30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠(۱۱۸)}([1]) پھر کسی کا کیا رتبہ ہے کہ اپنی خواست ومراد سے انقطاع کلی کرے اور دعا اور سوال کو چھوڑ دے ۔
علماء فرماتے ہیں : جو شخص نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بڑھ کر کوئی بات نکالے اس کے منہ پر ماری جائے ۔([2])
قال الرضاء : بڑھنا یہ ہے کہ بے اِذنِ حضور اِقدام کرے (یعنی جس بات کی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اجازت مرحمت نہ فرمائی ہو وہ کام کرے ) اور یہ نہ ہوگا مگر مخالَفت میں ، ورنہ ارشاد ِاَقدس حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : ((من سنّ في الإسلام سنۃ حسنۃ کان لہ أجرھا وأجر من عمل بھا إلی یوم القیامۃ لا ینقص من أجورھم شیئاً)) ([3])۔
’’جو اسلام میں اچھی راہ پیدا کرے اس کا اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب اسے ملتا ہے اور ان عاملوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو۔‘‘خود حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اذنِ عام ہے ۔ سیدی علامہ عبد الغنی نابلسی قُدِّسَ سِرُّہٗ الْقُدْسِيُّ ’’حدیقۂ ندیہ شرح طریقۂ محمدیہ ‘‘میں فرماتے ہیں :
’’أنّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال : ((من سنّ سنۃ حسنۃ)) فسمی المبتدع للحسن مستناً فأدخلہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في السُّنّۃ وضابطۃ السُّنّۃ ما قرّرہ وفعَلہ النبيُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وداوَمَ علیہ ومن جملۃ قولہ فعلُہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم؛ لأنّہ تقریر وإذن في ابتداع السنۃ الحسنۃ إلی یوم الدین وإنّہ مأذون لہ بالشرع فیھاومأجور علیہ مع العاملین لھا بدوامھا۔
’’یعنی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے : ((من سنّ في الإسلام سنۃ حسنۃ))فرما کر بدعتِ حسنہ کو سنّت میں داخل فرما لیا اور اس کے ایجاد کرنے والے کو سُنّی قرار دیا کہ سنّت کا ضابطہ یہ ہے کہ جس بات کو نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مقرر رکھا یا جو کام حضور نے مداومت واِظہار کے ساتھ کیا اور حضور کا وہ ارشاد بھی حضور کا فعل ہے کہ اس میں قیامت تک بدعتِ حسنہ نکالنے کا اذن اور اسے برقرار رکھنا اور بتا دینا ہے کہ اسے شرعاً اس کی اجازت ہے اور قیامت تک جو اس پر عمل کریں ان سب کے ساتھ اجر وثواب ہے ۔‘‘)([4])
ایک شخص نے کسی فقیر سے بشر حافی کا حال بیان کیا کہ انہوں نے جوتا پہننا چھوڑ دیا تھا کہ زمین فرشِ خدا ہے وہ فرماتا ہے : { وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ(۴۸)} ’’زمین کو ہم نے فرش کیا تو کیا اچھا بچھانے والے ہیں ہم۔‘‘ (پ۲۷، الذاریات : ۴۸)جب کہ ہم امیروں اور بادشاہوں کے فرش پر جوتا پہن کر نہیں جا سکتے خدائے تعالیٰ کے فرش پر جوتا پہن کر کس طرح پھریں ۔ فقیر نے کہا :
اے عزیز! جو شخص نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بڑھ کر کوئی امر اختیار کرے اپنے کام میں خَجالت(شرمندگی) اٹھائے ۔ بشر حافی نے اگر یہ سمجھ کر جوتا پہننا چھوڑا، پاخانے پیشاب کے لیے کس جگہ کو مقرر کیا!؟۔ آیت کے یہ معنی نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ جس بادشاہ کے فرش پر جوتا پہن کر پھریں یا پاخانہ پیشاب کریں ، خراب وناپاک ہو جائے ، { وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ(۴۸)} ’’زمین کو ہم نے فرش کیا پس کیا اچھے ہیں ہم بچھانے والے ‘‘(پ۲۷، الذاریات : ۴۸)کہ ہمارے فرش پر تمام جہان چلتا پھرتا پاخانہ پیشاب کرتا ہے مگر خراب نہیں ہوتا۔ جس وقت نجاست خشک ہو کر زائل ہوتی ہے بے دھوئے اس پر نماز جائز ہوتی ہے ۔
قال الرضاء : اس حکایت کے اِیراد سے مقصود حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہٗ(یعنی مُصَنِّف کا یہاں اس حکایت کو ذکر کرنے کا مقصد) صرف اس قدر کہ جو دقیقہ سنّت نے نامعتبر رکھا دوسرا اس کا اعتبار نہیں کر سکتا۔ ولہٰذا حضرت سیدنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یہ خیال آیا کہ پاخانے جانے میں نجاست کی مکھیاں کپڑوں پر بیٹھتی ہیں ، نماز کیلئے لباس جداگانہ چاہیے فوراً اس سے رجوع فرمائی کہ صحابہ کرام، ائمہ دین تھے جب انہوں نے یہ امر رَوا رکھا دوسرا کون اسے معیوب کہہ سکتا ہے ! ([5])
رہا اِن وَلیُّ اللہ کا اعتراض وہ اس وجہ پر متوجہ ہے جو بیان کرنے والے نے ذکر کی، نہ معاذ اللہ حضرت حافی قُدِّسَ سِرُّہٗ الصَّافِيْ کی برہنہ پائی پر، ان کی برہنہ پائی کی وجہ وہ تھی جو خود انہوں نے بیان فرمائی، اور امام یافعی نے ’’روض الریاحین ‘‘میں ذکر کی کہ وہ امیر کبیر تھے ، رئیسانہ عیش وعشرت میں بسر کرتے ایک دن اپنی مجلس بیغمی میں تھے کہ دروازے پر کسی فقیر نے آوازی دی کنیز گئی،
فقیر نے پوچھا : تیرا آقا کیا کرتا ہے ؟
اس نے بیان کیا،
کہا : تیرا آقا بندہ ہے یا آزاد؟
[1] ترجمۂ کنز الایمان : ’’ تم عرض کرو اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرمااور تو سب سے برتر رحم کرنے والا۔‘‘ (پ۱۸، المؤمنون : ۱۱۸)
[2] ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، الفصل الأوّل، تحت الحدیث : ۱۴۰، ج۱، ص۳۶۶۔
[3] ’’صحیح مسلم‘‘، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ إلخ، الحدیث : ۱۰۱۷، ص۵۰۸۔
و’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث : ۲۳۷۲، ج۲، ص۳۲۹۔
[4] ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘، ثم اعلم أیہا المکلف أنّ فعل البدعۃ السیئۃ إلخ، ج۱، ص۱۴۷۔
[5] ’’ردّ المحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۸۱۔
و’’حاشیۃ الطحطاوي علی ’’المراقي‘‘، کتاب الطہارۃ، فصل فیما یجوز بہ الاستنجائ، ص۵۴۔
و’’البریقۃ المحمودیۃ‘‘، ج۶، ص۲۶۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع