دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ))۔ ([1])

          بشارت (۱۶) :  اوپر گزرا کہ جو شخص ’’یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ‘‘ تین بار کہے فرشتہ کہتا ہے :  مانگ کہ ’’أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ‘‘ نے تیری طرف توجہ فرمائی۔([2])

          بشارت (۱۷) :  پانچ بار ’’یَا رَبَّنَا‘‘کہنے کا فضل امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے گزرا۔([3])

          بشارت (۱۸) :  یہی خاصیت اَسمائے حُسنیٰ کی ہے ۔

          بشارت (۱۹) :   نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک شخص کو ’’یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ‘‘ (اے عظمت وبزرگی والے !) کہتے سنا، فرمایا :  مانگ کہ تیری دعا قبول ہوئی۔([4])

          بشارت (۲۰) :  ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی حدیث میں   ہے :  حضور سَیِّدُ الْمُرْسَلِین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  

            جبرائیل میرے پاس کچھ دعائیں   لائے اور عرض کی :  جب حضور کو کوئی حاجت پیش آئے انہیں   پڑھ کر دعا مانگئے :   

            ((یَا بَدِیْعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ یَا صَرِیْخَ الْمُسْتَصْرِخِیْنَ  یَاغِیَاثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ  یَا کَاشِفَ السُّوْ ءِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا مُجِیْبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّیْنَ یَا إِلٰـہَ الْعَالَمِیْنَ بِکَ اُنْزِلَ حَاجَتِيْ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِھَا فَاقْضِھَا))) ۔([5])

فصل ششم موانعِ اِجابت میں 

          قال الرضاء :  وہ پندرہ ۱۵ ہیں  ۔  ۵پانچ اِفادۂ حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ اور د۱۰ س زیادت فقیر حقیر غُفِرَ لَہٗ ۔

            اے عزیز! اگر دعا قبول نہ ہو ، تو اُسے اپنا قصور سمجھے ، خدائے تعالیٰ کی شکایت نہ کرے کہ اس کی عطا میں   نقصان نہیں  ، تیری دعا میں   نقصان ہے ۔([6])

اس کے الطاف تو ہیں   عام شہیدیؔ سب پر

تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا

ہرچہ ہست از قامت ناساز و بے اندام ماست

ورنہ تشریف تو بربالائے کس کو تاہ نیست([7])

            اے عزیز! دعا چند سبب سے رَد ہوتی ہے :

          پہلا سبب :  کسی شرط یا ادب کا فوت ہونا اور یہ تیرا قصور ہے ، ا پنی خطا پر نادم نہ ہونا اور خدا کی شکایت کرنا، نری بے حیائی ہے ۔

          قال الرضاء :  نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  : ’’ایک شخص سفر دراز (طویل سفر) کرے ، بال اُلجھے ، کپڑے گرد میں   اَٹے (میلے کچیلے )، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور یَا رَبِّ! یَا رَبِّ! کہے اور اس کا کھانا حرام سے اور پینا حرام سے اور پہننا حرام سے اور پرورش پائی حرام سے ، تو اس کی دعا کہاں   قبول ہو!‘‘ ([8])

            سفر اور اس پریشاں   حالی کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ زیادہ جالبِ رحمت ومُورِثِ اِجابت ہوتے ہیں   (یعنی :  رحمت کو زیادہ کھینچ لانے والے اور دعا کی قبولیت کا باعث ہوتے ہیں  )، بایں   ہمہ (اس کے باوجود) جب اَکْل وشُرْب (کھاناپینا)حرام سے ہے ، اُمید ِاجابت نہیں  ۔

          دوسرا سبب :  گناہوں   سے تلوُّث (گناہوں   میں  مبتلا رہنا)۔

          قال الرضاء :  اگرچہ یہ بھی سببِ اَوّل میں   داخل تھا مگر بوجہ مُہْتَم بالشان ہونے کے (یعنی زیادہ اہمیت کا حامل ہونے کی وجہ سے ) جدا ذکر فرمایا۔  )

 



[1]    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں   وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں  ، ساری بادشاہت اسی کیلئے ہے اور سب خوبیاں   اسی کو، اور وہ تو سب کچھ کر سکتا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں   اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی توفیق کے بغیر برائی سے بچنے کی کچھ طاقت نہیں   اور نہ ہی نیکی کرنے کی کچھ قوت۔ ’’المعجم الکبیر‘‘ للطبراني، الحدیث :  ۸۴۹، ج۱۹، ص۳۶۱۔

و ’’المعجم الأوسط‘‘ للطبراني، من اسمہ مطلب، الحدیث :  ۸۶۳۴، ج۶، ص۲۳۸۔

و’’مجمع الزوائد‘‘، کتاب الأدعیۃ، باب فیما یستفتح بہ الدعاء   إلخ، الحدیث :  ۱۷۲۶۴، ج۱۰، ص۲۴۱۔

[2]    ’’المستدرک‘‘، کتاب الدعاء والتکبیر... إلخ، باب إن للّٰہ ملکاً... إلخ، الحدیث :  ۲۰۴۰، ج۲، ص۲۳۹۔

[3]    جیسا کہ فصل دوم میں   ادب نمبر ۲۱ کے تحت گزرا۔

[4]    ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب ماجاء في عقد التسبیح بالید، الحدیث :  ۳۵۳۸، ج۵، ص۳۱۲۔

[5]    اے آسمانوں   اورزمین کوبے کسی نمونہ کے پیدافرمانے والے !اے عظمت وبزرگی والے !اے فریاد رسوں   کی فریاد رسی فرمانے والے ! اے مدد چاہنے والوں   کی مدد فرمانے والے ! اے سب آفتوں   کودور فرمانے والے !اے سب سے زیادہ مہربان!اے پریشان حالوں   کی دعا قبول فرمانے والے !اے سب جہاں   والوں   کے معبودِ برحق ! تیری ہی طرف سے میری حاجت آئی اور تو ہی اس کو زیادہ جانتا ہے تو تواس حاجت کو رَوا فرما۔

’’المعجم الأوسط‘‘الحدیث :  ۱۴۵، ج۱، ص۵۵۔

و’’مجمع الزوائد‘‘، کتاب الأدعیۃ، باب الأدعیۃ المأثورۃ عن رسول اللّٰہ   إلخ، الحدیث :  ۱۷۳۹۶، ج۱۰، ص۲۸۴، بألفاظ متقاربۃ۔

لم نعثر علی ہذا الحدیث عن ابن عباس ولکن  وجدناہ عن حذیفۃ بن الیمان رضي اللّٰہ تعالٰی عنہما۔

[6]    یعنی اس مولیٰ کریم عَزَّ وَجَلَّ کی عطا میں   کوئی کمی نہیں   ، کمی تو تیرے دعا کرنے میں   ہے ۔

[7]    ع                      کسی پر کم نہیں   فضل وکرم تیرا مرے مولیٰ

                                                یہ بداعمالیوں   کا ہے نتیجہ کہ پریشاں   ہوں  

[8]    ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وترتیبہا، الحدیث :  ۲۳۰۱، ص۵۰۷۔

 و’’سنن الترمذي، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، الحدیث :  ۳۰۰۰، ج۴، ص۴۶۴-۴۶۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن