دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            یوں   ائمۂ شافعیہ کے نزدیک ہر روز انتالیس۳۹    بار دعا فرض ہوگی کہ شبانہ روز میں   سترہ۱۷ رکعتیں   فرض ہیں   ہر رکعت میں   فاتحہ فرض، ہر فاتحہ میں   د ۲و بار دعا اور ہر قعدۂ اخیرہ میں   دُرود فرض ہے ۔([1])

            اَحادیث سابقہ([2]) جن میں   ارشاد ہوا کہ ’’جو دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرمائے ‘‘، ترکِ مُطْلَق ہی پر محمول یا معاذ اللہ اپنے کو بارگاہِ عزت عَزَّ وَجَلَّ  سے بے نیاز جاننا، اس کے حضور تَضَرُّع وزاری سے پرہیز رکھنا کہ اب صریح کفر وموجبِ غضبِ اَبدی ہے ۔ ولہٰذا { اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-}([3]) کے متصل ہی ارشاد ہوا :  { اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰)}([4])

                بالجملہ مطلق دعا میں   ہر گز کسی مسلمان سے نزاع معقول نہیں   اور خود بعد امرِ صریح :  { اُدْعُوْنِیْۤ } وفرمان :  { وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ-}([5])   گنجائشِ کلام کیا ہے ۔([6]) فافھم، واللّٰہ تعالٰی أعلم۔)

          سوال دُوُم (۲) :  دعا تَفْوِیض کے مُنَافی(خلاف) ہے ، جو شخص اپنا کام کسی کے سپرد کرتا ہے آپ(خود) اس میں   دخل نہیں   دیتا۔

          جواب :   تفویض کے یہ معنی کہ بندہ جس کام کے نفع نقصان سے واقف نہ ہو اسے اپنے مولیٰ کو کہ حکیم وکریم وعلیم ہے سِپُردکرے وہ مصلحت اس کی اس سے بہتر جانتا ہے ، نہ یہ کہ جو بات قطعاً اس کے حق میں   بہتر ہے مانند بِہِشت وایمان ومحبتِ خدا کے ، اس کی طلب نہ کرے یا جوبات بالیقین مُضِرّ ہے ، مثل کفر وشرک ومعصیت ودوزخ کے ، اس سے پنا ہ نہ چاہے ، بلکہ جس بات کا انجام معلوم نہیں   اس کی طلب بھی مع استثناء وشرطِ خیر وصلاح ، منافی تفویض نہیں  ۔ ([7])

            دعائے استخارہ میں   وارد :  ’’الٰہی! یہ کام اگر میرے دین ودنیا وانجام میں   بہتر ہے تو مجھے اس کی توفیق دے ، ورنہ مجھ کو اس سے باز رکھ اور میرا دل اس سے پھیر۔‘‘([8])

            البتہ جس چیز میں   مُضَرَّت (نقصان)یقینی ہے اس کی طلب کرنا یا جس کا نفع نقصان معلوم نہیں   بغیر شرطِ خیر وصلاح کے مانگنا تفویض کے منافی وبے جا ہے ۔

            امام غزالی کے شیخ فرماتے ہیں  : استثناء اور شرطِ خیر وصلاح قَطْعِیَّات(یقینی چیزوں  ) میں   بھی اَولیٰ کہ کبھی خیر وصلاح مفضول(کم افضل عمل) میں   ہوتی ہے ، مثلاً :  ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور وقت تنگ ہو گیا ہے اور ایک اندھا کنوئیں   میں   گرا پڑتا ہے ، بچانا اس کا اس کے حق میں   بہتر ہے اگرچہ نماز فی نفسہٖ افضل ہے ، اور اکثر ہوتا ہے کہ افضل کی طلب میں   آدمی ہلا ک ہو جاتا ہے اور مفضول بے ضرر ہاتھ آتا ہے جیسے :  مَاءُ الشَّعِیْرِ (یعنی جَو کا وہ پانی جو شراب نہ ہو) بعض مریضوں   کے حق میں   مفید، اور شربت اگرچہ افضل ہے مُضِر۔ پس ایسا مفضول افضل سے اَصْلَح وبہتر ہے ۔ تو بندے کو لائق کہ اپنے مالک سے عرض کرے :  الٰہی! میری صلاح وبہبود افضل میں   رکھ اور اس کی توفیق دے ، قطعاً جزماً بِلاشرطِ صلاح افضل کی درخواست نہ کرے کہ کبھی مُضِر ہوتی ہے ۔

          قال الرضاء : اس کلام سے مقصود سلبِ عموم ہے یعنی سب قَطْعِیَّات ایسے نہیں  کہ ضَمِ استثناء وشرطِ خیر سے بے نیاز ہوں  ، نہ عمومِ سلب کہ سب قطعیات میں   اس کی حاجت ہو، محبتِ خدا ورسول جل جلالہ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وبِہِشت ودیدارِ الٰہی وشفاعتِ رسالت پناہی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وتوفیقِ طاعت کی طلب، اورکفر وبدعت ودوزخ وغضبِ الٰہی وناراضیٔ حضور رحمت عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے تعوُّذ(پناہ مانگنا)اصلاً  محتاجِ شرط واستثناء نہیں  کہ ان امور میں   کسی صورت دوسرا پہلو مُتَصَوَّر نہیں   اورجہاں   دوسرا پہلو پیدا ہوگا وہاں   بھی شرط واستثناء نظر بنفسِ ذات افضل ہوں   گے کہ افضل فی نفسہٖ کبھی بوجہِ عارض مفضول ہوسکتاہے ([9]) جیسے آفاقیوں   کے لیے نماز وطواف([10]) ورنہ مَفْضُوْل مِنْ حَیْثُ ھُوَ



[1]    عند الشوافع درود فرض ہے ۔

 انظر ’’الہدایۃ‘‘، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۵۳۔

و’’شرح صحیح مسلم‘‘ للنووي، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد التشہد، ج ۱، ص ۱۷۵۔

عند الشوافع سورۂ فاتحہ پڑھنی فرض ہے ۔

 انظر ’’شرح صحیح مسلم‘‘ للنووي، کتاب الصلاۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ   إلخ، ج ۱، ص ۱۷۰۔

[2]    وہ حدیثیں   کہ فصل دوم میں   ادب ۳۰، کے تحت مذکور ہوئیں  ۔

[3]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’مجھ سے دعا کرو میں   قبول کروں   گا۔ ‘‘

[4]    ’’جو لوگ میری عبادت سے تکبّر کرتے ہیں   عنقریب جہنم میں   جائیں   گے ذلیل ہو کر۔‘‘(پ۲۴، المؤمن :  ۶۰)،  (یہاں   عبادت سے مُراد دُعا ہے ، انظر فصلِ اوّل ، ص۴۸)

[5]    ترجمۂ کنزالایمان : ’’اوراللہ سے اس کا فضل مانگو۔ ‘‘(پ۵، النسآء :  ۳۲)

[6]    دعا کرنے یا اسکو ترک کرنے کے متعلق جو علما کا اختلاف ہے وہ خاص مواقع کے متعلق ہے ورنہ مطلقاً دعا کے مانگنے میں   تو کسی کا بھی اختلاف نہیں   اور جن آیات واحادیث میں   ترکِ دعا پر غضب الٰہی وغیرہ کی وعیدیں   آئی ہیں   ان میں   مراد وہ لوگ ہیں   جو مطلقاً دعا کو ترک کر دیتے ہیں   یا معاذ اللہ اپنے آپ کو بارگاہ ایزدی سے بے نیاز سمجھ کر دعا ترک کرتے ہیں   اور اسکے حضور تضرع وانکساری سے کتراتے اور پرہیز کرتے ہیں   اور یہ تو صریح کفر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دائمی غضب کا باعث ہے ۔

[7]    بلکہ جس بات کا انجام معلوم نہیں   یعنی یہ نہیں   جانتا کہ فلاں   چیز کا سوال میرے حق میں   بہتر ہے یا نہیں  ؟تو اس فلاں   چیز کا سوال بھی، استثناء(مثلاً لفظِ ’’اگر‘‘)کے ساتھ یعنی :  اے میرے مالک! اگرتجھے پسند ہو تو مجھے یہ عطا فرما، اگر میرے حق میں   بہتر ہوتو عطا فرما، اسی طرح اگر میرے حق میں   مناسب ہوتوعطا فرما مذکورہ تینوں   طرح سے دعا مانگنا تفویض کے خلاف نہیں  ۔

[8]    ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التہجد، باب ما جاء في التطوع مثنی مثنی، الحدیث :  ۱۱۶۲، ج۱، ص۳۹۴۔

[9]    ’’قَطْعِیَّات‘‘ سے مراد یہاں   وہ امور ہیں   جن کا نفع یا نقصان یقینی ہے اوران میں   دوسرا پہلو نہ پایاجائے مثلاً محبتِ خدا ورسول عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طلب اورغضبِ الٰہی وناراضی نبی رحمت  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے پناہ ، یعنی بعض اموریقینیہ ایسے ہیں   کہ جن سے متعلق دعا کرتے وقت استثناء وخیر کی شرط لگانے کی حاجت نہیں   کہ ’’الٰہی !اگر یہ کام میرے دین ودنیا وانجام میں   بہتر ہے تو مجھے اس کی توفیق دے ، ورنہ مجھ کو اس سے بازرکھ اورمیرا دل اس سے پھیر۔‘‘، بعض اموریقینیہ ایسے ہیں   کہ جن سے متعلق دعا کرتے وقت استثناء وخیر کی شرط لگانا ہی بہتر ہے جیسا کہ’’ماء الشعیر‘‘  والی مثال گزری ۔

[10]    مسجد حرام میں   ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ گُنا بڑھ کر ملتاہے اس کے باوجود آفاقی( یعنی حرم شریف سے باہر رہنے والے ) کو نماز کے بجائے زیادہ طواف کرنے کا حکم ہے ۔

تفصیل کیلئے ’’بہارشریعت ‘‘، ج۱، حصہ ۶، صفحہ ۱۱۱۲، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کا مطالعہ کیجئے ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن