دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

 

          قال الرضاء :  رب عَزَّ وَجَلَّ  صحیح حدیث قدسی میں   فرماتا ہے :  

            (( ھُمُ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ))۔

            ’’یہ وہ لوگ ہیں   کہ ان کے پا س بیٹھنے والا بدبخت نہیں   رہتا۔‘‘([1])

            اب فقیر اپنی زیادات کو گنائے ۔

          بِسْت و چَہَارُم (۲۴) :    مواجہۂ شریفہ حضورسَیِّدُ الشَّافِعِین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ۔([2])

            امام ابن الجزری فرماتے ہیں  : ’’دعا یہاں   قبول نہ ہوگی تو کہاں   ہوگی۔!‘‘([3])

          أقول :  آیۂ کریمہ :  { وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)}اس پر دلیل کافی ہے ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعالٰی ہر طرح معاف کر سکتا ہے ، مگر ارشاد ہوتا ہے کہ ’’اگر وہ جب اپنی جانوں   پر ظلم کریں  ، تیرے حضور حاضر ہوں   اور اللہ سے معافی مانگیں   اور رسول ان کی بخشش چاہے تو ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں  ۔ ‘‘(پ۵، النساء :  ۶۴)

            یہی تو وہ نکتۂ اِلٰہیہ ہے جسے گم کر کے وہابیہ چاہِ ضلال میں   پڑے (یعنی گمراہی کے گڑھے میں   گِرے )  والعِیاذ باللّٰہ ربّ العالمین۔

          بِسْت وپنجم (۲۵) :    منبر ِاطہر کے پاس ۔

          بِسْت وشَشُم (۲۶) :   مسجد ِاقدس کے ستونوں   کے نزدیک ۔

          بِسْت وہَفْتُم (۲۷) :   مسجدِ قُبا شریف میں   ۔

          بِسْت وہَشْتُم(۲۸) :   مسجد الفَتْح میں  ، خصوصاً روز چہار شنبہ بَین الظہروالعصر (خصوصاً بدھ کے دن ظہر وعصر کے درمیان)۔

            امام احمد بسندِ جید اور بزار وغیرہما جابر بن عبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے راوی :  حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسجد فتح میں   تین دن دعا فرمائی، دوشنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ (یعنی پیر، منگل اور بدھ کے دن)۔ چہار شنبہ کے دن دونوں   نماز وں   کے بیچ میں   اِجابت فرمائی گئی کہ خوشی کے آثار چہرۂ انور پر نمودار ہوئے ۔ جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : جب مجھے کوئی امرِ مُہِم (اہم کام)بَشِدَّت پیش آتا ہے ، میں   اس ساعت میں   دعا کرتا ہوں   اِجابت ظاہر ہوتی ہے ۔([4])

          بِسْت ونہُم (۲۹) :  باقی مساجد طیبہ کہ حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طر ف منسوب ہیں۔([5])

          سِیُم (۳۰) :   وہ کوئیں   جنہیں   حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف نسبت ہے ۔

          سِی ویکُم (۳۱) :    جبلِ اُحُد شریف(یعنی اُحُد پہاڑ)۔

          سِی ودُوُم(۳۲) :    حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام مَشاہدِ متبرکہ۔([6])

          سِی وسِوُم (۳۳)، سِی وچَہارُم (۳۴) :   مزاراتِ بقیع واُحد۔

            بِسْت ودُوُم (۲۲)، وبِسْت وسِوُم (۲۳) کے سوا یہ  ۳۲ بتیس مقامات حرمین طیبین اور ان کے متعلقات میں   تھے ۔

          سِی وپنجم(۳۵) :    مزارِ مُطَہَّر ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس۔ ([7])

            حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : ’’مجھے جب کوئی حاجت پیش آتی ہے دو رکعت نماز پڑھتا اور قبرِ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جا کر دعا مانگتا ہوں  ، اللہ تعالیٰ رَوا(پوری) فرماتاہے ۔‘‘

 



[1]    ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب فضل مجالس الذکر، الحدیث :  ۲۶۸۹، ص۱۴۴۴۔

[2]    امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مواجہہ شریف کی تعیین کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’زیرِ قندیل اس چاندی کی کیل کے جو حجرۂ مطہرہ کی جنوبی دیوار میں   چہرۂ انور کے مقابل لگی ہے ۔‘‘(’’فتاویٰ رضویہ‘‘، ج۱۰، ص۷۶۵)

امیر اہلسنّت مد ظلہ العالی ’’رفیق الحرمین‘‘ میں   بطور حاشیہ ارشاد فرماتے ہیں  : ’’لوگ عموماً (سنہری جالی میں   موجود) بڑے سوراخ کو مواجہہ شریف سمجھتے ہیں   بلکہ میں   نے کئی اردو کتابوں   میں   بھی یہی دیکھا ہے ‘‘ مزیدفرماتے ہیں  : ’’میں   نے امام اہلسنّت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کی تحقیق کے مطابق مواجہہ شریف کی نشاندہی کی ہے اور الحمد للہ صحیح بھی یہی ہے ۔‘‘  (’’رفیق الحرمین‘‘، ص۱۸۷)

[3]   ’’الحصن الحصین‘‘، أماکن الإجابۃ، ص۳۱۔

[4]   ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث :  ۱۴۵۶۹، ج۵، ص۸۷۔

[5]    یعنی ایسی مسجدیں   جن کو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے شرفِ نسبت حاصل ہے جیسے :  مسجد غَمامہ، مسجد ِقِبْلَتَین وغیرہ۔

[6]   ’’مشاہد‘‘ مشہد کی جمع ہے جسکے معنی حاضر ہونے کی جگہ کے ہیں   یعنی وہ تمام مقامات جہاں   ہمارے آقا ومولیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ظاہری حیات مبارکہ میں   تشریف لے گئے ، جیسے :  سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا باغ وغیرہ۔

[7]    آپ کا نام نعمان بن ثابت ہے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ۸۰ھ؁ بمطابق ۶۹۹ء؁ میں   پیدا ہوئے اور آپ کا وصال ۱۵۰ھ؁ بمطابق ۷۶۷ء؁ بغداد میں   ہوا اور وہیں   خیزران کے مقبرے کے مشرقی جانب آپ کا مزار واقع ہے ۔    (ماخوذ از’’اردو دائرہ ٔمعارف اسلامیہ‘‘ ج۱، ص۷۸۳)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن