دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

{ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠(۲۷)}([1]) { اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ(۱)}([2])۔ نہ اس کے غنائے مطلق میں   کوئی شک { اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۲۶)} ([3])نہ اس کے کسی وعدے یا وعید میں   فرق آنا ممکن، { اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠(۳۱)}([4]) { مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠(۲۹)}([5])  آہ …! آہ …! آہ …!

جگر خوں   میشود زیں   یاد مارا

ز استِغنائے حق فریاد مارا([6])

            لا ملجأ من اللّٰہ إلا إلیہ وحسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل وصلّی اللّٰہ تعالٰی علی النبي الرحمۃ المُھْدَۃ أقرب وسیلۃ إلی اللّٰہ وآلہ وصحبہ بالتبجیل۔ ) ([7])

          چوتھا سبب :  حکمتِ الٰہی ہے کہ کبھی تو براہِ نادانی کوئی چیز اس سے طلب کرتا ہے اور وہ براہِ مہربانی تیری دعا کو اس سبب سے کہ تیرے حق میں   مضر ہے ، رد فرماتا ہے ، مثلاً :  تو جویائے سیم وزر ہے اور اس میں   تیرے ایمان کا خطر ہے یا تو خواہانِ تندرستی وعافیت ہے اور وہ علمِ خدا میں   موجب نقصانِ عاقبت ہے ، ایسا رد ، قبول سے بہتر۔ { عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-}([8]) پر نظر کر اور اس رد کا شکر بجالا۔([9])

          پانچواں   سبب :  کبھی دعا کے بدلے ثوابِ آخرت دینا منظور ہوتا ہے ، تو حُطامِ دنیا (دنیوی ساز وسامان) طلب کرتا ہے اور پروردگار نفائسِ آخرت (آخرت کی عمدہ چیزیں  ) تیرے لیے ذخیرہ فرماتا ہے ، یہ جائے شکر ہے (شکر کا مقام ہے ) نہ (کہ) مقامِ شکایت۔

          قال الرضاء :  

          سبب ۶ تا سبب ۱۱ :  حضور سید ِعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  : ’’تین شخص ہیں   کہ تیرا رب ان کی دعا نہیں   قبول کرتا :

             ایک وہ کہ ویرانے مکان میں   اترے ۔

          دوسرا وہ مسافر کہ سرِ راہ مقام کرے یعنی سڑک سے بچ کر نہ ٹھہرے ، بلکہ خاص راستے ہی پر نزول کرے (یعنی اترے )۔

            تیسرا وہ جس نے خود اپنا جانور چھوڑ دیا، اب خدا سے دعاکرتا ہے کہ اسے روک دے ۔‘‘

            أخرجہ الطبراني في ’’الکبیر‘‘ عن عبد الرحمن بن عائذ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ بسند حسن۔([10])

            اور فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  : ’’تین شخص اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں   اور ان کی دعا قبول نہیں   ہوتی :

           ایک وہ جس کے نکاح میں   کوئی بد خُلُق (بد اخلاق)عورت ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے ۔

          دوسرا وہ جس کا کسی پر کچھ آتا تھا اور اس کے گواہ نہ کر لیے ۔

          تیسرا وہ جس نے سَفِیْہ بے عقل کو مال سپرد کر دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :  سفیہوں   (بیوقوفوں  ) کو اپنے مال نہ دو۔‘‘

      أخرجہ الحاکم عن أبي موسی الأشعري رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ بسند نظیف۔([11])

            تو یہ چھ۶ ہوئے جن کی نسبت تصریح فرمائی کہ انکی دعا قبول نہیں   ہوتی۔

            أقول وباللّٰہ التوفیق : مگر ظاہراً اس سے مراد یہی کہ اس خاص مادے میں   انکی دعا نہ سنی جائے گی نہ یہ کہ جو ایسا کرے مطلقاً اس کی کوئی دعا کسی امر میں   قبول نہ ہو اور ان اُمور میں   عدمِ قبول کا سبب ظاہر کہ یہ کام خود اپنے ہاتھوں   کے کئے ہیں  ۔

            ویرانے مکان میں   اترنے والا اس کی مُضَرَّتوں   (نقصانات) سے آگاہ ہے ، پھر اگر وہاں   چوری ہو یا کوئی لوٹ لے یا جِنّ ایذا پہنچائیں   تو یہ باتیں   خود اس کی قبول کی ہوئی ہیں  ، اب کیوں   



[1]    ترجمۂ کنز الایمان : ’’ اللہ جو چاہے کرے ۔‘‘(پ۱۳، إبراہیم :  ۲۷)

[2]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’بے شک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے ۔‘‘(پ۶، المائدۃ :  ۱)

[3]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’بے شک اللہ ہی بے نیاز ہے ، سب خوبیوں   سراہا۔‘‘ (پ۲۱، لقمان :  ۲۶)

[4]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’بے شک اللہ وعدہ خلاف نہیں   کرتا۔‘‘(پ۱۳، الرعد :  ۳۱)

[5]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’میرے یہاں   بات بدلتی نہیں   اور نہ میں   بندوں   پر ظلم کروں  ۔‘‘(پ۲۶، قٓ :  ۲۹)

[6]    یعنی اسکی یاد سے ہماراجگر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے تو بھی ہمیں   اسی بے نیاز سے فریاد ہے ۔

[7]    کوئی پناہ نہیں   سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم کو بس ہے اور کیا ہی اچھا کارساز! اور اللہ تعالیٰ رحمت ونرمی والے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور ان کے تمام آل واصحاب پر رحمت نازل فرمائے جو اسکی طرف ہمارے سب سے قریبی وسیلہ ہیں  ۔

[8]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں   پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں   بُری ہو۔‘‘ (پ۲، البقرۃ :  ۲۱۶)

[9]    بعض اوقات دعا قبول نہ ہونے میں   حکمت خداوندی یہ ہوتی ہے کہ تو جو مانگ رہاہے وہ تیرے لئے نقصان دہ ہے مثلاً :  تو مال ودولت مانگتا ہے لیکن وہ تیرے ایمان کے لیے خطرناک ہے ، تو صحت وعافیت کا سوال کرتا ہے لیکن اس میں   تیری آخرت کا نقصان ہے ، ایسی دعا کا قبول نہ ہونا ہی بہتر ہے تو ایسی دعا کے رَد پر تجھے چاہئے کہ شکرِ خداوندی بجالا۔

[10]    اس حدیث کو طبرانی نے ’’معجم کبیر‘‘ میں   سندِ حسن کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن عائذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔

’’مجمع الزوائد‘‘، کتاب الحجّ، باب أدب السفر، الحدیث :  ۵۲۹۷، ج۳، ص۴۸۸، (بحوالہ طبرانی)۔

[11]    اس حدیث کو حاکم نے حضرت ابوموسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سندِ نظیف کے ساتھ روایت کیا۔

’’المستدرک‘‘، تفسیر سورۃ النساء، باب :  ثلاثۃ یدعون اللّٰہ فلا یستجاب لہم، الحدیث :  ۳۲۳۵، ج۳، ص۲۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن