کا اذن دیا ہے ۔
پہلا فائدہ : ریاضتِ نفس۔
خواجہ شقیق بلخی کے ایک مرید خواجہ بایزید کے پاس آئے ، آپ نے ان کے پیر کا حال دریافت فرمایا : عرض کی : خلق سے فارغ اور خدا پر متوکل ہو کر بیٹھ گئے ہیں ، فرمایا : میری طرف سے شقیق سے کہنا دو۲ روٹیوں کے واسطے خدا کو نہ آزماؤ، نامہ توکُّل کا طے کر کے بھوک کے وقت بھیک مانگ لیا کرو، کہیں اس فعل کی شامت سے وہ ملک زمین میں نہ دھنس
[1] ترجمۂ کنز الایمان : ’’دلوں کی جانتا ہے ۔‘‘(پ۲۹، الملک : ۱۳)
[2] یعنی اس سال اگر غلہ سستا ہوجائے تو سردار ہوجائیں ۔
[3] ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ إلخ، الحدیث : ۱۳۷۰، ص۷۱۲۔
[4] ترجمۂ کنزالایمان : ’’اورجس کا بچہ ہے ۔‘‘ (پ۲، البقرۃ : ۲۳۳)
اس آیت کریمہ کے تحت صدر الافاضل مولانانعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی ’’خزائن العرفان ‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’یعنی والد، اس اندازِ بیان سے معلوم ہوا کہ نسب باپ کی طرف رجوع کرتاہے ۔ ‘‘
[5] ’’ردّ المحتار‘‘، کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ، ج۴، ص۱۹۸۔
[6] ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘، النوع الرابع من الأنواع الستین الکذب، ج۲، ص۲۰۹-۲۱۰۔
[7] ’’قوت القلوب‘‘، کتاب حکم المسافر والمقاصد في الأسفار، ج۲، ص۳۹۹۔
و’’البریقۃ المحمودیۃ‘‘، الثامن والعشرون حبّ المال للحرام، ج۴، ص۵۷۔ (شاملہ)
[8] جس نے بغیر فقر کے مانگا تو اس نے انگارہ مانگا۔
[9] ’’التیسیر‘‘، حرف المیم، ج۲، ص۸۱۶۔(شاملہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع