30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وغیرھما۔)([1])
مسئلہ ۷ : بے غرض صحیح شرعی کسی کے مرنے اور خرابی کی دعا نہ مانگے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :
((إذا سمعتم الرجل یقول ھلک الناس فھو أَھلکُھم))۔
’’جب سنو تم کسی مرد کو کہ کہتا ہے لوگ ہلاک ہو؎([2])ں تو وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۔‘‘([3])
حدیث شریف میں ہے : ایک شرابی کو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس حاضر لائے حضور نے حدمارنے کا حکم دیا کوئی اس کے دَھول مارتا(یعنی تھپڑ لگاتا)، کوئی جوتے ، فرمایا : ’’اس کی ملامت کرو‘‘ کسی نے کہا : تجھ کو خدا کا خوف نہ آیا، کسی نے کہا : تو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نہ شرمایا، ایک نے کہا : أَخْزَاکَ اللّٰہُ ’’خدا تجھے خوار کرے ‘‘
فرمایا : ’’یہ نہ کہو بلکہ کہو : ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ))’’خدایا !ا س کو بخش دے ، خدایا! اس پر رحم فرما۔‘‘([4])
طفیل بن عمرو دَوسی نے اپنی قوم کی شکایت کی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! دَوس پر دعا کیجئے ([5]) فرمایا :
((اللّٰھم اھد دَوساً وآت بھم))
’’خدایا! دَوس کو ہدایت فرماا ور ان کو یہاں لے آ۔‘‘([6])
اسی طرح جب ثقیف([7])کے پتھروں سے بہت مسلمان شہید ہوئے صحابہ نے
گزارش کی ان پر دعا کیجئے ۔ فرمایا :
((اَللّٰھُمَّ اھْدِ ثَقِیْفاً))
’’خدایا! ثقیف کو ہدایت فرما۔‘‘([8])
جنگ اُحد میں ظالموں نے دندانِ مبارک سنگ ستم سے شہید کیا اور کفارِ طائف نے حضور کے جسمِ نازنین پر اس قدر پتھر مارے کہ پاشْنۂ مبارک (یعنی ایڑیاں مبارک) خون سے آلودہ ہوئے مگر ان پر بھی دعائے ہلاک وخرابی نہ کی حضور اگر چاہتے وہ سب ہلاک ہو جاتے ۔
[1] ’’الدر المختار‘‘، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹، ص۶۹۱۔
و’’خلاصۃ الفتاوی‘‘، کتاب الکراہیۃ، الفصل الثاني في العبادات، ج۴، ص۳۴۰۔
و’’الہندیۃ‘‘، کتاب الکراہیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج۵، ص۳۷۹۔
[2] یعنی جو شخص اوروں کی ہلاکت وخرابی چاہتا ہے وہ سب سے زیادہ ہلاک وخراب ہوتا ہے اور بعض ھلک الناسکو جملہ خبریہ کہتے ہیں ۔ یعنی جو اوروں کو ہلاکت میں مبتلا وبرا اور اپنے آپ کو ان سے بڑا جانتا ہے ، وہ سب سے زیادہ ہلاکت میں مبتلا اور برا ہے ۔ واللّٰہ أعلم بالصواب ۱۲ منہ قدس سرہ
[3] ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث : ۷۶۸۹، ج۳، ص۱۰۲۔
[4] ’’سنن أبي داود‘‘، باب في الحد في الخمر، الحدیث : ۴۴۷۷-۴۴۷۸، ج۴، ص۲۱۶-۲۱۷۔
[5] حضرت طفیل بن عمرو دوسی یمن کے مشہور قبیلے دوس کے فرد تھے ، یہ مکے ہی میں خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوچکے تھے ، اور اس کے بعد اپنے وطن واپس گئے اور عرصہ تک وہیں رہے ، خیبر کے موقع پر اپنے متبعین کے ساتھ خیبر ہی میں حاضر ہوئے پھر مدینہ طیبہ میں رہنے لگے ، جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے ، ان کا خطاب ’’ذوالنور‘‘ بھی ہے ، انہوں نے اسلام قبول کرتے وقت یہ عرض کیا تھا : مجھے دوس کی طرف بھیجئے اور مجھے کوئی نشانی عطا فرمائیے جس سے اُنھیں ہدایت نصیب ہو، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی : اے اللہ! اسے نور عطافرما، اس دعا کی برکت سے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور چمکتا تھا، انہوں نے عرض کی : مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ یہ کہیں کہ اس کی صورت بگڑ گئی ہے تو یہ روشنی ان کے کوڑے کے کنارے منتقل ہوگئی، ان کا کوڑا اندھیری رات میں چمکتا تھا اسی لئے ان کا نام ’’ذو النور‘‘پڑا۔ ان کی یہ عرضداشت (یعنی دوس کی ہلاکت کی دعاکی درخواست )دوبارہ حاضری کے موقع پر تھی جب کہ وہ خیبر میں اپنے اسی۸۰ یانوے ۹۰ ساتھیوں کے ساتھ خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے تھے ، انہوں نے یہ بھی عرض کیاتھا کہ دوس میں زنا اور سود عام ہے ان کی ہلاکت کی دعا کیجئے (تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کی ہدایت کی دعا فرمائی)۔
(’’نزہۃ القاري‘‘، کتاب الجہاد، باب الدعا ء علی المشرکین إلخ، ج۶، ص۲۲۷)
[6] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الجھاد، باب الدعاء للمشرکین بالھدی لیتألفہم، الحدیث : ۲۹۳۷، ج۲، ص۲۹۱۔
[7] یہ بھی عرب کے ایک قبیلے کا نام ہے ۔
حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ طائف کا قصد کیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہاں پہنچ کر اشرافِ ثقیف یعنی عبد یالِیل بن عمرو بن عمیر اور اس کے بھائی مسعود اورحبیب کو اسلام کی دعوت دی مگر انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعوت کا بُری طرح جواب دیا ، ایک بولا : اگر آپ کو خدا نے پیغمبربنایا ہے تو وہ کعبہ کا پردہ چاک کررہاہے ، دوسرے نے کہا : کیا خدا کو پیغمبری کے لئے آپ کے سوا کوئی نہ ملا؟، تیسرے نے کہا : میں ہرگز آپ سے کلام نہیں کرسکتا، اگر آپ پیغمبری کے دعویٰ میں سچے ہیں تو آپ سے گفتگو کرنا خلافِ ادب ہے اور اگر جھوٹے ہیں تو قابلِ خطاب نہیں ، جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مایوس ہوکر واپس ہوئے تو انہوں نے کمینے لوگوں اور غلاموں کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ابھارا جو آپ کیلئے انتہائی نازیبا اور گستاخانہ الفاظ کہتے اور تالیاں بجاتے ، اتنے میں لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دونوں طرف صفیں باندھ لیں جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ درمیان سے گزرے تو قدم مبارک اٹھاتے وقت آپ کے مقدس قدموں پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ نعلین مبارک خون سے بھرگئے ، جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پتھروں کا صدمہ پہنچتا تو بیٹھ جاتے ، مگر وہ بازو تھام کر کھڑا کردیتے ، جب چلنے لگتے تو پتھر برساتے اور ساتھ ساتھ ہنستے جاتے ، عتبہ اور شیبہ آپ کے سخت دشمن تھے مگر آپ کی اس حالت پر ان کے دل بھی نرم پڑگئے ۔
(ماخوذ من’’السیرۃ الحلبیۃ‘‘، باب ذکر خروج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی الطائف، ج۱، ص۴۹۸-۴۹۹۔ و’’السیرۃ النبویۃ‘‘ لابن ہشام، ص۱۶۷)
[8] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب المناقب، باب في ثقیف وبني حنفیۃ، الحدیث : ۳۹۶۸، ج۵، ص۴۹۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع