30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’جیسے کوئی اپنے ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے کہ پانی خود اس کے منہ میں پہنچ جائے اور ہر گز نہ پہنچے گا۔‘‘
(پ۱۳، الرعد : ۱۴)۔
مسئلہ۲ : لغو اور بے فائدہ دعا نہ کرے ۔
ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما حکایت کرتے ہیں : بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا سنوسؔ ([1])نامی، اُسے حکم ہوا کہ تین۳ دعائیں تیری قبول ہوں گی اپنی عورت کے لیے دعا کی تمام بنی اسرائیل کی عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہوگئی غرور وشرور کرنے اور شوہر کو ستانے لگی ایک دن اس سے خفا ہو کر کہا : خدا تجھے کُتیا کر دے اسی وقت کُتیا ہو گئی پھر بیٹوں کی سفارش سے اس کے لیے دعا کی : الٰہی! اسے اصلی صورت پر کر دے جو صورت پہلے تھی وہی ہو گئی اور تینوں دعائیں مفت ضائع ہوئیں ۔([2])
مسئلہ ۳ : گناہ کی دعا نہ کرے کہ مجھے پرایا مال مل جائے یاکوئی فاحشہ زنا کرے کہ گناہ کی طلب بھی گناہ ہے ۔
مسئلہ۴ : قطعِ رِحم (یعنی عزیزوں سے تعلّق توڑنے )کی دعانہ کرے ، مثلاً : فلاں وفلاں رشتہ داروں میں لڑائی ہو جائے ۔
حدیث میں ہے : ’’مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے ، جب تک ظلم وقطع رحم کی درخواست نہ کرے ۔([3])
قال الرضاء : قطع رحم بھی ایک قسمِ اِثْم ہے (یعنی گناہ کی قسم ہے )، جسے بوجہِ شدتِ اہتمام احادیث، باب میں اثم پر عطف فرمایا : ((ما لم یدع بإثم أو قطیعۃ رحم)) (جب تک گناہ یاقطع رحم کی دعا نہ کرے ) ([4]) اسی لیے مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہٗ نے باتباعِ احادیث اسے مسئلہ جداگانہ ٹھہرایا۔)
مسئلہ۵ : اللہ تعالیٰ سے حقیر چیز نہ مانگے کہ پروردگار غنی ہے ، اگر تمام خَلق کو ایک ساعت میں ان کے حوصلے سے زیادہ بخشے ، اس کے خزانے میں کچھ نقصان نہ ہو۔
حضرت اِمام المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’جب مانگو خدا سے تو فردوس مانگو کہ وہ اَوسط بہِشت اور اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر ہے عرش رحمن کا، اور اسی سے جاری ہوتی ہیں نہریں بِہِشت کی۔‘‘([5])
اور یہ بھی آیاہے : ’’جب تو دعا مانگے بہت مانگ کہ تو کریم سے مانگتا ہے ۔‘‘([6])
اے عزیز! وہ کریم ورحیم ہے ، بے مانگے کروڑوں نعمتیں تیرے حوصلہ ولیاقت سے زیادہ تجھے عطا کرتا ہے ۔اگر تو اس سے مانگے گا کیا کچھ نہ پائے گا۔ ولنعم ما قیل (اور کیا ہی خوب کہا گیا ہے ) ؎
آنکہ ناخواستہ عطا بخشد
گر تو خواہش کنی چہابخشد([7])
بادشاہ ہے ست او اگر خواہد
ہر دو عالم بیک گدا بخشد([8])
اور وہ جو حدیث میں ہے کہ ’’جوتے کا دُوال(تسمہ) ٹوٹے تو وہ بھی خدا سے مانگ‘‘([9]) اور بعض مخاطباتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام میں ہے : ’’ہانڈی کا نمک بھی مجھ سے مانگ۔‘‘([10]) مطلب اس کا یہ ہے کہ تمام توجہ اپنی میری طرف رکھ غیر سے اصلاً تعلق نہ کر، جو مانگ مجھ ہی سے مانگ، اگر اَحیاناً(کبھی کبھار) کسی خسیس (کمتر اورحقیر) چیز کی ضرورت ہو، مجھ سے سوال کر نہ یہ کہ خسیس ہی سوال کیا کر، اور تحقیق یہ ہے کہ یہ امر باختلافِ احوال مختلف ہے جس وقت خدا کے عموم کرم وقدرت اور اپنی عاجزی واحتیاج پر نظر ہو اور باوجود اس کے خسیس حقیر چیز کی ضرورت ہو، دوسرے سے سوال کرنا اور غیر کے سامنے ہاتھ پھیلانا قبول نہ کرے ، اس قسم کا سوال خدا سے مضائقہ نہیں رکھتا، ہاں بِلا ضرورت خسیس چیز مانگنا حماقت ہے ، عمدہ شئے مانگے کہ خدا کریم ہے اور ہر چیز پر قادر۔
قال الرضاء : دنیا ذلیل اور اس کی تمام متاع بآں کثرت (باوجود بہت ہونے کے ) نہایت قلیل { قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ-}([11]) وہ مسلمان کے لیے زادِ مسافر (توشۂ مسافر) ہے
[1] قد وجدنا اسمہ : بسوس۔
[2] ’’تفسیر البغوي‘‘، الأعراف، تحت الآیۃ : ۱۷۵، ج۲، ص۱۸۰۔
و’’تفسیر الخازن‘‘، الأعراف، تحت الآیۃ : ۱۷۵، ج۲، ص۱۶۰۔
[3] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب ما جاء أنّ دعوۃ المسلم مستجابۃ، الحدیث : ۳۳۹۲، ج۵، ص۲۴۸۔
[4] المرجع السابق۔
[5] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التوحید، باب : {وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاء}، الحدیث : ۷۴۲۳، ج۴، ص۵۴۷۔
[6] ’’صحیح ابن حبان‘‘، کتاب الأدعیۃ، ذکر استحباب الإکثار في السؤال إلخ، الحدیث : ۸۸۶، ج۲، ص۱۲۴، بألفاظ متقاربۃ۔
[7] ع بن مانگے عطا فرماتا ہے محروم کبھی پھیرا ہی نہیں
فریاد اگر تو کرلے کبھی پھر دیکھو عطاؤں کی بارش
[8] ع تو بادشاہ ہے اے مرے مالک !گدا کو تُو
اگر چاہے عطا کر دے دو عالَم آنِ واحد میں
[9] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب لیسأل أحدکم ربہ حاجتہ کلھا، الحدیث : ۳۶۲۳، ج۵، ص۳۴۹۔
[10] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب لیسأل أحدکم ربہ حاجتہ کلھا، الحدیث : ۳۶۲۴، ج۵، ص۳۴۹۔
[11] ترجمۂ کنز الایمان : ’’تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے ۔‘‘(پ۵، النساء : ۷۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع