30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کے رفع کی دعا کرتا ہے !۔
یونہی جب راستے پر قیام کیا تو ہر قسم کے لوگ گزریں گے ، اب اگر چوری ہو جائے ، یا ہاتھی گھوڑے کے پاؤں سے کچھ نقصان، رات کو سانپ وغیرہ سے ایذا پہنچے اس کا اپنا کیا ہوا ہے ۔ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’شب کوسرِ راہ نہ اترو(یعنی رات کو راستے میں پڑاؤ نہ ڈالو) کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جسے چاہے راہ پرپھیلنے کی اجازت دیتا ہے ۔‘‘([1])
اور جانور کو خود چھوڑ کر اس کے حَبْس (یعنی اس پر قابو پانے ) کی دعا تو ظاہر حماقت ہے کیا واحد قہار کو آزماتا یا معاذ اللہ اسے اپنا محکوم ٹھہراتا ہے ! ۔
سیدنا عیسیٰ روح اللہ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے کسی نے کہا : اگر خدا کی قدرت پر بھروسہ ہے اپنے آپ کو اس پہاڑ سے نیچے گرا دو، فرمایا : ’’میں اپنے رب کو آزماتا
نہیں ۔‘‘([2])
اورعورت کی نسبت صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے ، اس کی کَجی ہر گز نہ جائے گی، سیدھا کرنا چاہو تو ٹوٹ جائے گی اور اس کا ٹوٹنا یہ ہے کہ طلاق دے دی جائے ۔([3])پس یا تو آدمی اس کی کجی پر صبر کرے یا طلاق دیدے کہ نہ طلاق دیتا نہ صبر کرتا بلکہ بددعا دیتا ہے ، قابل قبول نہیں ۔
یونہی جب گواہ نہ کئے خود اپنا مال مہلکہ (ہلاکت) میں ڈالا اور سَفِیْہ(بے وقوف) کو دینا بربادی کے لیے پیش کرنا ہے ۔ پھر دانستہ، مواقع مضرت (نقصاندہ جگہوں ) میں پڑ کر خَلَاص (چھٹکارا) مانگنا حماقت ہے ۔
خلاصہ یہ ہے : ’’خویشتن کردہ را علاجے نیست‘‘([4]) فقیر کے خیال میں ظاہراً معنیٔ احادیث یہ ہیں ، وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
فقیر نے اس تحریر کے چند روز بعد ’’اَلْأَشْبَاہُ وَالنَّظَائِرُ‘‘ میں دیکھا کہفوائد شتّٰی میں ’’مُحِیْط‘‘ کی کِتَابُ الْحَجْرِ سے یہ پچھلے تین شخص نقل کئے کہ ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔([5])
علامہ حموی نے ’’غَمْزُ الْعُیُوْنِ وَالْبَصَائِر‘‘([6]) میں ’’أَحْکَامُ الْقُرْآن‘‘ امام ابوبکر جصاص سے نقل کیا کہ ضحاک نے اپنے دَین([7]) پر گواہ نہ کرنے والے کی نسبت کہا : إن ذھب حقّہ لم یؤجر وإن دعا علیہ لم یجب؛ لأنّہ ترک حقّ اللّٰہ تعالٰی وأمرہ۔([8])
یعنی : ’’اگر اس کا حق مارا جائے تو کچھ اجر نہ پائے اور اگر مدیون پر بد دعا کرے تو قبول نہ ہو کہ اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق چھوڑا اور اس کے امر کا خلاف کیا۔‘‘
یعنی : قولہ تعالٰی : { وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ۪-}([9]) یہ تعلیل بحمد اللہ تعالیٰ اس معنی کی مؤید (یعنی : تائید کرتی) ہے جو فقیر نے سمجھے ، یعنی ان کی دعا مقبول نہ ہونا خاص اسی مادّے (بارے ) میں ہے ۔
سبب ۱۲، ۱۳، ۱۴ : اسی ’’غَمْزُ الْعُیُوْن‘‘ میں ’’کِتَابُ الْمُحَاضَرَات‘‘ ابو یحییٰ زکریا مراغی سے نقل کیا : حضرت امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ ۶چھ شخصوں کی دعا قبول نہیں فرماتا۔ تین تو یہی پچھلے ذکر فرمائے ،
اور ایک وہ جو اپنے گھر میں منہ پھیلائے بیٹھا رہے کہ اے رب میرے ! مجھے روزی دے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : کیا میں نے تجھے رزق ڈھونڈنے کا حکم نہ دیا؟ تو نے میرا اِرشاد نہ سنا : { فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ }’’پھیل جاؤ زمین میں اور ڈھونڈو فضل اللہ کا۔‘‘(پ ۲۸، الجمعۃ : ۱۰)
دوسرا وہ جس نے اپنا مال فضول خرچیوں میں کھو دیا، اب کہتا ہے : اے رب! مجھے اور دے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا میں نے تجھے میانہ روی کا حکم نہ دیا تھا؟ کیا تو نے میرا اِرشاد نہ سنا تھا؟ { وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷)}([10])
تیسرا وہ کہ ایسے لوگوں میں مقیم رہے جو اسے ایذا دیتے ہیں اور دعا کرے : اے رب میرے ! مجھے ان کے شر سے کفایت کر، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا میں نے تجھے ہجرت کا حکم نہ دیا؟ کیا میرا اِرشاد نہ سنا : { اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ ([11]) }۔ ([12])
یہ تقریر بھی بحمد اللہ اس معنیٔ فقیر کی مؤید ہے ۔
أقول : اس تقدیر پر اور بہت لوگ ایسے نکل سکتے ہیں جو خود کردہ کا علاج ڈھونڈتے ہوں مثلاً : جو بغیر۱ کسی سخت مجبوری کے رات کو ایسے وقت گھر سے باہر نکلے کہ لوگ سو گئے ہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع