30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں انکی تَبْعِیَّت کی (یعنی : علامہ ابن نجیم اور محقق علائی نے علامہ حلبی کی پیروی کی)۔ ([1])
مگر اس میں صریح خدشہ ہے کہ جواز صرف عقلی ہے نہ کہ شرعی کہ حدیث مُتَواتِرَۃُ الْمَعْنی سے بعض مؤمنین کی تعذیب ثابت اور نووی وابی ولقانی نے اس پر اجماع نقل کیا اور جواز ِدعا کے لیے صرف جواز عقلی باوجود استحالۂ شرعی کافی ہونا مسلَّم نہیں ، اس طرف محقق شامی نے ’’رَدُّ المحتار‘‘ میں اشارہ فرمایا۔([2])رہا اظہارِ شفقت سے عذر، میں کہتا ہوں : وہ محلِ تکذیبِ نصوص میں قابلِ سماعت نہیں([3])فتأمّل۔
ثمّ أقول وباللّٰہ التوفیق : یہاں تعمیمیں دو ہیں : ایک تعمیمِ مسلمین، دوسری تعمیمِ ذنوب۔
اگر داعی (دعا مانگنے والا) صرف تعمیم اوّل پر قناعت کرے ، مثلاً کہے : اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ([4])یا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّۃِ مُحَمَّدٍصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ([5]) تو قطعا ًجائز ہے اور اس کا امام قرافی کو بھی انکار نہیں اور اس کے فضل میں احادیث وارِد اور اس کا جواز آیات سے مستفاد اور یہ طَبَقَہ بَطَبَقَہ مسلمین میں بلا نکیر شائع ، اور اگر صرف تعمیم ثانی پر اکتفاء کرے ، مثلاً : اپنے لئے کہے : الٰہی! میرے سب گناہ چھوٹے بڑے ، ظاہر، چھپے ، اگلے ، پچھلے معاف فرما، یا کہے : الٰہی! میرے اور میرے والدین ومشائخ واحباب واصول وفروع اور تمام اہلسنّت کے لئے ایسی مغفرت کر جو اصلاً کسی گناہ کا نام نہ رکھے ، جب بھی قطعاً جائز اور اس قسم کی دعا بھی حدیث میں وارد اور مسلمین میں مُتَوارِث(یعنی مسلمانوں میں چلی آرہی ہے )، ان دونوں صورتوں کے جواز میں تو کسی کا کلام نہیں ہو سکتا کہ اس میں اصلاً کسی نص کی تکذیب نہیں ۔
صورتِ ثانیہ(دوسری صورت یعنی تعمیم ذنوب) میں تو ظاہر ہے کہ نصوص صرف اس قدر پر دال کہ بعض مسلمین مُعذَّب ہوں گے ، ممکن کہ وہ داعی اور اس کے والدین ومشائخ واحباب وجمیع اہلسنّت کے سِوا اور لوگ ہوں ۔
اسی طرح صورتِ اُولیٰ(پہلی صورت یعنی تعمیم مسلمین) میں کوئی حرج نہیں کہ ہر مسلمان کے لئے فی الجملہ مغفرت اور بعض پر بعض ذُنوب (گناہوں ) کی وجہ سے عذاب ہونے میں تنافی نہیں ۔
أقول : بعض نصوص سے نکال سکتے ہیں کہ فی الجملہ مغفرت ہر مسلمان کے لیے ہو گی، احادیثِ صریحہ ناطق(یعنی احادیث کے ارشاد) کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت سے ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے دوزخ سے نکال لیا جائے تو ضرور ہے کہ یہ نکلنا قبل پوری سزا پالینے کے ہو ورنہ شفاعت کا اثر کیا ہوا۔
اب رہی صورت ثالثہ( تیسری صورت) یعنی داعی دونوں تعمیمیں کرے مثلاً : کہے : الٰہی! سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے ۔
أقول : اس کے پھر دو ۲ معنی محتمل :
ایک یہ کہ مغفرت بمعنی’’ تَجَاوُزْ فِی الْجُمْلَہ‘‘کے لیں تو حاصل یہ ہوگا کہ الٰہی! کسی مسلمان کو اس کے کسی گناہ کی پوری سزا نہ دے ، اس کے جواز میں بھی کچھ کلام نہیں کہ مفادِ نصوص مطلقاً تعذیبِ بعض عُصاۃ ہے نہ کہ استیفائے جزائے بعض ذنوب([6]) بلکہ کریم کبھی اِسْتِقْصَاء نہیں فرماتا (یعنی مالک کریم عَزَّ وَجَلَّ کبھی پوری باز پرس نہیں فرماتا) ألا تری! إلی قولہ تعالی : { عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍۚ-}([7]) جب أَکْرَمُ الخَلْق مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی پورا مُوَاخَذَہ نہیں فرمایا(یعنی پوری بازپرس نہیں فرمائی) تو ان کا مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ تو أَکْرَمُ الْأَکْرَمِین ہے ۔
دوسرے یہ کہ مغفرتِ تامہ کاملہ مراد لی جائے یعنی ہر مسلمان کے ہر گناہ کی پوری مغفرت کر کہ کسی مسلمان کے کسی گناہ پر اصلاً مُوَاخَذَہ نہ کیا جائے ، یہ بیشک تکذیبِ نصوص کی طرف جائے گا اور اسی کو امام قرافی ناجائز فرماتے ہیں ۔ اور بیشک یہی مِنْ حَیْثُ الدَّلِیْل راجح نظر آتا ہے اور اس طرح کی دعا کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں اور مسلمین کے حق میں خلفِ وعید کا جواز (جس سے خود حسبِ تصریحِ ’’حلیہ‘‘ ودیگر قائلان جوازِ عفو ومغفرت مراد
اور وہ یقینا اجماعاً جائز بلکہ واقع ہے ) اس مسئلہ میں کیا مفید کہ بعض کے لیے اس کا عدم ووقوعِ عذاب، تواتر واجماع سے ثابت تو یہاں کلامِ ’’حلیہ‘‘ محلِ کلام ہے اور مسئلہ ائمہ کیا مشائخ سے بھی منقول نہیں کہ دوسروں کو مجالِ سَخُن(اعتراض کی گنجائش) نہ رہے ، پس اَحْوَطیہی ہے (یعنی : زیادہ احتیاط اسی میں ہے ) کہ اس صورتِ ثالثہ کے معنی ثانی (تیسری صورت کے دوسرے معنی یعنی مغفرت تامہ کاملہ)سے احتراز کرے ۔ شاید مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہٗ نے اسی لئے صرف کلامِ امام قرافی پر اقتصار فرمایا کہ رجحان واحتیاط اسی طرف ہے ۔ واللّٰہ تعالٰی أعلم۔
ھذا ما ظھر لي في النظر الحاضر، فتأمّل لعلّ اللّٰہ یحدث بعد ذلک أمراً۔([8])
مسئلہ ۱۳ : قال الرضاء : اپنے اور اپنے احباب کے نفس واہل ومال ووَلَد(بچوں ) پر بد دعا نہ کرے کیا معلوم کہ وقتِ اجابت ہو اور بعد وقوعِ بَلا (مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد)
[1] ’’البحر الرائق‘‘، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۵۷۷-۵۷۸۔
و’’الدر المختار‘‘، فصل في بیان تألیف الصلاۃ إلی انتہائہا، ج۲، ص۲۸۸۔
[2] ’’ردّ المحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، فصل في بیان تألیف الصلاۃ إلی انتہائہا، مطلب في خلف الوعید وحکم الدعاء إلخ، ج۲، ص۲۸۹۔
[3] یعنی : یہ عذر پیش کرنا کہ تمام مسلمانوں کے تمام گناہوں کی بخشش چاہنا ان سے شفقت کا اظہار کرنا ہے تو یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ اس سے آیات واحادیث کی تکذیب لازم آتی ہے ۔
[4] اے اللہ! میری ، میرے ماں باپ اورتمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی بخشش فرما۔
[5] اے اللہ! محمد رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کو بخش دے ۔
[6] یعنی احادیث مبارکہ میں جو بعض مسلمانوں کے عذاب کا ذکر ہے اس کا مقصود ومراد یہ ہے کہ بعض گنہگاروں کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا یہ نہیں کہ وہ اپنے تمام گناہوں کی پوری پوری سزا پائیں گے ۔
[7] کیا تو نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کایہ فرمان نہ سنا : ’’تو نبی نے اُسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی۔‘‘( کنز الایمان)(پ۲۸، التحریم : ۳)
[8] یہ وہ کلام ہے جو اس وقت غور وفکر سے مجھ پر منکشف ہوا پس تو غور کر ممکن ہے کہ اللہ کریم تجھ پر کوئی اور امر واضح کرے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع