30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متعدد احادیث میں ارشاد ہوا کہ ’’اس کی(یعنی مسافر کی) دعا ضرور مستجاب ہے ، جس میں کچھ شک نہیں ۔ ‘‘
رواہ أحمد والبخاري في ’’الأدب المفرد‘‘ وأبو داود والترمذي عن أبي ہریرۃ ومنھا حدیث ابن ماجہ والضیاء المذکوران۔([1])
بزار کے یہاں حدیثِ ابو ہریرہ ان الفاظ سے ہے : ’’تین شخص ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حق ہے کہ ان کی کوئی دعا رَدّ نہ کرے : روزہ دار تا افطار اور مظلوم تا انتقام اور مسافر تا رجوع۔‘‘)([2])
ہَفْتُم(۷) : روزہ دار۔
قال الرضاء : خصوصاً وقتِ افطار۔)
ہَشْتُم(۸) : مسلمان کہ مسلمان کے لیے اس کی غَیْبَت (غیر موجودگی) میں دُعا مانگے ۔
قال الرضاء : حدیث شر یف میں ہے :
’’یہ دعا نہایت جلد قبول ہوتی ہے ۔ ‘‘فرشتے کہتے ہیں ـ :
((آمین ولک بمثل ذالک))۔
’’اس کے حق میں تیری دعا قبول اور تجھے بھی اسی طرح کی نعمت حصول۔‘‘([3])
دوسری حدیث میں فرمایا :
’’یہ دعا حاجی وغازی ومریض ومظلوم کی دعاؤں سے بھی زیادہ جلد قبول ہوتی ہے ۔‘‘
البیھقي في ’’الشعب‘‘ بسند صالح عن ابن عباس رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما : ((خمس دعوات یستجاب لھن)) فذکرھن وقال : ((وأسرع ھذہ الدعوات إجابۃ دعوۃ الأخ لأخیہ بظھر الغیب))۔ ([4])
بلکہ تیسری حدیث میں ارشاد ہوا کہ ’’اس سے زیادہ جلد قبول ہونے والی کوئی دعا نہیں ۔‘‘
رواہ الترمذي عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما ونحوہ للطبراني وغیرہ عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما۔([5])
چوتھی حدیث شریف میں آیا : ’’یہ دعا رَدّ نہیں ہوتی۔‘‘
البزار عن عمران بن حصین رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما۔([6])
نَہُم (۹) : قال الرضاء : والدین کی دعا اپنی اولاد کے حق میں ، ایک حدیث شریف ذکر کی جاتی ہے کہ ’’یہ دعا اُمت کے لیے دعا ئے نبی کے مثل ہوتی ہے ۔‘‘
رواہ الدیلمي عن أنس رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ۔([7])
دَہُم (۱۰) : قال الرضاء : اولاد کی دعا والدین کے حق میں ۔
[1] اس حدیث کو امام احمدنے ’’ مسند احمد‘‘میں اور بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں اور ابو داؤد وترمذی نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا، اور ان متعدد احادیث میں سے ابن ماجہ اور ضیاء کی روایت کردہ مذکورہ بالا حدیث مبارکہ بھی ہے ۔
’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث : ۷۵۱۳، ج۳، ص۷۱۔
و’’الأدب المفرد‘‘، باب دعوۃ الوالدین، الحدیث : ۳۲، ص۱۹۔
[2] ’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث : ۳۳۱۶، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۴، (بحوالہ بزار)۔
[3] ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصلاۃ، باب الدعاء بظھر الغیب، الحدیث : ۱۵۳۴-۱۵۳۵، ج۲، ص۱۲۶-۱۲۷۔
و’’صحیح مسلم‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع