30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مانگے ۔ { اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۱۹۰)}۔([1])
قال الرضاء : ’’دُرّ ِمختار‘‘ وغیرہ میں اسی قبیل سے گِنا : ہمیشہ کے لئے تندرستی وعافیت مانگنا کہ آدمی کا عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکلیف میں نہ پڑنا بھی محال عادی([2]) ہے ۔([3])
أقول : مگر حدیث شریف میں ہے :
((اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ وَتَمَامَ الْعَافِیَۃِ وَدَوَامَ الْعَافِیَۃِ))۔
’’اِلٰہی! میں تجھ سے مانگتا ہوں عافیت اور عافیت کی تمامی اور عافیت کی ہمیشگی۔‘‘([4])
مگر یہ کہ ’’تَمَامَ الْعَافِیَۃِ‘‘ سے دین ودنیا وروح وجسم کی عافیت ہر بَلاسے مراد ہو جو حقیقۃً بَلا ہے ، یا ناقابلِ برداشت اگرچہ بنظر اجر وجزا، نعمت وعطا ہے ۔([5]) دِین میں عقیدۃً وعملاً کسی قسم کا نَقص مطلقاً بَلا ہے اور روح پر غم وفکرِ عُقبیٰ کے سوا (آخرت کی فکر کے علاوہ) اور ہر غم وپریشانی مطلقاً رنج وعَنا ہے (یعنی رنج وتکلیف ہے ) اور جسم کے حق میں کبھی کبھی ہلکا بخار، زکام، دردِ سر اور ان کے مثل ہلکے امراض بَلا نہیں نعمت ہیں بلکہ ان کا نہ ہونا بَلا ہے مردانِ خدا پر اگر چالیس دن گزریں کہ کوئی عِلّت وقِلّت نہ پہنچے (یعنی بیماری وپریشانی نہ آئے ) تو اِستغفار واِنابت فرماتے ہیں (یعنی توبہ کرتے اوررجوع لاتے ہیں ) کہ مَبادا باگ ڈھیلی نہ کردی گئی ہو(یعنی خدانخواستہ توجہ نہ ہٹالی گئی ہو)۔ ہاں ! سخت امراض مثل جُنون وجُذام وبَرَص وکُوری (اندھا پن) وطاعون([6])یا سانپ کا کاٹنا، جلنا ، ڈوبنا، دبنا، گِرنا وأمثال ذلک (اور اسی کی مثل دوسری بیماریاں ) اگرچہ مسلمان کے کفارۂ ذُنوب (یعنی گناہوں کا کفارہ ) وباعثِ اجر وشہادت ورحمت ہیں ضرور بَلااور { لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-}([7])میں
داخل ہیں ۔ ولہٰذا ان سے عافیت مانگی گئی اور اسی لیے حدیث شریف میں : ((أَعُوْذُ بِکَ مِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ)) ([8]) بُرے امراض کی قید لگا کر پناہ طلب کی تو ’’تَمَامَ الْعَافِیَۃِ وَدَوَام‘‘ کا یہی مَحْمَل اور کلامِ فقہاء سے تنافی زائل([9])
اسی طرح علامہ قرافی وعلامہ لقانی وغیرہما نے اسی سے شمار کیا : دونوں جہاں کی بھلائی مانگنا یعنی اگر یہ مقصود ہو کہ دارین کی سب خوبیاں دے کہ ان خوبیوں میں مراتبِ اَنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام بھی ہیں جو اسے نہیں مل سکتے ۔)([10])
اور اسی میں داخل ہے ایسے اَمْرکے بدلنے کی دعا مانگنا جس پر قلم جاری ہو چکا، مثلاً : لمبا آدمی کہے : میرا قد کم ہو جائے ، یا چھوٹی آنکھوں والا : میری آنکھیں بڑی ہو جائیں ۔
قال الرضاء : اگرچہ محالِ عقلی کے سوا کہ اصلا ًصلاحیت ِقدرت نہیں رکھتا، سب کچھ زیر قدرتِ الٰہیہ داخل ہے ۔ مگر خلافِ عادت بات کی خواستگاری (درخواست) صرف حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلاۃ والسلامکو وقت اِظہار معجزہ وکرامت بغرضِ ارشاد وہدایت واِتمامِ حُجَّت (لوگوں کی ہدایت اور ان پر حجت قائم کرنے کے کیلئے ) باذن اللہ تعالیٰ جائز ہے ۔ اوروں کا عالَمِ اسباب میں ہو کر ایسی بات مانگنا اپنی حد سے بڑھنا اور جہل وسفاہت میں پڑناہے ۔ { كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖؕ-ٖ}
[1] ترجمۂ کنز الایمان : ’’اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔‘‘ (پ : ۲، البقرۃ : ۱۹۰)
[2] محال عادی سے مراد یہ ہے کہ عموماً یا عادتاً ایسا ہوتا نہ ہو مگر اس کا ہونا نا ممکن بھی نہ ہو، کبھی کسی حکمت کے تحت ہو بھی سکتا ہو، مثلاً کسی شخص کا ہمیشہ کیلئے صحت مند رہنا بیمار نہ پڑنا۔
[3] ’’الدرّ المختار‘‘، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۲۸۷۔
[4] ’’جامع الأحادیث‘‘ للسیوطي، المسانید والمراسیل، مسند علي بن أبي طالب، الحدیث : ۶۰۲۸، ج۱۵، ص۳۴۳۔
[5] مگر یہ کہ یہاں حدیثِ پاک میں ’’تَمَامَ الْعَافِیَۃِ‘‘سے دین ودنیااورجسم وروح کا ہر بَلا سے محفوظ ہونا مراد ہے یا پھرناقابلِ برداشت بلاؤں سے محفوظ ہونا مراد ہے اگرچہ اس پر صبر کرنا بھی اجر وثواب کاباعث ہے ، مختصر یہ کہ ’’تَمَامَ الْعَافِیَۃِ‘‘ سے ہر طرح کی بَلا سے محفوظ ہونا ہرگز مراد نہیں کیونکہ بعض بلائیں ، مثلاً : ہلکا بخار، زکام اور دردِ سر وغیرہ مصیبت وبَلا نہیں بلکہ ایک طرح کی نعمت ہیں جیساکہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ آگے خود وضاحت فرمارہے ہیں ۔
[6] جنون : ’’جنون ایسے دماغی خلل اور حرج کو کہتے ہیں کہ عام طور پر اپنے معمول کے مطابق آدمی کے اقوال وافعال باقی نہ رہ سکیں ، چاہے یہ کیفیت فطری اور پیدائشی طور پر ہو، یابعد میں کسی مرض کی بناء پر۔‘‘(’’القاموس الفقہي‘‘، ص۶۹)
جذام(کوڑھ) : ’’ایک مرض جس میں بدن سفید ہوجاتاہے مرض کی شدت میں اعضابھی گَل جاتے ہیں ‘‘۔ (’’اردو لغت‘‘، ج۶، ص۵۵۴)
برص : ـ وہ شدید سفیدی جو مکمل بدن یااسکے بعض حصوں پر ہوتی ہے جو تمام بدن میں سرایت کرجاتی اور بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ سفیدی تمام بدن کو گھیر لیتی ہے ، یہ کمزور اور اپاہج کردینے والی بیماری ہے ۔
(’’الرحمۃ في الطب والحکمۃ‘‘ للسیوطي، الباب الثامن والأربعون والمئۃ، ص۱۷۵)
طاعون : ایک وبائی بیماری جس میں ایک پھوڑا بغل یا جانگھ (یعنی ران)میں نکلتاہے اوراس کے زہر سے انسان بہت کم جانبر ہوتاہے ، اس میں عموماً قے ، غشی اور خفقان(ایک بیماری جس میں دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ) کا غلبہ رہتاہے ۔(’’اردو لغت‘‘، ج۱۳، ص۵۳)
طاعون سے بھاگنے سے متعلق امام اہلسنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا رسالہ : ’’تیسر الماعون للسکن في الطاعون‘‘ فتاویٰ رضویہ کی جلد ۲۴ صفحہ ۲۸۵ پر ملاحظہ فرمائیں۔
[7] ترجمۂ کنز الایمان : ’’ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سَہار (برداشت)نہ ہو۔‘‘(پ۳، البقرۃ : ۲۸۶)
[8] یعنی اے اللہ! میں برے امراض سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ۔
’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الوتر، باب في الاستعاذۃ، الحدیث : ۱۵۵۴، ج۲، ص۱۳۲۔
[9] ہماری مذکورہ بالا بحث سے وہ حدیث پاک جس میں ’’اِلٰہی! میں تجھ سے مانگتا ہوں عافیت اور عافیت کی تمامی اور عافیت کی ہمیشگی‘‘ فرمایا گیا اور کلامِ فقہاء جو ابھی’’دُرِّ مختار‘‘ کے حوالے سے گزرا ’’کہ ہمیشہ کے لئے تندرستی وعافیت مانگنا کہ آدمی کا عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکلیف میں نہ پڑنا بھی محال عادی ہے ‘‘کے مابین پیدا ہونے والا یہ ظاہری تعارض دور ہوگیا اور یہی ’’تَمَامَ الْعَافِیَۃ‘‘ کا مفہوم ہے کہ ناقابلِ برداشت بَلاؤں سے حفاظت رہے ۔
[10] ’’أنوار البروق‘‘، الفرق الثالث والسبعون والمائتان، القسم الثاني، ج۴، ص۴۵۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع