دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            اسی واسطے دعا سے پہلے مظلوموں   کے حقوق واپس کرنا اور ان سے اپنے قصور بخشوانا اور خدا کے سامنے توبہ واستغفار اور تَرْکِ معاصی (گناہوں   کے چھوڑنے )پر عزمِ مُصَمَّم (پختہ ارادہ)کرنا لازم ہے ۔

            کعب احبار سے منقول :  زمانۂ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  میں   قحط پڑا، آپ بنی اسرائیل کو لے کر تین بار دعا کے واسطے گئے مینہ نہ برسا(یعنی بارش نہ ہوئی)، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  نے وحی بھیجی :  ’’اے موسیٰ! میں   تیر ی اور تیرے ساتھ والوں   کی دعا قبول نہ کروں   گا کہ تم میں   ایک نَمَّام (چُغل خور) ہے کہ ایک کا عیب دوسرے سے بیان کرتا ہے ۔‘‘ عرض کی :  اے رب! وہ کون ہے کہ اس کو ہم اپنے گروہ سے نکال دیں  ؟ حکم آیا :  ’’میں   تمہیں   نمیمی(چغل خوری) سے منع کرتا ہوں   اور خود ایسا کروں  ؟‘‘ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے سب کو توبہ کا حکم کیا بعد توبہ دعا مانگتے ہی مینہ برسا۔([1])

            سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالٰی کہتے ہیں  : بنی اسرائیل سا۷ت برس قحط میں   مبتلا رہے یہاں   تک کہ مُردوں   اور بچوں   کو کھانے لگے ہمیشہ پہاڑوں   میں   نکل جاتے اور عاجزی وتضرّع کے ساتھ دعا مانگتے اور روتے مگر رحمتِ الٰہی انکے حال پر اصلاً توجہ نہ فرماتی یہاں   تک کہ ان کے پیغمبر عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  پر وحی ہوئی :  ’’اگر تم میری طرف اس قدر چلو کہ تمہارے گُھٹنے گھس جائیں   اور تمہارے ہاتھ آسمان کو لگ جائیں   اور تمہاری زبانیں   دعا کرتے کرتے گونگی ہو جائیں   جب بھی میں   تم میں   سے کسی دعا مانگنے والے کی دعا قبول نہ کروں   اور کسی رونے والے پر رحم نہ فرماؤں  ، جب تک مظلوموں   کو ان کے حقوق واپس نہ کر دیں  ۔‘‘ پس بنی اسرائیل نے مظلوموں   کو ان کے حق واپس کئے ، اسی دن مینہ برسا۔ ([2])

            مالک بن دینار رَحِمَہ اللہ تَعَالٰی کہتے ہیں  : بنی اسرائیل ایام قحط میں   مینہ کی دعا کے لئے نکلے ، پیغمبر وقت عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  پر وحی ہوئی :  ’’ان سے کہہ دے کہ تم میری طرف نکلتے ہو  ناپاک بدنوں   کے ساتھ، اور ہتھیلیاں   میری طرف اٹھاتے ہو جن سے تم نے خون ناحق کئے ، اور تم نے اپنے پیٹ حرام مال سے بھرے ہیں   اب تم پر میرا غضب سخت ہو گیا اور تم کو سِوا زیادہ مجھ سے دور ہونے کے دعا سے کچھ فائدہ نہ ملے گا۔‘‘([3])

            اور ابو صدیق ناجیؔ سے روایت ہے حضر ت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام مینہ کی دعا کے واسطے باہر نکلے ایک چیونٹی کو دیکھا اپنے پاؤں   آسمان کی طرف اٹھائے کہتی ہے :  ’’الٰہی! میں   بھی تیری خَلق سے ایک مخلوق ہوں   اور ہم کو تیرے رزق سے بے پرواہی نہیں   ہو سکتی، پس تو ہم کو اوروں   کے گناہوں   کے سبب ہلاک نہ کر۔‘‘ سلیمان عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے یہ دیکھ کر فرمایا :  لوٹ چلو کہ اس چیونٹی کی دعا سے مینہ برسے گا۔([4])

            اوزاعیؔ کہتے ہیں  : لوگ مینہ کی دعا کے لیے نکلے بلال بن سعد نے خدا کی تعریف وثنا کر کے کہا :  اے حاضرین! کیا تم اپنے گناہ پر اقرار نہیں   کرتے ہو؟ سب نے کہا :  ہم اقرار کرتے ہیں  ۔ پھر کہا :  الٰہی! تو فرماتا ہے :  { مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍؕ-}([5]) اور ہم اپنی گنہگاری پر اقرار کرتے ہیں   پس مغفرت تیری ہماری امثال کے واسطے ہے (ہم جیسے لوگوں   کیلئے ہی ہے ) الٰہی! ہم کوبخش دے اور ہم پر رحم کر اور ہم کو پانی دے ، پھر اپنے ہاتھ اٹھائے اور مینہ برسا۔([6])

            کسی نے مالک بن دینار سے کہا :  مینہ کے لئے دعا کیجئے ، فرمایا :  ’’تم مینہ برسنے میں   دیر سمجھتے ہو اور میں   پتھر برسنے میں  ‘‘، یعنی :  تم سمجھتے ہو کہ مینہ برسنے میں   دیر ہو گئی اور میں   کہتا ہوں   یہ خدا کی رحمت ہے کہ پتھر نہیں   پڑتے ۔([7])

          تیسرا سبب :  اِستِغْنائے مولیٰ۔ وہ حاکم ہے محکوم نہیں  ، غالب ہے مغلوب نہیں  ، مالک ہے تابع نہیں  ، اگر تیری دعا قبول نہ فرمائی تجھے ناخوشی اور غصے ، شکایت اور شکوے کی مجال کب ہے ، جب خاصوں   کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب چاہتے ہیں   عطا کرتے ہیں   جب چاہتے منع فرماتے ہیں   تو تُو کس شمار میں   ہے کہ اپنی مراد پر اِصرار کرتا ہے !۔ ([8]) { وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۱)}([9])۔

          قال الرضاء :  اس کا اِستغناء حق، اس کا وعدہ حق، اس کی بات تمام، اس کی رحمت عام، دعا کہ شرائط وآداب کی جامع ہو، حصولِ مسؤل ہی کے ساتھ قبول ہونا ضرور نہیں  ، دفعِ بَلاہے ، ثوابِ عقبیٰ ہے ، جیسا کہ آتا ہے اور بایں   ہمہ اس پر کچھ واجب نہیں  ۔([10])

 



[1]    ’’إحیاء العلوم‘‘، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۷۔

[2]    المرجع السابق۔

[3]    المرجع السابق۔

یعنی اپنے گناہوں   اور نافرمانیوں   میں   حدسے بڑھنے کے سبب تمہارا حال یہ ہوگیا ہے کہ اب تمہاری دعائیں   تمہیں   میرے قریب کرنے کے بجائے تمہیں   مجھ سے مزید دور کر دینگی۔

[4]    ’’إحیاء العلوم‘‘، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۷۔

[5]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’نیکی والوں   پر کوئی راہ نہیں  ۔ ‘‘(پ۱۰، التوبۃ :  ۹۱)

[6]    ’’إحیاء العلوم‘‘، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۷۔

[7]    المرجع السابق۔

[8]    یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز سے غنی ہے ہر خوبی و صفت اسی کے واسطے ہے وہ جو چاہے کرے کسی کو مجالِ اُف تک نہیں   ہے اس کاتواپنے نیک بندوں   کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب چاہتاہے ان کو دیتاہے اور جب چاہتاہے ان کواس چیز کی طلب سے منع فرمادیتاہے تو اگر اس نے تیری دعا قبول نہیں   فرمائی توتیری کیا مجال کہ تو ناخوشی کااظہارکرے یااسکی بارگاہ میں   شکوے شکایت کرتے ہوئے بار باراُسی چیز کے حصول کی دعا مانگے !۔

[9]    ترجمۂ کنزالایمان  : ’’اوراللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں   جانتے ۔‘‘(پ۱۲، یوسف :  ۲۱)

[10]    وہ بے نیاز ہے ، اس کا وعدہ سچا ہے ، اس کی بات ہو کر رہتی ہے ، اس کی رحمت سب کوشامل ہے  چنانچہ اگر دعا میں   شرائط وآداب کا مکمل خیال ولحاظ رکھ بھی لیا جائے تو یہ بات ضروری نہیں   کہ جو چیزدعا میں   مانگی جارہی ہے وہی چیز حاصل بھی ہوجائے ، ہوسکتا ہے کہ اس پر کوئی بلا ومصیبت آنے والی تھی جو اس دعا کی وجہ سے ٹل گئی ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ اس دعا کے سبب اسکے ہاتھ نیکیوں   کا ایسا بے بہا خزانہ آیاہو جو آخرت میں   کام آئے بہرحال اگر بیان کردہ دونوں   صورتیں  نہ بھی ہوں   تو وہ رب عَزَّ وَجَلَّ قادر مطلق ہے جو چاہے کرے اس پر کسی کا زور نہیں   اور نہ ہی اس پر کچھ دینا واجب ولازم ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن