30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۵ : قال الرضاء : دعا میں حَجْر وتنگی نہ کرے ۔مثلاً : یوں نہ مانگے کہ تنہا مجھ پررحم فرما، یا صرف مجھے اورمیرے فلاں فلاں دوستوں کو نعمت بخش ۔ حدیث میں ہے : ایک اعرابی نے دعا کی : اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِيْ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَّلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَداً۔
’’الٰہی !مجھ پر رحم کر اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اپنی رحمت نازل فرما(اور ہمارے سوا کسی اورپر رحمت نہ فرما)۔ فرمایا حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے : ((لقد حَجَّرْتَ وَاسِعاً)) ’’بیشک تو نے بڑی وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا۔‘‘([1])
اے عزیز! رحمتِ الٰہی شاملِ اَنامہے (یعنی تمام مخلوق کے ساتھ ہے ) اور اس کا انعام عالَم کو عام : { رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-}([2])
جو نیک بات اپنے لئے درکار ہو جب تمام مسلمانوں کے لئے چاہے گا اگر خود مستحق نہیں اس خیر خواہیِ عام کی برکت سے مستحق ہوجائے گایایوں کہ ان میں بعض تو یقینا ہر خیر وفلاح کے قابل ہیں تو کسی کا طفیلی ہوکر پائے گابخلاف اس صورت کے کہ صرف اپنے یا اور بعض احباب کے لیے چاہی، باقی کے لئے پسند نہ کی تو ایک تو عام مومنین کی بدخواہی، دوسرے کمالِ ایمان کا نقصان۔
نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
((لا یؤمن أحدکم حتی یحبّ لأخیہ ما یحبّ لنفسہ))۔
’’تم میں کوئی مومن کامل نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی مسلمان کیلئے وہی نہ چاہے جو خود اپنے لئے چاہتا ہے ۔‘‘([3])
اور فرماتے ہیں : ((الدین النصح لکلّ مسلم))۔
’’دین ہر مسلمان کی خیر خواہی کا نام ہے ۔ ‘‘([4])
ولہٰذا احادیث میں تعمیمِ دعا (یعنی : اپنی دعا میں سب مسلمانوں کو شامل کرنے ) کے بہت فضائل وارد ہوئے ۔ کما أسلفناہ في فصل الآداب، واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب۔)([5])
فصلِ ہشتم اُن لوگوں کے بیان میں جنکی دعا قبو ل ہوتی ہے ۔
قال الرضاء : وہ ا ۱۹ نیس ہیں ۔ آ ۸ٹھ حضرت مُصَنِّفقُدِّسَ سِرُّہٗنے ذکر فرمائے اور گیا۱۱ رہ فقیر غَفَرَاللّٰہُ تعالٰی لَہٗ نے زائد کئے ۔ )
اوّل(۱) : مُضْطَر (بے چین وپریشان حال)۔
قال الرضاء : اس کی طرف تو خود قرآن عظیم میں اِشارہ موجود :
{ اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ }۔)([6])
دُوُم (۲) : مظلوم اگرچہ فاجر ہو، اگرچہ کافر ہو۔
قال الرضاء : حدیث میں ہے : ’’اللہ تعالیٰ اس سے فرماتا ہے :
((وعزتي لأ نصرنّک ولو بعد حین))
’’مجھے اپنی عزت کی قسم بیشک ضرور میں تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر کے بعد۔‘‘)([7])
سِوُم (۳) : بادشاہ عادل ۔
چَہَارُم(۴) : مردِ صالح۔
پَنْجم(۵) : ماں باپ کا فرمانبردار ۔
شَشم(۶) : مسافر۔
قال الرضاء : رواہ ابن ماجہ والعقیلي والبیھقي عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ والبزار وزاد : ((حتی یرجع)) والضیاء عن أنس وأحمد والطبراني عن عقبۃ بن عامر رضي اللّٰہ تعالٰی عنہم۔([8])
[1] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم، الحدیث : ۶۰۱۰، ص۵۰۸۔
[2] ترجمۂ کنزالایمان : ’’میری رحمت ہر چیزکو گھیرے ہے ۔‘‘ (پ۹، الأعراف : ۱۵۶)
[3] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ، الحدیث : ۱۳، ج۱، ص۱۶۔
[4] ’’سنن النسائي‘‘، کتاب البیعۃ، النصیحۃ للإمام، الحدیث : ۴۲۰۳-۴۲۰۶، ص۶۸۴-۶۸۵۔
[5] جیسا کہ ہم نے پیچھے آدابِ دعا کی فصل (یعنی فصل دوم)میں ذکر کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی حق کو زیادہ جاننے والا ہے ۔
[6] ترجمۂ کنزالایمان : یا وہ جو لاچار کی سنتاہے ، جب اُسے پکارے اوردور کردیتاہے برائی۔ (پ۲۰، النمل : ۶۲)
[7] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب في العفو والعافیۃ، الحدیث : ۳۶۰۹، ج۵، ص۳۴۳۔
’’سنن ابن ماجہ‘‘ کتاب الصیام، باب في الصائم لا تردّ دعوتہ، الحدیث : ۱۷۵۲، ج۲، ص۳۴۹-۳۵۰۔
[8] مسافر کی دعا کی قبولیت والی حدیث کوابن ماجہ ، عقیلی، بیہقی اور بزار نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا جبکہ بزار نے ’’حتی یرجع‘‘ (یہاں تک کہ لوٹ آئے )کے الفاظ کا اضافہ کیا، اور اسی حدیث کو ضیاء نے حضرت انس اور احمد وطبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔
’’سنن ابن ماجہ‘‘، باب دعوۃ الوالد ودعوۃ المظلوم، الحدیث : ۳۸۶۲، ج۴، ص۲۸۱۔
’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث : ۳۳۱۶، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۴، (بحوالہ بزار)۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع