30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہا : آزاد،
کہا : سچ کہتی ہے ، بندہ ہوتا تو بندگی میں ہوتا،
یہ آواز حضرت بشر کے گوش مبارک میں پڑی فورا ًحال متغیر ہوا، بیتابانہ ننگے پاؤں دوڑے ، فقیر کو نہ پایا، دنیا چھوڑی، محبت مولیٰ کے رنگ میں رنگے گئے مگر اس دن سے جوتا نہ پہنا، اگر کوئی پوچھتا فرماتے : میرے مولیٰ نے مجھ سے اسی حالت پر صلح کی([1])، یعنی جس وقت جذبِ الٰہی نے مجھے اپنی طرف کھینچا میں اس وقت ننگے پاؤں ہی تھا، لہٰذا اسی حال پررہنا چاہتا ہوں ۔
اب ان کی قدرِ برہنہ پائی دیکھئے جب تک زندہ رہے تمام جانوروں نے راستوں میں لِید، گوبر، پیشاب کرنا چھوڑ دیا کہ حافی کے پاؤں خراب نہ ہوں ۔ ایک دن کسی نے بازار میں لید پڑی دیکھی کہا : { اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ }([2])پوچھا گیا : کیا ہے ؟ کہا : حافی نے انتقال کیا، تحقیق کے بعد یہی امر نکلا۔
رضي اللّٰہ تعالٰی عن أولیاء ہ ونفعنا ببرکاتہم في الدنیا والدین، آمین([3])۔)
جواب اس شبہ کا تین۳ وجہ سے ہے :
پہلی وجہ : پیغمبر خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خلق کی ہدایت ورہنمائی کیلئے تشر یف لائے بعض اوقات حضور اَولیٰ کو چھوڑ کر اَدنیٰ کو اختیار فرماتے تاکہ لوگ اس کے جواز سے واقف ہوں یہ مَفْضُول ان کے لئے ہزار افضل اور یہ اَدنیٰ لاکھ اعلیٰ سے اَولیٰ تھا۔([4])
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فعل بھی اسی قسم سے ہے تا(کہ) لوگ سمجھیں کہ دُعا وسوال ہمارے لئے ہے ترکِ خواست خَواص کے لئے خاص ہے ۔
قال الرضاء : حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شارع ہیں حضور کا فعل عام اُمت کی اقتداء کے لئے ہے حضور اگر اپنے مقامِ عالی سے عامۂ خلق کے لئے تَنَزُّل نہ فرمائیں ، اتباعِ سنّت تمام جہان کو مُحال ہو جائے ، ولہٰذا تمام رات شب بیداری اوررمضان مبارک کے سوا پورے مہینے کے روزے کبھی حضور رحمتِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے منقول نہیں ، شب کو قیام بھی فرماتے اور آرام بھی، نفلی روزے بھی رکھتے اور اِفطار بھی (یعنی : کبھی روزے نہ بھی رکھتے ) ایک بار استنجاء فرمایا فاروقِ اعظم پانی حاضر لائے ارشاد ہوا : یہ کیا ہے ؟ عرض کی : حضور کے وضو کو پانی، فرمایا : مجھے حکم نہ دیا گیا کہ ہر پیشاب کے بعد وضو فرماؤں : ((ولو فعلتُ لکانت سُنّۃ)) ’’اور میں ایسا کرتا تو سنّت ہو جاتا۔‘‘([5])
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر وقت با وضو رہنا افضل نہیں ، یا اَکابر بندگانِ خدا کا تمام رات عبادت میں گزارنا، ایام مُحَرَّمہ([6]) کے سوا نفلی روزے رکھنا، خلافِ سنت ہے یہ مقاصد شارع سے محض ناواقفی وجہالت ہے ۔ )
دوسری وجہ : انسان ہر وقت ایک مقام پر نہیں رہتا، ورنہ کارخانۂ ہدایت ونصیحت میں فُتور(یعنی خلل) واقع ہو۔ ایک روز حضرت حَنْظَلَہ، صدیقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے کہنے لگے : حنظلہ منافق ہوگیا، صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حال پوچھا، کہا : جب تک رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں رہتا ہوں اپنے دل میں ذوق وشوق پاتا ہوں جب مجلسِ اَقدس سے جُدا ہوا اور اہل وعیال سے ملا، وہ ذوق وشوق نہیں رہتا فرمایا : اپنا بھی یہی حال ہے چلو حضور سے یہ حال عرض کریں ، عرض کی، فرمایا : ’’آدمی ایک حال پر نہیں رہتا، اگر تم ایک حال پر رہو تو کپڑے پھاڑ کر نکل جاؤ اور عورتوں اور بچوں سے کنارہ کرو اور فرشتے تم سے مصافحہ کریں ۔‘‘([7])
منقول ہے : کسی نے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے کہا : آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بوئے پیراہن (قمیص کی خوشبو) مصر سے سونگھی اور کَنْعان کے کنوئیں میں ان کی خبر نہ لی، فرمایا : ہمارا حال یکساں نہیں رہتا۔ ؎
گہے برطارم اعلٰی نشینیم
گہے بر پُشت پائے خود نہ بینیم([8])
پس سید ِعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بعض اَحوال میں دعا فرمانا بعض دیگر احوال میں اَولویّتِ ترک کے منافی نہیں ۔([9])
[1] ’’روض الریاحین‘‘، الفصل الثاني فی إثبات کرامات الأولیاء ، ص۲۱۷-۲۱۸۔
[2] ترجمۂ کنزالایمان : ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔(پ۲، البقرۃ : ۱۵۶)
[3] اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اولیا سے راضی ہو اورہمیں ان مقدس حضرات کی برکتوں سے دین ودنیا میں نفع پہنچائے آمین ۔
[4] یعنی وہ عمل بظاہر کم افضل معلوم ہوتا ہے ورنہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جس عمل کو اختیار فرمایاوہی افضل واعلیٰ ہے ۔
[5] ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الطہارۃ، باب في الاستبراء، الحدیث : ۴۲، ج۱، ص۴۹۔
و’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الطہارۃ، باب من بال ولم یمس ماء، الحدیث : ۳۲۷، ج۱، ص۲۰۷-۲۰۸۔
[6] وہ ایام کہ جن میں روزہ رکھنا منع ہے ۔ وہ سال کے پانچ دن ہیں : چار دن عید الاضحی کے (۱۰ سے ۱۳ ذی الحجہ) اور ایک دن عید الفطر کا۔
[7] ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب التوبۃ، باب فضل دوام الذکر والفکر في أمور الآخرۃ، الحدیث : ۲۷۵۰، ص۱۱۷۰-۱۱۷۱۔
و’’سنن الترمذي‘‘، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث : ۲۵۲۲، ج۴، ص۲۳۰-۲۳۱۔
و’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث : ۱۷۶۲۱، ج۶، ص۱۹۰۔
[8] ’’گلستانِ سعدی‘‘، باب دوم در اخلاق درویشان، ص۵۸-۵۹۔
[9] یعنی انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے حق میں افضل واولیٰ تو ترکِ دعا ہے اس کے باوجود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بعض احوال میں دعا فرمانا اس افضل واولیٰ کے منافی نہیں اس لئے کہ ان کا ہر فعل اُمت کی تعلیم کیلئے ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع