30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عند التفتیش اسے دو سخت آفتوں کا سامنا ہے ، شرعاً محال مان کر اب جو استدعا کرتا ہے آیا واقعی وقوع چاہتا ہے یا یونہی لفظ بے معنی بک رہا ہے ۔
اوّل میں حق سبحانہ وتعالیٰ سے اس کی خبر کی تکذیب چاہنا ،
اور دُوُم عَبَث واِسْتِہزاء ہے اور دونوں کا پہلو معاذ اللہ جانبِ کفر جھکتا ہے ۔ بہرحال صورتِ سابقہ یقینا کفر اور ثانی اَشد حرام، سخت کبیرہ جس سے توبہ وتجدید اسلام ونکاح لازم۔([1])
فافھم فإنَّ المقام مزلّۃ الأقدام وقد أطال الکلام ھھنا العلامۃ الحلبي في ’’الحلیۃ‘‘([2]) ولخَّصہ في ’’ردّ المحتار‘‘([3]) وزاد، والکلّ غیر محرَّر ولولا غرابۃ المقام لنبأتک بما لھما وعلیھما وقد بیناہ فیما علقناہ علیھما([4]) ولعلّ الحق لا یتجاوز عن الحکمین الذین أشرتُ إلیھما، واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی أعلم۔)([5])
مسئلہ۱۲ : نظر بدلیلِ سابق یہ دعا کہ خدایا! سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے جائز نہیں ([6])کہ جس طرح وہاں تکذیبِ آیات لازم آتی ہے ، اس دعا سے ان احادیث کی تکذیب ہوتی ہے جن میں بعض مسلمانوں کا دوزخ میں جانا وارد ہوا، اور ان کا آحاد ہونا اس جرأت کا مُجَوِّز نہیں ([7]) اور قولہ عَزَّ وَجَلَّ : { یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی
الْاَرْضِؕ-}([8]) اور { فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا }([9]) أَيْ : مِنَ الْکُفْرِ فَیَعُمُّ الْمُسْلِمِیْنَ([10]) ان کے منافی اور اس دعا کے جواز کے لیے کافی نہیں ([11]) کہ افعال سیاق ثبوت میں اجماعاً عموم پر دلالت نہیں کرتے اور بر تقدیر تسلیم اس جگہ خصوص مراد ہے تا(کہ) قواعدِ شرع سے خلاف لازم نہ آئے ([12]) ہاں ! اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ وَلِجَمِیْعِ
الْمُسْلِمِیْنَ بے نیتِ تعمیمِ حقیقی جائز ہے ، ([13]) ھذا حاصل کلام قَرَافيّ، ذکرہ في ’’شرح المنیۃ‘‘ لابن أمیر الحاج۔([14])
قال الرضاء : یہ دوسرا مسئلہ معرکۃ الآرا ہے ، علامہ قَرَافی وغیرہ علماتو عدمِ جواز کی طرف گئے اور علامہ کرمانی نے اس میں مُنَازَعت کی (یعنی مخالفت کی) جسے ’’شرح مُنیہ‘‘ میں رَد کر دیا پھر مُحَقِّق حَلْبِی نے اس بنا پر کہ مسلمانوں کے لیے خلفِ وعید بمعنی عطا ومغفرت جائز (بلکہ قطعاً واقع ہے ) اور اس دُعا میں برادرانِ دینی پر شفقت سمجھی جاتی ہے اور جوازِ دعا جوازِ مغفرت پر مبنی ہے نہ کہ وقوع پر، تو عدم وقوعِ مغفرتِ جمیع کی حدیثیں اس دُعا کے خلاف نہیں ، اس کے جواز کی طرف میل کیا([15])علامہ زین نے ’’بحر الرائق‘‘، پھر علامہ محقق علائی نے ’’دُرِّ مختار‘‘
[1] یعنی اگر کفار ومشرکین کی بخشش ونجات کو شرعاً جائز سمجھتا ہے ، تو یہ آیات قرآنیہ کے انکار وتکذیب کے سبب کھلا کفر ہے اور اگر شرعاً ان کی مغفرت ونجات کو جائز نہ سمجھتے ہوئے ان کیلئے بخشش کی دعا کرتا ہے تو یہ کفر نہیں البتہ شدید حرام وسخت کبیرہ گناہ ہے کہ اس وجہ سے یہ دو بڑی آفتوں میں مبتلا ہوا پہلی یہ کہ جانتا ہے کہ انکی کسی صورت بخشش نہیں پھر بھی انکی بخشش کی دعا سے انکی واقعی مغفرت کا طلبگار ہے جو انتہائی درجہ کی بے باکی اور خبر خداوندی کا کذب چاہنا ہے یا پھر یونہی فضول بات بک رہا ہے اور معاذ اللہ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ٹھٹا اور استہزاء کر رہا ہے اور ان دونوں باتوں میں کفر کا اندیشہ ہے جو سخت حرام لہٰذا اس سے تجدید ایمان ونکاح دونوں لازم ہیں ۔
[2] وہي : ’’الحلبۃ‘‘ أي : ’’حلبۃ المجلّي شرح منیۃ المصلّي‘‘ ولکن في بلادنا معروفۃ بــ’’الحلیۃ‘‘۔
’’الحلبۃ ‘‘، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۵۵۔۲۵۶۔
[3] ’’رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في خلف الوعید إلخ، ج۲، ص۲۸۸-۲۸۹۔
[4] ’’جدّ الممتار‘‘ کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۲۱-۲۲۲۔
و’’ہامش الحلبۃ‘‘ للإمام أحمد رضا خان علیہ الرحمۃ، ص۷۳-۷۴۔
[5] سمجھ لے کیونکہ یہ قدموں کے پھسلنے کا مقام ہے ، اور علامہ حلبی نے ’’حلبہ‘‘ میں اس بارے میں طویل کلام فرمایا ہے جسکا خلاصہ علامہ شامی نے ’’ردّ المحتار‘‘ میں بیان فرماتے ہوئے اور کلام زائد فرمایا اور مکمل کلام غیر محرر ہے ، اگر یہ پیچیدہ کلام نہ ہوتا تو میں تمہیں ان (صاحب’’رد المحتار‘‘ و’’حلبہ‘‘) کے دلائل اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات سے آگاہ کرتا، ہاں ! ’’رد المحتار‘‘ اور ’’حلبہ‘‘ پر جو میں نے حواشی لکھے ہیں ان میں مَیں نے اسے بیان کیا ہے اور ممکن ہے کہ درستی ان دو حکموں سے آگے نہ بڑھے جنکی طرف میں نے ابھی اصل کتاب میں اشارہ کیا ہے ، اور پاکیزہ وبلند شان والا رَب عَزَّ وَجَلَّ بہتر جانتا ہے ۔
[6] یعنی : مذکورہ بالا دلیل کی روشنی میں یہ دعا کرنا کہ ’’یا اللہ! سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے ‘‘ جائز نہیں ۔
[7] یعنی : جن احادیث میں بعض مسلمانوں کا دوزخ میں جانا وارد ہوا اگرچہ وہ احادیث خبر واحد کے زُمرے سے ہیں اس کے باوجود اس بات کو کسی طور پر بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتاکہ سب مسلمانوں کے سب گناہوں کی ایسی بخشش طلب کر نا کہ کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے فرمانِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تکذیب کرنا ہے ۔
[8] اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان : ’’زمین والوں کیلئے معافی مانگتے ہیں ۔‘‘ (ترجمۂ کنز الایمان)(پ۲۵، الشوری : ۵)
[9] ترجمۂ کنز الایمان : ’’تو انھیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی۔‘‘ (پ۲۴، المؤمن : ۷)
[10] یعنی : جنہوں نے کفر سے توبہ کی اور یہ آیت مسلمانوں کو بھی شامل ہے ۔
[11] یعنی قرآن پاک کی یہ مذکورہ آیات ان احادیث مبارکہ کے منافی نہیں کہ جن میں بعض مسلمانوں کا دوزخ میں جانا وارد ہو ااور نہ ہی یہ آیاتِ کریمہ سب مسلمانوں کے سب گناہوں کی ایسی بخشش کیلئے دعا کو جائز قرار دیتی ہیں کہ اصلاً کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے ۔
[12] یہاں افعال سے مراد وہ ہیں کہ جو فرشتوں سے صادر ہوئے یعنی تمام زمین والوں کیلئے بخشش کی دعا کرنا ۔ تو اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ ان کے افعال کی طرح ہمیں بھی وہی فعل کرنا یعنی تمام مسلمانوں کے سب گناہوں کی ایسی مغفرت طلب کرنا کہ اصلاً کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے ، جائز نہیں کہ یہ انہیں کا خاصہ ہے ، اوراگر بالفرض یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ ہمارے حق میں بھی وہ افعال جائز ہیں تو پھر ہم یہ کہیں گے کہ اس جگہ خصوص مراد ہے یعنی زمین والوں سے مراد یہاں سب زمین والے نہیں بلکہ بعض مراد ہیں اوریوں بھی کہا جاسکتاہے کہ سب زمین والے ہی مراد ہیں مگر ان سب کے تمام گناہوں کی ایسی بخشش مراد نہیں کہ اصلاً کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے بلکہ تمام مسلمانوں کیلئے فی الجملہ مغفرت طلب کی گئی ہے اور تمام مسلمانوں کیلئے فی الجملہ مغفرت اور بعض پر بعض گناہوں کے سبب عذاب ہونے میں کوئی تضاد نہیں ۔
[13] ہاں یہ دعا کہ ’’اے اللہ! میری اور تمام مسلمانوں کی بخشش فرما‘‘ اگر اس میں نیت یہ نہ ہو کہ تمام مسلمانوں کے تمام گناہوں کی بخشش ہو جائے ، تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔
[14] یہ امام قرافی کے کلام کا خلاصہ ہے جسے علامہ حلبی نے ’’شرح منیہ‘‘ میں ذکر کیا۔
[15] یعنی : یہ مسئلہ کہ ’’تمام مسلمانوں کے تمام گناہوں کی بخشش ہو جائے ‘‘ اس میں علمائے کرام کا اختلاف ہے علامہ قرافی وغیرہ اسے ناجائز کہتے ہیں جبکہ علامہ کرمانی نے اس میں اختلاف کیا جس کا محقق حلبی نے ’’شرح منیہ‘‘ میں رَدّ فرمایا پھر محقق حلبی نے اس کے جواز کی طرف مائل ہوتے ہوئے یہ تاویل کی کہ خلفِ وعید بمعنی عطا ومغفرت، مسلمانوں کے حق میں جائز بلکہ قطعاً واقع ہے ، نیز اس دعا میں مسلمانوں پر شفقت بھی ہے اور دعا کا جواز، مغفرت کے جائز ہونے پر ہے نہ کہ اس کے واقع ہو جانے پر، تو وہ احادیث کریمہ جن میں تمام گناہوں کی مغفرت کا واقع نہ ہونا وارد ہوا، وہ احادیث کریمہ اس جوازِ مغفرت کے خلاف نہیں ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع