30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
أبو نعیم عن واثلۃ بن الأسقع رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبي صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم : ((أربع دعواتھم مستجابۃ : الإمام العادل والرجل یدعو لأخیہ بظھر الغیب ودعوۃ المظلوم ورجل یدعو لوالدیہ))۔ ([1])
یَازْدَہُم (۱۱) : قال الرضاء : حاجی کی دعا جب تک اپنے گھر پہنچے ۔
حدیث شریف میں ہے : ’’جب تو حاجی سے ملے ، اسے سلام کر اور مصافحہ کر اور درخواست کر کہ وہ تیرے لئے استغفار کرے ، قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو کہ وہ مغفور ہے ۔‘‘
أخرجہ الإمام أحمد عن ابن عمر رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما۔([2])
دوسری حدیث شریف میں ہے : ’’حاجی کی دعا رَدّ نہیں ہوتی، جب تک پلٹے ۔‘‘
البیہقي والدیلمي ویأتي۔([3])
دُوازدَہُم (۱۲) : قال الرضاء : عمرہ کرنے والا۔
حدیث شریف میں ہے : ’’حج وعمرہ والے خدا کے مہمان ہیں ، دیتا ہے انہیں جو مانگیں اور قبول فرماتا ہے جو دعا کریں ۔ ‘‘
رواہ البیھقي(اس حدیث کو بیہقی نے روایت کیا)۔ ([4])
سِیزدَہُم (۱۳) : قال الرضاء : مریض کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
’’جب بیمار کے پاس جاؤ ، اس سے اپنے لیے دعاچاہو کہ اس کی دعا مثل دعائے ملائکہ ہے ۔‘‘رواہ ابن ماجہ عن عمر رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ۔([5])
دوسری حدیث شریف میں ہے : ’’مریض کی دعا رَدّ نہیں ہوتی، یہاں تک کہ اچھا ہو۔‘‘
رواہ ابن أبي الدنیا ونحوہ عند البیہقي والدیلمي عن ابن عباس رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما۔ ([6])
چَہَاردَہُم (۱۴) : قال الرضاء : ہر مومن مُبتَلائے بَلا یعنی بلائے دنیوی وجسمانی۔ یہ مریض سے عام ہے ۔
حدیث شریف میں ہے : سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد ہوا : ’’اے سلمان! بیشک مبتلا کی دعا مستجاب ہے ۔‘‘
الدیلمي عنہ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ ([7])
دوسری حدیث شریف میں ہے : ’’مومن مبتلاکی دعا غنیمت جانو۔‘‘
أبو الشیخ عن أبي الدرداء رضي اللّٰہ تعالٰٰی عنہ۔ ([8])
پانْزْدَہُم (۱۵) : قال الرضاء : جو یادِ خدا بکثرت کرتا ہو۔
حدیث شریف میں ہے : ’’تین شخصوں کی دعا اللہ تعالیٰ رَدّ نہیں کرتا : ایک وہ کہ خدا کی یاد بکثرت کرے اور مظلوم اور بادشاہ عادل۔‘‘
رواہ البیھقي عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ۔([9])
[1] ابو نعیم ، واثلہ بن اسقعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اوروہ مصطفی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے راوی : چار آدمیوں کی دعائیں قبول ہیں : (۱)عادل بادشاہ، (۲)وہ شخص کہ اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کیلئے دعا کرے ، اور(۳)مظلوم کی دعا، اور(۴)وہ شخص جو اپنے والدین کیلئے دعا کرے ۔
’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث : ۳۳۰۲، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۳۔
[2] اس حدیث کی تخریج امام احمد نے حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے کی۔
’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، ج۲، ص۳۵۱، الحدیث : ۵۳۷۱۔
[3] اس حدیث مبارکہ کو بیہقی اور دیلمی نے روایت کیا اور یہ حدیث مبارکہ آگے (ہفدہم میں ) آئیگی ۔
’’شعب الإیمان‘‘، باب في الرجاء من اللّٰہ تعالی، ذکر فصول في الدعاء إلخ، الحدیث : ۱۱۲۵، ج۲، ص۴۷۔
[4] ’’شعب الإیمان‘‘، باب في المناسک، فضل الحج والعمرۃ، الحدیث : ۴۱۰۶-۴۱۰۹، ج۳، ص۴۷۶-۴۷۷۔
[5] اس حدیث کو ابن ماجہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
’’سنن ابن ماجہ‘‘ ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء في عیادۃ المریض، الحدیث : ۱۴۴۱، ج۲، ص۱۹۱۔
[6] اس حدیث کو ابن ابی الدنیا اور اسی کی مثل بیہقی اور دیلمی نے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ۔
’’شعب الإیمان‘‘، باب في الرجاء من اللّٰہ تعالی، ذکرفصول في الدعاء إلخ، الحدیث : ۱۱۲۵، ج۲، ص۴۷۔
[7] اس حدیث کو دیلمی نے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث : ۳۳۶۵، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۷، (بحوالہ دیلمی)۔
[8] اس حدیث کو ابوالشیخ نے حضرت ابو الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث : ۳۳۰۵، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۳، (بحوالہ ابو الشیخ)۔
[9] اس حدیث کو بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
’’شعب الإیمان‘‘، باب في محبۃ اللّٰہ عزوجل، فصل في إدامۃ ذکر اللّٰہ عزوجل، الحدیث : ۵۸۸، ج۱، ص۴۱۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع