30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تصانیفِ شریفہ اس جناب کی سب علومِ دین میں ہیں نافعِ مسلمین ودافعِ مفسدین والحمد للّٰہ رَبِّ العالمین از انجملہ’’الکلام الأوضح في تفسیر سورۃ ألم نشرح‘‘کہ مجلدِ کبیر ہے علومِ کثیرہ پر مشتمل ’’وسیلۃ النجاۃ‘‘ جس کا موضوع ذکرِ حالات سید کائنات ہے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجلد وسیط’’سرور القلوب في ذکر المحبوب‘‘کہ مطبع نَوَل کِشور میں چھپی، ’’جواہرالبیان في أسرار الأرکان‘‘جس کی خوبی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔
ع ذوق ایں می نشناسی بخدا تانہ چشی ؎([1])
فقیر غَفَرَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَہٗ نے صرف اس کے ڈھائی صفحوں کی شرح میں ایک رسالہ مسمّٰی بہ’’زواہر الجنان من جواہر البیان‘‘ ملقب بنام تاریخی ’’سلطنۃ المصطفی في ملکوت کُلِّ الوری‘‘ تالیف کیا ، ’’أصول الرَّشاد لقمع مباني الفساد‘‘ جس میں وہ قواعد ایضاح واثبات جن کے بعد نہیں مگر سنّت کو قوت اور بدعتِ نجدیہ کو موتِ حسرت، ’’ہدایۃ البریۃ إلی الشریعۃ الأحمدیۃ‘‘کہ دس فرقوں کارَدّ ہے یہ کتابیں مطبع صبح صادق سیتاپورمیں طبع ہوئیں ، ’’ إذاقۃ الأثام لمعاني عمل المولد والقیام‘‘کہ اپنی شان میں اپنا نظیر نہیں رکھتی اور اِنْ شَآءَ اللہ الْعَزِیْز عنقریب شائع ہوگی ([2])؎ ، ’’فضل العلم والعلماء‘‘ایک مختصر رسالہ کہ بریلی میں طبع ہوا ، ’’إزالۃ الأوہام‘‘ردِّ نجدیّہ، ’’تزکیۃ الإیقان ردِّ تقویۃ الإیمان‘‘ کہ یہ عشرۂ کاملہ زمانۂ حضرت مُصَنِّف قدس سرہ میں تبییض پاچکا، ’’الکواکب الزہراء في فضائل العلم وآداب العلماء‘‘جس کی تخریجِ احادیث میں فقیر غَفَرَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَہٗ نے رسالہ : ’’النجوم الثواقب في تخریج أحادیث الکواکب‘‘ لکھا، ’’الروایۃ الرویۃ في الأخلاق النبویّۃ‘‘، ’’النقادۃ النقویۃ في الخصائص النبویّۃ‘‘، ’’ لمعۃ النبراس في آداب الأکل واللباس‘‘، ’’التمکُّن في تحقیق مسائل التزیُّن‘‘، ’’أحسن الوعاء لآداب الدعاء‘‘، ’’ خیر المخاطبۃ في المحاسبۃ والمراقبۃ‘‘، ’’ہدایۃ المشتاق إلی سیرالأنفس والآفاق‘‘، ’’إرشاد الأحباب إلی آداب الاحتساب‘‘، ’’أجمل الفکر في مباحث الذکر‘‘، ’’عین المشاہدۃ لحسن المجاہدۃ‘‘، ’’تشوّق الأداۃ إلی طریق محبّۃ اللّٰہ‘‘، ’’نہایۃ السعادۃ في تحقیق الہمۃ والإرادۃ‘‘، ’’أقوی الذریعۃ إلی تحقیق الطریقۃ والشریعۃ‘‘، ’’ترویج الأرواح في تفسیرالانشراح‘‘ ان پندرہ رسائل مابین وجیزووسیط کے مسوّدات موجود ہیں جن کی تبییض کی فرصت حضرت مُصنِّف قدس سرہ نے نہ پائی فقیر غفر اللہ تعالی لہ کا قصد ہے کہ انہیں صاف کرکے ایک مجلد میں طبع کرائے اِنْ شَآءَاللہ سبحانہ وتعالیٰ
ع کہ حلوا بہ تنہا نباید خورد ؎([3])
ان کے سوا اور تصانیف شریفہ کے مُسَوَّدے بستوں میں ملتے ہیں مگر منتشر جن کے اجزا اَوّل، آخر یاوسط سے گم ہیں ان کے بارے میں حسرت ومجبوری ہے ۔
غرض عمر اس جناب کے ترویجِ دین وہدایتِ مسلمین ونکاتِ اعدا وحمایتِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں گزری جَزَاہُ اللّٰہُ مِنَ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِیْنَ خَیْرَجَزَاءٍ آمین$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع