30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شَانْزدَہُم (۱۶) : قال الرضاء : جو تنہا جنگل میں جہاں اسے اللہ کے سوا کوئی نہ دیکھتا ہو کھڑا ہو کر نماز پڑھے ۔
ابن مندۃ وأبو نعیم في الصحابۃ عن ربیعۃ بن وقاص رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبي صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم : ((ثلاثۃ مواطن لا تردّ فیھا دعوۃ عبد : رجل یکون في بَرِیَّۃ بحیث لا یراہ أحد إلا اللّٰہ فیقوم فیصلي))۔ الحدیث([1])
ہَفْدَہُم (۱۷) : قال الرضاء : غازی کہ غزائے کفار کے لیے نکلے (یعنی کفار سے جہاد کرنے کیلئے نکلے ) جب تک واپس آئے ۔
الدیلمي عن ابن عباس رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما : ((أربع دعوات لاتردّ : دعوۃ الحاج حتی یرجع ودعوۃ الغازي حتی یصدر)) الحدیث۔ ([2])
وللبیہقي عنہ بإسناد متماسک : ((خمس دعوات یستجاب لھن)) فذکر نحوہ۔([3])
خصوصاً جب کہ معاذ اللہ اور ساتھی بھاگ جائیں اور یہ ثابت قدم رہے ، وھو في تتمۃ حدیث ربیعۃ المارِّ۔([4])
ہَژْدَہُم (۱۸) : قال الرضاء : جس شخص نے کسی پر احسان کیا اپنے مُحسِن کے حق میں اس کی دعا رَدّ نہیں ہوتی ۔
الدیلمي عن ابن عمررضي اللّٰہ تعالٰی عنہماعن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ((دعاء المحسن إلیہ للمحسن لا یردّ))۔ ([5])
نُوزْدَہُم (۱۹) : قال الرضاء : جماعتِ مسلمانان کہ مل کر دعا کریں ، بعض دعا کریں بعض آمین کہیں ۔
الطبراني والحاکم والبیہقي عن حبیب بن مَسْلَمۃ الفِھْريِّ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ : ((لا یجتمع ملأ فیدعو بعضہم ویؤمّن بعضہم إلّا أجابھم اللّٰہ تعالٰی))۔ ([6])
یہ گیا۱۱ رہ کہ فقیر نے ذکر کئے ان میں سوائے ۹ نہم ود ۱۰ ہم کے باقی ۹ نو صاحب ِ’’حِصْنِ حَصِین‘‘ سے بھی رہ گئے ۔
فالحمد للّٰہ علی حسن التوفیق۔ ) ([7])
ان اعمال صالحہ میں جن کے کرنے والے کو کسی دعا کی حاجت نہیں ۔
قال الرضاء : یہ فصل اگرچہ اس رسالے میں نہیں مگر اس مضمون کو حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہٗنے کتاب ’’الجواہر‘‘([8])میں افادہ فرمایا فقیر غَفَرَ اللّٰہُ تعالٰی لَہٗ بوجہِ جلالتِ فائدہ وعظمتِ عائدہ (یعنی عظیم فائدہ اور منفعت کے پیش نظر)اسے یہاں ذکر کرتاہے ، وہ ۳تین چیزیں ہیں :
اوّل(۱) : درودشریف۔
امام احمد وترمذی وحاکم باَسانیدِ صَحِیحہ جَیِّدہ حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں : جب چہارم شب گزرتی تھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کھڑے ہو کر فرماتے :
’’اے لوگو! خدا کی یاد کرو، خدا کی یاد کرو، آئی رَاجِفَہ([9])، اس کے بعد آتی ہے رَادِفَہ([10])آئی موت ان چیزوں کے ساتھ جو اُس میں ہیں ۔‘‘
میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں دعا بہت کیا کرتا ہوں اس میں سے حضور کیلئے کس قدر مقرر کروں ؟
[1] ابن مندہ وابو نعیم ’’معرفۃ الصحابۃ‘‘میں حضرت ربیعہ بن وقاص رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے راوی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں : تین مقامات ایسے ہیں کہ ان میں بندے کی دعا رَدّ نہیں کی جاتیں ، ان میں سے ایک وہ بندہ جو جنگل میں کھڑاہوکراس حال میں نماز ادا کرے کہ اسے اس کے رب عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی نہ دیکھتا ہو ۔ (الحدیث)
’’معرفۃ الصحابۃ‘‘، لأبي نعیم، ربیعۃ بن وقاص، الحدیث : ۲۷۹۲، ج۲، ص۲۹۸، بألفاظ متقاربۃ۔
[2] دیلمی حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی کہ چار دعائیں رَدّ نہیں کی جاتی : حاجی کی دعا جب تک کہ لوٹ نہ آئے اورغازی کی دعا یہاں تک کہ واپس ہو۔ (الحدیث)
’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث : ۳۳۰۱، ج۱، ص۴۳، (بحوالہ دیلمی)۔
[3] اور بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے اسنادِ متماسک کے ساتھ روایت کیا کہ پانچ قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں پھر مذکورہ بالاافراد کا ذکر فرمایا۔
’’شعب الإیمان‘‘، باب في الرجاء من اللّٰہ تعالی، الحدیث : ۱۱۲۵، ج۲، ص۴۷۔
[4] یعنی : اور اس کا تذکرہ ربیعہ بن وقاص سے مذکورہ بالا روایت کردہ حدیث کے آخر میں ہے ۔
[5] دیلمی نے حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اور انہوں سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کیا کہ جس شخص نے کسی پر احسان کیا تو احسان کرنے والے کے حق میں اسکی دعا رَدّ نہیں ہوتی۔
’’المسند الفردوس‘‘ للدیلمي، ج۱، ص۳۸۶، الحدیث : ۲۸۶۳۔
[6] طبرانی ، حاکم اور بیہقی نے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاکہ مسلمان جمع ہوں ان میں بعض دعا کریں ، اوربعض آمین کہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرماتاہے ۔
’’المستدرک‘‘ للحاکم، حبیب بن مسلمۃ الفہری کان مجاب الدعوۃ، الحدیث : ۵۵۲۹، ج۴، ص۴۱۷۔
و’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث : ۳۵۳۶، ج۴، ص۲۲۔
[7] اس حسنِ توفیق پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کیلئے سب خوبیاں ۔
[8] ’’جواہر البیان في أسرار الأرکان‘‘، فصل چہارم، ص۱۸۵-۱۸۶۔
[9] راجفہ سے مراد ہے قیامت کا پہلا نفخہ چونکہ اس نفخہ سے زمین میں سخت زلزلہ پڑجاوئے گا۔
(مرآۃ المناجیح‘‘، باب البکاء والخوف، الفصل الأول، ج۷، ص۱۵۷)
[10] رادفہ سے مراد دوسرا نفخہ جس سے مُردے جی اُٹھیں گے ۔
(مرآۃ المناجیح‘‘، باب البکاء والخوف، الفصل الأول، ج۷، ص۱۵۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع