دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

مَفْضُوْلہر گز أَصْلَح نہیں   ہوسکتا([1])، واللّٰہ تعالٰی أعلم۔)

          سوال سِوُم(۳) :   جو مقدر ہے ہوگا، پھر دعا سے کیا فائدہ؟

          جواب :  دعا سے بَلا رَدّ ہوتی ہے ۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  :

            ’’قضا دعا کے سوا کسی چیز سے رد نہیں   ہوتی اور سوا نیکی کے کوئی چیز عمر کو زیادہ نہیں  کرتی۔‘‘([2])

            دوسری حدیث میں   ہے :  ’’دعا اس چیز سے کہ نازل ہوئی اور اس سے کہ ہَنُوز نازل نہ ہوئی (جو ابھی تک نازل نہ ہوئی) فائدہ بخشتی ہے اور بیشک بَلا نازل ہوتی ہے اور دعا اس کو مل جاتی ہے تو دونوں   آپس میں   مُدَافَعَت کرتی رہتی (لڑتی رہتی)ہیں  ‘‘([3])یعنی بَلا اترنا چاہتی ہے اور دعا اس کو روکتی ہے یہاں   تک کہ قیامت تک نہیں   اترنے دیتی۔

            مگر یہ رَدّ بھی قضا کے موافق ہے جس طرح وجود ہر شئے کا کسی سبب سے مَربُوط (ملا ہوا) ہے اسی طرح ہر چیز کے روکنے اور دفع کرنے کے لیے بھی ایک سبب مقرر ہے ، سِپَر (یعنی ڈھال) حَربَہ (جنگی ہتھیار)روکنے کا ایک سبب ہے ، اور دعا سببِ دفعِ بَلا، سِپَرلینا قضا کے خلاف نہیں  ، دعاکیونکر مُنافی ہوسکتی ہے !۔

            تحقیق اس مقام کی یہ ہے کہ قضا دو۲    قسم ہے :  

            مُبْرَم کہ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا ھُوَ کَائِنٌ([4]) اس کا بیان ہے

 

            اور مُعَلَّق کہ { وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ }([5])اس کا نشان ہے ، مفسرین اس آیت کی تفسیر میں   لکھتے ہیں  : بعض اسباب سے عمر میں   کمی زیادتی ہوتی ہے اور وہ بھی لوح محفوظ میں   لکھی ہے ۔([6])

                پس قضا میں   تغیُّر(تبدیلی)قضا کے مطابق رَوَا ہے ، مثلاً :  مقدر ہے کہ زید کی عمر سا  ۶۰ ٹھ برس کی ہو گی اور جو حج کرے گا اَ  ۸۰ سی برس زندہ رہے گا۔

                تنبیہ :  

          قال الرضاء :  یہ قضا میں   تغیُّر نہیں   مُقْضٰی بِہ کا تغیر ہے اور مُقْضٰی کی بھی ذات بدلی نہ(کہ) اس کے مُقْضٰی ہونے کی حیثیت اسے اس اعتبار سے جو نظر عامۂ عِباد میں   ظاہر ہوتا ہے احادیث وکلمات علمائے کرام میں   ردّ وتغیُّرِ قضا فرمایا ہے ، ([7]) اس کا بیان عنقریب آتا ہے ، پہلے یہ جانیے کہ یہاں   بعض اشخاص کو قولِ حضور پُرنور سیدنا غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں   کہ ’’سب اولیاء قضائے مُعَلَّق کو روکتے ہیں   اور میں   قضائے مُبْرَم کو رَد فرماتا ہوں  ‘‘  أو کما قال رضي اللّٰہ عنہ (یا اسی طرح کاارشادجو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا)   شُبہ گزرتا ہے کہ قضائے  مُبْرَمکیونکر قابلِ رَدّ ہو سکتی ہے !

          أقول :  شاید اِن صاحبوں   کو حدیثِ أبي الشیخ في ’’کتاب الثواب‘‘ عن أنس رضي اللّٰہ عنہ  نہ پہنچی کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  :

            ((أکثر من الدعاء فإنّ الدعاء یردّ القضاء المبرم))۔

            ’’دعا بکثرت مانگ کہ دعا قضائے مُبْرَم کو رد کر دیتی ہے ۔‘‘([8])

            حدیث ابن عساکر عن نمیر بن أوسمرسلًا([9])وحدیث الدیلمي عن أبي موسی رضي اللّٰہ تعالی عنہ موصولًا کہ حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  :

            ((الدعاء جند من أجناد اللّٰہ مجنَّد یردّ القضاء بعد أن یبرم))۔

            ’’دعا اللہ تعالیٰ کے لشکروں   سے ایک لام باندھا لشکر ہے (یعنی ہر طرح کے جنگی سامان سے لیس لشکر ہے ) کہ قضا کو رَدّ کر دیتا ہے بعد مُبْرَم  ہونے کے ۔‘‘([10])

 



[1]    یعنی جس چیز پر کسی دوسری چیز کو فضیلت حاصل ہو تو بذات خود پہلی چیز اس دوسری چیز سے زیادہ مفید وبھلی نہیں   ہو سکتی۔

[2]    ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب القدر، باب ما جاء لا یرد القضاء إلا الدعاء، الحدیث :  ۲۱۴۶، ج۴ ص۵۵۔

و’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث :  ۲۲۴۷۶، ج۸، ص۳۳۰۔

[3]    ’’المستدرک‘‘،  کتاب الدعاء  والتکبیر  إلخ،  لا یرد القدر إلا الدعاء، الحدیث : ۱۸۵۶، ج۲، ص۱۶۲۔

[4]    یعنی جو ہونا ہے اسے لکھ کر قلم سوکھ گیا، مراد یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لکھے میں   تبدیلی ممکن نہیں   ، جو لکھ دیا گیا وہ ہوکر رہے گا۔

 ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث :  ۲۸۰۴، ج۱، ص۶۵۹۔

[5]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے ۔ ‘‘ (پ۲۲، فاطر :  ۱۱)

[6]    ’’روح المعاني‘‘، پ۲۲، فاطر :  تحت الآیۃ :  ۱۱، الجزء :  ۲۲، ص۴۷۹-۴۸۰۔

[7]    مقضٰی بہ سے مراد یہاں   وہ شئے ہے جو تقدیر میں   لکھی گئی ہو جیسا کہ ابھی مثال گزری کہ ’’مقدر ہے کہ زید کی عمر ساٹھ برس کی ہوگی اور اگر حج کرے گا تو اَسّی برس زندہ رہے گا۔‘‘ تو اس مثال میں   زید کی عمر مقضی بہ ہے جو کہ ساٹھ سے بدل کر اَسّی تک بڑھا دی جائے گی۔

                یہ تقدیر میں   تبدیلی نہیں   بلکہ جو چیز تقدیر میں   مقدر کی گئی ہے اس کی تبدیلی ہے چنانچہ مقضیٰ بدلا یعنی جو چیز مقدر کی گئی تھی وہ بدلی نہ کہ خود تقدیر ہی اپنی حیثیت بدل گئی یعنی عام لفظوں   میں   یوں   کہہ سکتے ہیں   کہ اس بندے کے حق میں   یہ دوباتیں   (۶۰ اور ۸۰)طے شدہ تھیں   جو ا س کے فعل وعمل سے متعین ہوگئی۔

[8]    ’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الباب الثامن في الدعاء، الحدیث : ۳۱۱۷، ج۱، ص۲۸۔

[9]    حدیث مرسل کی تعریف :  جس حدیث کی سند کے اخیر سے راوی کو ساقط کردیا جائے ، مثلاً :  تابعی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کرے اور صحابی کو چھوڑ دے ۔  (’’تیسیر مصطلح الحدیث‘‘، ص۷۰)

[10]    ’’تأریخ دمشق‘‘=’’ابن عساکر‘‘، ج۲۲، ص۱۵۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن