30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قال الرضاء : یہ حاجاتِ ضروریہ عامہ ہیں جن کی طرف سب کو احتیاج ہے اور اَہل وعیال والے کو ان کے نفقہ کی بھی حاجت ہے ، اگر بی بی یا غیر مالدار بچوں یا حاجت مند ماں باپ اور ان کے مثل ان کے لئے جن کا نفقہ شرعاً اس پر واجب ہے قدرِ کفایت نہ پاس ہے ، نہ وقتِ حاجت تک کسب سے حاصل کر سکتا ہے تو ان کے لئے بھی سوال جائز بلکہ واجب ہے ۔
فإنّ ما لا یحصل الواجب إلّا بہ یکون واجباً کمثلہ في ’’ردّ المحتار‘‘ عن ’’الذخیرۃ‘‘ : إن قدر علی الکسب تفرض النفقۃ علیہ فیکتسب وینفق علیہم وإن عجز؛ لکونہ زمناً أومقعداً یتکفف الناس وینفق علیہم کذا في نَفَقات الخَصَّاف۔([1])
غرض اصل کُلِّی وہی ہے کہ جو حاجت وضرورت واقعی وشرعی ہو اور طریقۂ تحصیل سِوا سوال کے دوسرا نہ ہو (مانگنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو تو) اس کے لیے بقدرِ حاجت، تاوقتِ حاجت سوال جائز ہے ورنہ حرام۔
آج کل اکثر لوگ بیٹی کے بیاہ کے لیے بھیک مانگتے ہیں اور اس سے مقصود رسومِ مُرَوَّجۂ ہند کا پورا کرنا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ رسمیں اصلاً حاجتِ شرعیہ نہیں تو ان کے لئے سوال حلال نہیں ہو سکتا، ہاں مسلمانوں کو خود مناسب ہے کہ حاجت مند بیٹی والے کی اِعانت کریں ۔ حدیث میں اس کی مدد کرنے ، اسے قرض دینے کی طرف ارشاد ہوا ہے ۔
بعضے بھیک مانگتے ہیں کہ حج کو جائیں گے ، یہ بھی حرام اورانہیں دینا بھی حرام، ما حرم أخذہ حرم إعطاء ہ (جس شئے کا لینا حرام ، اس کا دینا بھی حرام )فقیر کو حج، نفل ہے اور سوال حرام، نفل کے لئے حرام اختیار کرنا کس نے مانا!)
چھٹی شرط : اسے تنعُّم وتَجَمُّلِ نفس وعیال میں صرف نہ کرے بلکہ وسیلۂ عبادت ومباح میں خرچ کرے ۔([2])
قال الرضاء : مال غَادی ورَائِح ہے (یعنی : مال، بادل وہوا کی مانند آنی جانی شئے ہے ) صبح آتا اور شام جاتا شام جاتا اور صبح آتا ہے ۔ نانِ شبینہ کے محتاج (مفلس اور لاچار لوگ) آنکھوں دیکھتے دیکھتے صاحبانِ تخت وتاج ہوگئے اب اگر کسی نے ضرورت کے لئے سوال سے مال حاصل کیا ابھی خرچ نہ ہوا تھا کہ مال حلال کسی دوسری وجہ سے مل گیاتو اسے اگرچہ اس مالِ سوال کا واپس دینا شرعا ضرور نہیں کہ اس وقت محتاج ہی تھا مگر اولیٰ یہی ہے کہ واپس کر دے تاکہ ذلتِ سوال کی تلافی اور شکر واظہارِ نعمتِ الٰہی ہو پھر بھی اگر صَرف کرے تو اسی حاجت وضرورت ہی کے امور میں کہ جس کے لیے مانگا تھا اس کے خلاف نہ ہو۔
ھذا ما ظھر في شرح ھذا الکلام الشریف، فافھم، واللّٰہ تعالٰی أعلم) ([3])
ساتویں شرط : مُنعِم حقیقی کا شکر بجا لائے اور جس نے دیا اس کا بھی شکر ادا کرے کہ واسطۂ وصولِ نعمت ہے اور اس کے حق میں دعا کرے ۔([4])
حدیث شریف میں ہے : ’’جو بھلائی کرے اسکوبدلا دو، ، نہ ہوسکے تو اس کیلئے دعاکرو۔‘‘([5])
مگر صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ اگر فقیر اس کے سامنے اسے دعا دے تو وہی دعا فقیرکو دیدے تاکہ دعا کا عوض دعا ہو جاوے اور صدقہ بے عوض رہے اس کے عوض ثوابِ آخرت ملے ۔
آٹھویں شرط : کسی سے بار بار سوال نہ کرے کہ اس حرکت سے وہ تنگ ہوگا وہ اس کو حریص سمجھے گا۔
نویں شرط : اگر دینے والا تنگ ہو کر یا لوگوں سے شرما کر یا مالِ مُشْتَبَہ یا حرام اس کو دے ، قبول نہ کرے کہ اگر خدا کے واسطے ایسے مال سے اجتناب کرے گا، خدا اپنے فضل وکرم سے اسے بہتر عنایت فرمائے گا : { وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-}([6])
دسویں شرط : لِوَجْہِ اللّٰہ سوال نہ کرے یعنی یہ کلمہ کہ خدا کے واسطے مجھے کچھ دو، نہ کہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’جو شخص لِوَجْہِ اللّٰہ سوال کرے ، ملعون ہے ۔‘‘([7])
ایک بزرگ کوفے کے بازار میں چڑیا ہاتھ پر بٹھائے کہتے تھے : اس چڑیا کے لیے مجھے کچھ دو، کسی نے کہا : یہ کیا کہتے ہو؟ فرمایا : دنیائے دُوں (یعنی : بے قیمت وحقیر دنیا) کے لیے خدا کا واسطہ نہیں لاسکتا اس کا شفیع (سفارشی) بھی حقیر چاہیے ۔([8])
[1] جو شخص واجب کے حصول پر سوال کئے بغیر قدرت نہیں رکھتا اس پر سوال کرنا واجب ہے ، اسی کی مثل ’’ردالمحتار‘‘ میں ’’ذخیرہ‘‘ سے منقول کہ اگرکماکر ان کا نفقہ جو اس شخص پر واجب ہے ، پورا کرسکتاہے تو کمائی کرکے ان کا نفقہ ادا کرے ، اوراگرلنجا یا اپاہج ہونے کے سبب نہیں کما سکتا تو لوگوں سے مانگ کر ان کا خرچہ پورا کرے جن کا نفقہ اس پر واجب ہے اسی طرح خصاف کے باب النفقہ میں بھی مذکور ہے ۔
’’ردّ المحتار‘‘، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۴۶۔
[2] یعنی جو مال مانگ کر حاصل ہوا اُسے اپنے اوراپنے اہل وعیال کے عیش وعشرت اوربناؤ سنگھار میں خرچ نہ کرے بلکہ اسے عبادت اورمباح کاموں کا ذریعہ بنائے ۔
[3] یہ کلام ہے جو مُصَنِّف عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کے اُس کلام کی تشریح میں مجھ پر ظاہر ہوا، پس اسے سمجھو اور سب سے بہتر علم اللہ تعالیٰ کو ہے ۔
[4] یعنی : پروردگارِ عالم عَزَّ وَجَلَّ کا شکر بجالائے کہ درحقیقت سبھی نعمتیں ملتی تو اللہ رب العزت ہی کی طرف سے ہیں لیکن چونکہ یہ شخص اس نعمتِ خداوندی کے پہنچنے کا ذریعہ بنا اس لئے اسکا بھی شکریہ ادا کرے اور اسکے حق میں دعا بھی کرے ۔
[5] ’’السنن الکبری‘‘، کتاب الزکاۃ، باب عطیۃ من سأل باللّٰہ عزوجل، الحدیث : ۷۸۹۰، ج۴، ص۳۳۴۔
[6] ترجمۂ کنز الایمان : ’’اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کیلئے نجات کی راہ نکال دے گا اوراُسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔‘‘ (پ۲۸، الطلاق : ۲-۳)
[7] ’’مجمع الزوائد‘‘، کتاب الزکاۃ، باب فیمن سأل بوجہ اللّٰہ عزوجل، الحدیث : ۴۵۶۸-۴۵۶۹، ج۳، ص۲۷۲۔
[8] ’’کشف المحجوب‘‘ (فارسی)، باب آدابھم في السؤال وترکہ ، ص ۴۰۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع