30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی واسطے کہتے ہیں : بعض وقت دعااور بعض وقت اس کا ترک اولیٰ ہے اور صفت اس کی باشارۂ قلب اسی وقت معلوم ہوتی ہے ۔
قال الرضاء : مگر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے توارُدِ احوال حالات ِ اہل تلوین([1]) سے پاک ومنزہ ہیں ، وہ سردارانِ اصحابِ تمکین ہیں اور احوالِ متعاقبہ ادھر کی تجلیاتِ گونا گون کے آئینہ ہیں ، وہاں جو کچھ ہے افضل واکمل واحسن واجمل احوال ہے خصوصاً سید الانبیاءعلیہ وعلیہم أفضل الصلاۃ والثناء۔
قال تعالٰی : { وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ(۴)}
’’جو آن آتی ہے تیرے لیے گزشتہ آن سے افضل واعلیٰ ہے ۔‘‘ (پ۳۰، الضحٰی : ۴) فاحفظ واستقم([2]))
تیسری وجہ : کہ اَصَحّ وافضل وجوہ ہے ([3])یہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مقامِ بَقاکہ اس مقامِ فنا سے ہزاروں درجے ارفع واعلیٰ ہے ، حاصل تھا، اس مقام میں دعا وسوال وتَوَجُّہ بِخَلْق وتَمَیُّز بَیْنَ الصَّلَاح والفَسَاد(یعنی مخلوق کی طرف توجہ اور بھلائی اور برائی کے ما بین فرق کرنا) جائز بلکہ لازم ہے اور شفاعت وعذر خواہی اپنے مُتعلِّقوں اور متوسِّلوں کی طرف سے واجب۔
قال الرضاء : قال اللّٰہ تعالٰی : { وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-}([4])۔
حضورپُرنورسیدنا غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسی طرف اشارہ فرمایا :
فالرجل ھو النازع للقدر لا الموافق لہ کما تقدم۔([5])
آخر اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو نہ سنا، کہ اپنے خلیلِ جلیل علیہ الصلاۃ والتسلیم کی نسبت کیا فرماتا ہے :
{ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴) اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ(۷۵)})([6])
جواب ثانی : اس بیان سے عدمِ جوازِ دعا وسوال نہیں سمجھا جاتاا س لئے کہ دعا بھی مراد محبوب ہے سائلین پر تقاضا ہے : { اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-}([7]) مولیٰ چاہتاہے ہمارا بندہ ہمارے حضور التجاء لائے اور عِجزوبیچارگی اپنی ظاہر کرے ۔
حدیث میں ہے : خدائے تعالیٰ پچھلی رات کو آسمان دنیا پر تجلّیٔ خاص کرتا اور صبح تک ارشاد فرماتا ہے :
’’کون ہے جو مجھ کو پکارے میں اسے جواب دوں ،
کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں قبول کروں ۔‘‘([8])
حدیث قدسی میں ہے : ’’اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، مگر جسے میں کھلاؤں ، مجھ سے کھانا مانگو، میں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر جسے میں پہناؤں ، مجھ سے کپڑا مانگو، میں کپڑا دوں گا۔‘‘([9])
سروَرِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’جس کو دعا کی توفیق دی جائے دروازے بِہِشت کے اس کے لیے کھولے جائیں ۔‘‘ ([10])
دوسری حدیث میں ہے : ’’جو مسلمان کسی دعا میں خدائے تعالیٰ کی طرف اچھی طرح متوجہ ہوتا ہے ، خدائے تعالیٰ اس کی دعا اسے عطا کرتا ہے یا دنیا میں دیتا ہے یا آخرت کے لیے ذخیرہ فرماتا ہے ۔‘‘ ([11])
[1] اہل تلوین سے مراد وہ سالک ہے جو ایک حال سے دوسرے حال یا ایک وصف سے دوسرے وصف کی جانب منتقل ہو اسے صوفیائے کرام کی اصطلاح میں اہل تلوین کہا جاتاہے یہ اربابِ احوال کی صفت ہے ۔
اہل تمکین : اہل حقیقت کی صفت جو مقام استقامت وثبات ہے ، یہ اہلِ حقائق کی صفت ہے ۔(یہ تلوین سے اعلیٰ ہے )۔ (’’الرسالۃ القشیریۃ‘‘، ص۱۱۴)
[2] اسے یاد کر لیجئے اور اسی پر استقامت کے ساتھ جمے رہیے ۔
[3] یعنی مذکورہ اعتراض کا جواب مصنف علام قدس سرہ نے ۳تین طرح سے دیا ان میں سب سے افضل وصحیح تر جواب یہ ہے ۔
[4] ترجمۂ کنز الایمان : ’’اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔‘‘(پ۲۶، محمد : ۱۹)
[5] مَرد وہ ہے جو تقدیرات ِ حق میں حق ہی کی اجازت سے اس کے حضور منازَعت کرے نہ کہ تسلیم۔ جیساکہ صفحہ ۱۸۶پر گزرا۔
[6] ترجمۂ کنز الایمان : ’’پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی، ہم سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ بیشک ابراہیم تحمل والا، بہت آہیں کرنے والا، رجوع لانے والا ہے ۔‘‘ (پ۱۲، ھود : ۷۴-۷۵)
سورۂ ہود کی مذکورہ آیت نمبر ۷۴ کے تحت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ’’خزائن العرفان‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں :
’’یعنی : کلام وسوال کرنے لگا اورحضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کا مُجادَلَہ یہ تھا کہ آپ نے فرشتوں سے فرمایا کہ قوم لوط کی بستیوں میں اگرپچاس ایماندار ہوں توبھی انہیں ہلاک کرو گے ؟ فرشتوں نے کہا : نہیں ، فرمایا : اگر چالیس ہوں ؟ انہوں نے کہا : جب بھی نہیں ، آپ نے فرمایا : اگر تیس ہوں ؟ انہو ں نے کہا : جب بھی نہیں ، آپ اس طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : اگر ایک مرد مسلمان موجود ہو تب ہلاک کردو گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو آپ نے فرمایا : اس میں لوط علیہ السلام ہیں ، اس پرفرشتوں نے کہا : ہمیں معلوم ہے جو وہاں ہیں ، ہم حضرت لوط علیہ السلام کو اورانکے گھر والوں کو بچائیں گے ، سوائے انکی عورت کے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ عذاب میں تاخیر چاہتے تھے تاکہ اس بستی والوں کو کفر ومعاصی سے باز آنے کیلئے ایک فرصت اورمل جائے ، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والتسلیم کی صفت میں ارشاد ہوتاہے ( کہ بے شک ابراہیم تحمل والا، بہت آہیں کرنے والا، رجوع لانے والا ہے )۔‘‘
[7] ترجمۂ کنز الایمان : ’’مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ ‘‘ (پ۲۴، المؤمن : ۶۰)
[8] ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب التطوع، باب أيّ اللیل أفضل، الحدیث : ۱۳۱۵، ج۲، ص۵۱۔
[9] ’’صحیح مسلم‘‘، باب تحریم الظلم، الحدیث : ۶۵۷۷، ص۱۳۹۳۔
[10] ’’سنن الترمذي‘‘، باب دعاء النبي صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، الحدیث : ۳۵۵۹، ج۵، ص۳۲۲۔
و’’المستدرک‘‘، باب استفتاح الدعاء، الحدیث : ۱۸۷۶، ج۲، ص۱۷۱۔
[11] ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث : ۹۷۹۲، ج۳، ص۴۵۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع