دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

پھر ندامت ہو۔

            رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  : ’’اپنی جانوں   پر بد دعا نہ کرو اور اپنی اولاد پر بد دعا نہ کرو اور اپنے خادم پر بددعا نہ کرو اور اپنے اموال پر بددعا نہ کرو کہیں   اجابت کی گھڑی سے موافق نہ ہو۔‘‘

            رواہ مسلم وأبو داود وابن خزیمۃ عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما۔([1])

            اورفرماتے ہیں  : ’’تین دعائیں   بیشک مقبول ہیں  : دعا مظلوم کی اور دعا مسافر کی اور ماں   باپ کا اپنی اولاد کو کوسنا۔‘‘

             رواہ الترمذي وحسَّنہ عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ۔([2])

          تنبیہ :  دیلمی وغیرہ نے عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے روایت کی، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :   

            ((إنّی سألت اللّٰہ أن لا یقبل دعاء حبیب علی حبیبہ))۔

            ’’بیشک میں   نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کسی پیارے کی پیارے پر بددعا قبول نہ فرمائے ۔ ‘‘([3])

        علامہ شمس الدین سخاوی اسے لکھ کر فرماتے ہیں  : صحیح حدیثوں   سے ثابت کہ اولاد پر ماں   باپ کی بد دعا رَدّ نہیں   ہوتی تو اس حدیث کو ان سے توفیق دیا (تطبیق دینی)چاہئے ([4])، انتہی۔

          أقول وباللّٰہ التوفیق :  بد دعا دو۲    طور پر ہوتی ہے :

             ایک یہ کہ داعی (یعنی دعا کرنے والے )کا قلب حقیقۃً اس کا یہ ضرر(نقصان) نہیں   چاہتا، یہاں   تک کہ اگر واقع ہو تو خود سخت صدمے میں   گرفتار ہو۔ جیسے :  ماں   باپ غصے میں   اپنی اولاد کو کوس لیتے ہیں   مگر دل سے اس کا مرنا یا تباہ ہونا نہیں   چاہتے اور اگر ایسا ہو تو اس پر ان سے زیادہ بے چین ہونے والا کوئی نہ ہوگا۔ دیلمی کی حدیث میں   اسی قسمِ بد دعا کیلئے وارد کہ حضور رَئُ وْفٌ الرَّحِیْمِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کا مقبول نہ ہونا اللہ تعالیٰ سے مانگا۔ نظیر اس کی وہ حدیث صحیح ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عرض کی :  ’’الٰہی! میں   بشر ہوں   بشر کی طرح غضب فرماتا ہوں   تو جسے میں   لعنت کروں   یا بد دعا دوں   اسے تو اس کے حق میں   کفارہ واجر وباعثِ طہارت کر۔‘‘([5])

            دوسرے اس کے خلاف کہ داعی کا دل حقیقۃً اس سے بیزار اور اُس کے اس ضرر کا خواستْگار (امیدوار)ہے اور یہ بات ماں   باپ کو معاذ اللہ اسی وقت ہوگی جب اولاد اپنی شقاوت سے عقوق کو (یعنی :  نافرمانی وسرکشی کو) اس درجۂ حد سے گزار دے کہ ان کا دل واقعی اس کی طرف سے سیاہ ہو جائے اور اصلاً محبت نام کو نہ رہے بلکہ عداوت آ جائے ۔ ماں   باپ کی ایسی ہی بد دعا کے لیے فرماتے ہیں   کہ رَدّ نہیں   ہوتی۔

            والعیاذ باللّٰہ سبحنہ وتعالٰی، ھذا ما ظھر لي، واللّٰہ تعالٰی أعلم۔([6])

          مسئلہ۱۴ :    قال الرضاء :  تحصیل ِحاصل (یعنی :  جو چیز پہلے سے حاصل ہو اسکے حصول) کی دعا نہ کرے مثلاً : مرد کہے :  الٰہی! مجھے مرد کرد   ؎[7]   ے  کہ یہ استہزاء (مذاق وٹھٹا) ہے ، ہاں   ایسی دعا جس میں   امتثالِ امرِ شریعت (یعنی :  شرعی احکامات کی بجا آوری) یا اظہارِ عِجز وعُبُودِیَّت یا خدا وَ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت یا دین واہلِ دین کی طرف رغبت یا کفر وکافرین سے نفرت وغیرہ مَنَافِع نکلتے ہیں   وہ جائز ہے اگرچہ اس امر کا حصول یقینی ہو، جیسے :

            اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحََّمدٍ، اَللّٰھُمَّ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ، اَللّٰھُمَّ أَعْطِ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ، اَللّٰھُمَّ ارْضِ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَللّٰھُمَّ أَعْطِ بَیْتَکَ الْمُکَرَّمَ شَرَفاً وتَکْرِیْماً، اَللّٰھُمَّ الْعَنْ أَعْدَاءَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔([8])

            کہ اگرچہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرود کا نزول اور مسلمانوں   کو رُشد وہدایت تک وصول، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وسیلہ ملنا اور اللہ تعالیٰ کا اصحابِ کرام سے راضی ہونا اور بیت مکرم کی عزت وکرامت اور حضور کے اَعدا پر غضب ولعنت سب یقینی باتیں   ہیں   مگر ان دعاؤں   میں   وہی منافع مذکورہ ہیں  ، تو فضول واستہزاء نہیں   ہو سکتیں  ۔

          أقول :  علاوہ بریں   ان سب میں   وہ تاویل جو انہیں   طلبِ حاصل سے جدا کر دے ممکن  وللتفصیل محلّ آخر۔(یعنی اس مسئلہ کی تفصیل کسی اور مقام پر کی جائیگی)۔

 



[1]    اس حدیث کو امام مسلم، ابو داؤد اور ابن خزیمہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا۔

’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الزہد والرقائق، باب حدیث جابر الطویل   إلخ، الحدیث : ۳۰۰۹، ص۱۶۰۴۔

 و’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصلاۃ، باب النہي أن یدعو   إلخ، الحدیث :  ۱۵۳۲، ج۲، ص۱۲۶۔

[2]    اس حدیث کو امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا اور حسن کہا۔

’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب ما ذکر في دعوۃ المسافر، الحدیث : ۳۴۵۹، ج۵،  ص۲۸۰۔

[3]    ’’المسند الفردوس‘‘ للدیلمي، الحدیث :  ۱۸۹، ج۱، ص۵۲۔

[4]    ’’المقاصد الحسنۃ‘‘، حرف الدال المھملۃ، تحت الحدیث :  ۴۸۷، ص۲۲۱۔

[5]    ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب البر والصلۃ، باب من لعنہ النبي   إلخ، الحدیث :  ۲۶۰۰-۲۶۰۳، ص۱۴۰۱-۱۴۰۳۔

[6]    اللہ پاک وبلند ہمیں   اپنی پناہ میں   رکھے ۔ یہ وہ گوہر پارے کہ میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ پر ظاہر فرمائے اورسب سے زیادہ علم والا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے ۔

[7]    جبکہ مرد سے یہی معنی لغوی مراد ہو اور اگر مرد بمعنی شجاع ودلیر یا مردِ حقیقی، مرد راہِ خدا مراد لے تو استہزاء نہیں  ۔  مرد باش یا خاک پائے مرد باش۔ ۱۲ منہ حفظہ ربہ ۔ (یعنی مرد بنو یا کسی اللہ کے ولی کی صحبت اختیار کرو)

[8]    اے اللہ! ہمارے آقا وسردار محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرود بھیج، اے اللہ! ہمیں   سیدھا راستہ چلا، اے اللہ! ہمارے آقا ومولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وسیلہ عطا فرما، اے اللہ! صحابہ کرام سے راضی ہو، اے اللہ! تو بیت اللہ شریف کو شرف اور بزرگی عطا فرما، اے اللہ! سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں   کو اپنی رحمت سے دور فرما۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن