30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’طریقۂ محمدیہ‘‘ میں ہے : سِوا ایسے کافر کے کسی شخص معیَّن پر لعنت جائز نہیں ۔([1]) یہاں تک کہ بہت محققین علماء ؎[2] یزیدپر لعنت میں توقف کرتے ہیں باوجود اس کے کہ اس کے لشکر نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نواسے اوراَعزّہ واَہلِ بَیت کو ہزاروں بے رحمیوں اورسنگدلیوں کے ساتھ شہید کیا اورکوئی دقیقہ ؎([3]) ہِتکِ حرمتِ حرم کا باقی نہ چھوڑا ۔
اصل اس باب میں یہ ہے کہ لعنت کرنا کسی پر ثواب نہیں اگر کوئی شخص دن بھر شیطان پر لعنت کرتا رہے ، کیا فائدہ حاصل ہو ؎[4] اس سے یہ بہتر ہے کہ اس قدر وقت ذکر
[1] ’’الطریقۃ المحمدیۃ‘‘، المبحث الأول، النوع التاسع، ج۲، ص۲۳۰-۲۳۱۔
[2] علماء، یزید کی تکفیر اوراس کی لعن کے بارے میں تین گروہ ہیں :
امام احمد اسے کافر اورلعنت اس پر جائز کہتے ہیں ؛ اس لئے کہ اس نے امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد کہا : ’’میں نے ان کو اس کا بدلہ دیا جو انہوں نے قریش کے بزرگوں اورسرداروں کے ساتھ جنگ بدر میں کیا تھا‘‘اوریہ بات فی الواقع کفر ہے ، سوا اِس کے اورافعال واقوال اس رُوسِیاہ سے منقول ہیں جو کفر وارتداد پر صریح دال ہوں ، شراب اورحرام کاری اس کے وقت میں علانیہ جاری ہوئی اور بے حرمتی حرمین شریفین اوروہاں کے باشندوں کی اس کے لشکر کے ہاتھ سے واقع ہوئی ۔
(انظر ’’منح الروض الأزہر‘‘، الکبیرۃ لا تخرج عن الإیمان، ص۷۳، و’’الصواعق المحرقۃ‘‘، الخاتمۃ في بیان اعتقاد أہل السنۃ إلخ، ص۲۲۰)
اوربعض علماء اس کی تکفیر ولعن سے انکار کرتے اورکہتے ہیں : اجازت ان حرکتوں اورامام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قتل کی اس سے بدلیلِ قطعی ثابت نہیں اوریہ کلمہ کہ’’ میں نے ان سے جنگ بدر کا بدلہ لیا‘‘، برتقدیر ثبوت ، اَحاد کے مرتبہ سے متجاوز نہیں ہوسکتا والیقین لایزول إلاّ بیقین مثلہ (اور یقینی بات کو رد کرنے کیلئے اسی کی مثل یقینی بات درکار ہوتی ہے )کما تقرر في موضعہ ۔
غایت کار اس کا یہ ہے کہ فاسق وفاجر تھاا وراحکام شرعیہ پر قائم نہ تھا اورفاسق پر لعنت جائز نہیں ۔
فاضل قونوی ’’شرح عمدۃ النسفی‘‘ میں لکھتے ہیں : صاحبِ کبیرہ پر لعنت نہ کی جائے کہ ایمان اس کا اس کے ساتھ ہے ، ارتکابِ کبیرہ سے کم نہیں ہوتا اورمسلمان پرلعنت جائز نہیں ۔(’’منح الروض الأزہر‘‘، الکبیرۃ لا تخرج عن الإیمان، ص۷۳، (نقلاً عن القونوي)۔)
ملا علی قاری ’’شرح فقہ اکبر ‘‘میں قولِ شارح ’’عقائد‘‘ کا یعنی : نحن لا نتوقف في شأنہ بل في إیمانہ فلعنۃ اللّٰہ علیہ وعلٰی أنصارہ وأعوانہ مع اس کے دلائل کے رَد کرتے ہیں اور’’خلاصہ‘‘ وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حجاج ویزید پر لعنت کرنا نہ چاہیے اس لئے کہ پیغمبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اہل قبلہ کی لعنت سے ممانعت فرمائی ہے اورجو کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے لعنت کرنا بعض اہل قبلہ پر منقول ہے ؛ اس سبب سے ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام لوگوں کا حال جانتے تھے اورلوگ نہیں جانتے شاید وہ شخص منافق ہو یا بَاِعلامِ الٰہی اس کا کفر پر مرنا معلوم ہو۔
(’’منح الروض الأزہر‘‘، الکبیرۃ لا تخرج عن الإیمان، ص۷۲-۷۳، ملتقطاً۔)
امام غزالی ’’احیاء العلوم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حکم یزید کا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قتل کیلئے اصلاً ثابت نہیں اور بلا تحقیقات مسلمان کی طرف نسبت کبیرہ کی جائز نہیں إلی أن قال : لعنِ اشخاص میں خطر ہے پس اجتناب چاہئے اور ترکِ لعن ابلیس میں بھی خطر نہیں فضلًا عن غیرہ (جب ابلیس کولعنت نہ کرنے میں ایمان کو کوئی خطرہ نہیں تودوسروں کو لعنت نہ کرنے میں ایمان کوخطرہ کیسے ہوسکتاہے !) واللّٰہ تعالٰی أعلم۔ ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز۔
(’’إحیاء علوم الدین‘‘، کتاب آفات اللسان، الآفۃ الثامنۃ : اللعن، ج۳، ص۱۵۴)
اور بعض علماء اس کی تکفیر ولعن میں توقف (سکوت اختیار) کرتے ہیں اور یہی راجح اور یہی اَسلم اور یہی ہمارے ائمۂ ہدیٰ کا مذہبِ اَصح واَقوم ہے ۔
(’’المسامرۃ بشرح المسایرۃ‘‘، ما جری بین علي ومعاویۃ رضي اللّٰہ عنہما، ص۳۱۵-۳۱۶۔ و’’الصواعق المحرقۃ‘‘، الخاتمۃ في بیان اعتقاد أہل السنۃ إلخ، ص۲۲۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع