دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            تحقیق اس مقام کی یہ ہے کہ قضائے مُعَلَّقْ د ۲و قسم ہے :  

            ایک مُعَلَّقْ مَحْض جس کی تعلیق کا ذکر لوحِ محو واِثبات یا صُحُفِ ملائکہ میں   بھی ہے ، عام اولیاء جن کے علوم اس سے مُتَجاوز نہیں   ہوتے ایسی قضا کے دفع پر دعا کی ہمت فرماتے ہیں   کہ انہیں   بوجہ ذکرِ تعلیق اس کا قابلِ دفع ہونا معلوم ہوتا ہے ۔

            دوسری مُعَلَّقْ شَبِیْہ بِالْمُبْرَمکہ علمِ الٰہی میں   تو مُعَلَّقْ ہے مگر لوحِ محو واِثبات ودفاتر ِملائکہ میں   اس کی تعلیق مذکور نہیں  ، وہ ان ملائکہ اور عام اولیاء کے علم میں   مُبْرَم ہوتی ہے ، مگر خواص عبادُ اللہ جنہیں   امتیازِ خاص ہے ،  باِلہامِ ربانی بلکہ برؤیت مقامِ اَرفع حضرت مخْدَع ([1])اس کی تعلیقِ واقعی پر مُطَّلِعْ ہوتے ہیں   اور اس کے دفع میں   دعا کا اِذن پاتے ہیں  ، اور یا عام مؤمنین جنہیں   اَلواح وصحائف پر اطلاع نہیں   حسب عادت دعا کرتے ہیں   اور وہ بوجہ اس تعلیق کے جو علم الٰہی میں   تھی مُنْدَفِع ہو جاتی ہے ، یہ وہ قضائے مُبْرَم ہے جو صالحِ رَدّ(یعنی ٹل سکتی) ہے ، اور اسی کی نسبت حضورِ غوثیت کا ارشادِ اَمجد۔

            ولہٰذا فرماتے ہیں  : ’’تمام اولیاء مقامِ قدر پر پہنچ کر رک جاتے ہیں   سوا میرے ، کہ جب میں   وہاں   پہنچا میرے لیے اس میں   ایک رَوزن (روشندان) کھولا گیا جس سے داخل ہو کر ’’نَازَعْتُ أَقْدَارَ الْحَقِّ بِالْحَقِّ لِلْحَقِّ۔ ‘‘   

            ’’میں   نے تقدیرات ِحق سے حق کے ساتھ حق کے لیے منازَعت کی ۔‘‘

مرد وہ ہے جو منازَعت کرے نہ وہ کہ تسلیم۔

            رواہ الإمام الأجل سیدي أبو الحسن علي نور الدین اللخمي قُدِّسَ سِرُّہٗ في ’’البھجۃ‘‘ المبارکۃ بسندین صحیحین ثلاثیین عن الإمام الحافظ عبد الغني المقدسي والإمام الحافظ ابن الأخضر رحمھما اللّٰہ تعالٰی سمعا سیدنا الغوث الأعظم رضي اللّٰہ عنہ وأرضاہ وحشرنا في زمرۃ من تبعہ ووالاہ، آمین۔([2])

            نظیر اس کی احکام ظاہریہ شرعیہ ہیں   وہ بھی تین۳     طرح آتے ہیں   :

          ایک مُعَلَّقْ ظَاہِرُ التَّعْلِیْقکہ حکم کے ساتھ ہی بیان فرما دیا کہ ہمیشہ کو نہیں  ۔ ایک

مدتِ خاص کے لئے ہے کقولہ تعالی :  {حَتّٰى  یَتَوَفّٰهُنَّ  الْمَوْتُ  اَوْ  یَجْعَلَ  اللّٰهُ  لَهُنَّ  سَبِیْلًا(۱۵)}([3])

            دوسرے وہ کہ علمِ الٰہی میں   تو ان کے لیے ایک مدت ہے مگر بیان نہ فرمائی گئی جب وہ مدت ختم ہوتی اور دوسرا حکم آتا ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حکم اول بدل گیا حالانکہ ہر گز نہ بدلا { لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِؕ-} ([4])بلکہ اس کی مدت یہیں   تک تھی، گو ہمیں   خبر نہ تھی، ولہٰذا ہمارے علماء فرماتے ہیں  : نسخ تبدیلِ حکم نہیں   بلکہ بیانِ مدّت کا نام ہے ۔([5])

            تیسرے وہ کہ علمِ الٰہی میں   ہمیشہ کے لیے ہیں  ، جیسے :  نماز کی فرضیت، زِنا کی حرمت، یہ اصلاً صالحِ نسخ نہیں   یہ قضائیں   بھی بصورت امر ہوتی ہیں  ۔ مثلاً :  فلاں   وقت فلاں   کی روح قبض کرو، فلاں   روز فلاں   کو یہ دو یہ چھین لو، نہ بصیغۂ خبر([6])، کہ خبرِ الٰہی میں   تَخَلُّف محال بالذات ہے :  { وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ-لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۱۵)}([7]) واللّٰہ تعالٰی أعلم(اللہ تعالیٰ خوب تر جانتاہے )۔)

 

          سوال چَہارُم (۴) :  دعا مقامِ رِضا وتسلیم کے خلاف ہے ، جب بندہ اپنے مقدر پر راضی ہو گیا تو دعا سے کیا کام رہا؟

      جواب :  دعا خلافِ رضا نہیں  ، ہو سکتا ہے کہ حصولِ مدعا یا نَجات اَز بَلا دعا پر مقدر ہو۔

          قال الرضاء : یہ سوال، سوالِ دُوُم کا غیر ہے ۔ وہاں   بر بنائے تفویض سوال تھا یہاں   بر بنائے رضا وتسلیم اور تفویض ورضا میں   فرق بَیِّن (ظاہر) ہے ، رِضا کا مرتبہ تفویض کے درجہ سے اعلیٰ ہے ۔

 



[1]    ’’بہجۃ الأسرار‘‘ شریف میں   حضور سیدنا غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے منقول کہ ’’میں  لوگوں   کے حالات سے علیحدہ ہوں   میں   ان کی عقلوں   سے علیحدہ ہوں   تمام مردان خدا جب تقدیر تک پہنچتے ہیں   تو رک جاتے ہیں   مگر میں   وہاں   تک پہنچتا ہوں   اورمیرے لئے ایک کھڑکی کھل جاتی ہے اس میں   داخل ہوتا ہوں   اور تقدیرات حق سے حق کے ساتھ حق کیلئے منازعت کرتا ہوں   ‘‘ اسی مقام کو مخدَعْ کہتے ہیں  ۔

                قصیدۂ غوثیہ میں   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ارشاد فرماتے ہیں   :

أنا الحَسَنيُّ والمخدع مَقامِي

وأَقدامِي علی عُنُق الرِّجال

                ’’میں   حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اولاد سے ہوں   اوربڑا مرتبہ ہے میرا، اورمیرے قدم تمام اولیاء کی گردنوں   پر ہیں  ۔‘‘

[2]    اس کو جلیل القدر امام، ہمارے سردار ابو الحسن علی نور الدین اللخمی نے اپنی کتاب ’’بہجۃ الاسرار‘‘ شریف میں   دو صحیح سندوں   کے ساتھ جو کہ تین واسطوں   سے ہیں  ، روایت کیا، ایک سند امام حافظ عبد الغنی المقدسی اور دوسری امام حافظ ابن الاخضر علیہما الرحمہ سے انہوں   بلا واسطہ غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس بات کی سماعت کی، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انھیں   ہم سے راضی کرے اور ہمیں   انکے متبعین اور انکی طرف رجوع کرنے والوں   میں   اٹھائے ۔آمین !

 ’’بہجۃ الأسرار‘‘،  ذکر کلمات أخبربہا عن نفسہ محدثا بنعمۃ ربک، ص۵۲۔

[3]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’یہاں   تک کہ انہیں   موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے ۔‘‘(پ۴، النسآء :  ۱۵)

[4]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’اللہ کی باتیں   بدل نہیں   سکتیں  ۔ ‘‘(پ۱۱، یونس :  ۶۴)

[5]    ’’التفسیرات الأحمدیۃ‘‘،  في جواز نسخ القرآن، ص۱۵۔

[6]    ’’خبر اس کلام کو کہتے ہیں   جس میں   صدق اور کذب دونوں   کا احتمال ہو۔‘‘

[7]    ترجمۂ کنزالایمان : ’’اورپوری ہے تیرے رب کی بات سچ اورانصاف میں   ، اس کی باتوں   کا کوئی بدلنے والا نہیں   اوروہی ہے سنتا جانتا ۔ ‘‘(پ۸، الأنعام :  ۱۱۵)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن