30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چِہِل وپنجم (۴۵) : قراء تِ ’’صحیح بخاری شریف‘‘ میں جب اسمائے اصحاب ِبدر پر پہنچے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م اجمعین۔
حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہٗ کا وہ چھتیس ۳۶ ذکر کر کے ’’وغیر ذٰلک‘‘ فرمانا خود بتاتا تھا کہ اِنہیں میں حَصْر نہیں اور بھی ہیں ۔ تو فقیر کا یہ نو۹بڑھانا اسی کلمہ’’وغیر ذٰلک‘‘ کی شرح تھی اور ہَنُوز حَصْر نہیں ۔([1])
وفضل اللّٰہ أطیب وأکثر والحمد للّٰہ ربّ العلمین۔)([2])
فصل چہارُم اَمکنۂ اِجابت میں[3]
قال الرضاء : وہ چوالیس ہیں ۔ ۲۳ تیئس ذکر فرمودۂ حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہٗ اور اکیس۲۱ مُلْحَقاتِ فقیر([4]) غَفَرَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَہٗ۔ )
اوّل(۱) : مَطاف۔
قال الرضاء : یہ وسط ِمسجد الحرام شریف میں ایک گول قِطْعَہ ہے ، سنگ ِمرمر سے مَفْرُوش(یعنی زمین کا وہ ٹکڑا جس پر سنگِ مرمر بچھا ہوا ہے ) اس کے بیچ میں کعبۂ معظمہ ہے یہاں طواف کرتے ہیں ، زمانۂ اقدس حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں مسجد اسی قدر تھی، أَفَادَہُ الْمُصَنِّفُ قُدِّسَ سِرُّہٗ فِي ’’الْجَوَاہِرِ‘‘۔ ) ([5])
دُوُم (۲) : مُلتزَم۔
قال الرضاء : یہ کعبۂ معظمہ کی دیوارِ شرقی کے پارۂ جنوبی کا نام ہے ، جو درمیان درِ کعبہ وسنگِ اَسود واقع ہے ، یہاں لپٹ کر دعا کرتے ہیں ۔([6])
حدیث شریف میں ہے : حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’میں جب چاہوں جبرائیل کو دیکھ لوں کہ ملتزم سے لپٹا ہوا کہہ رہا ہے : ((یَا وَاجِدُ یَا مَاجِدُ لَا تُزِلْ عَنِّيْ نِعْمَۃً أَنْعَمْتَھَا عَلَيَّ))۔‘‘ ([7])
الحمد للہ کہ حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کرم سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس گدائے بے نوا کو بھی یہ دعا کرامت فرمائی بارہا ملتزم سے لپٹ کر عرض کیا ہے : ((یَا وَاجِدُ یَا مَاجِدُ لَا تُزِلْ عَنِّيْ نِعْمَۃً أَنْعَمْتَھَا عَلَيَّ))۔ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ عَمَّ نَوَالُہٗ سے اُمید ِقبول ہے ۔ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ أَجْمَعِیْنَ۔)
سِوُم (۳) : مُسْتَجار کہ رکنِ شامی ویمانی کے درمیان مُحاذیٔ مُلتَزَم (ملتزم کے سامنے والی دیوار میں )واقع ہے ۔
قال الرضاء : یا برقیاس سابق یوں کہئے کہ یہ کعبۂ معظمہ کی دیوارِ غربی کے پارۂ جنوبی کا نام ہے ، جو درمیان درِ مَسْدُود ورکنِ یمانی واقع ہے ۔)([8])
چَہَارُم(۴) : داخلِ بیت (بیت اللہ شریف کی عمارت کے اندر)۔
پَنْجُم(۵) : زیرِ میزاب۔([9])
شَشُم(۶) : حطیم۔([10])
[1] یعنی ایسا نہیں کہ قبولیت کے تمام مواقع بیان کردیئے گئے ہوں بلکہ مذکورہ اوقات کے علاوہ اوربھی ہوسکتے ہیں ۔
[2] اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل سب سے عمدہ وکثیر ہے اور سب خوبیاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو جو پروردگار سارے جہان والوں کا۔
[3] اَمکنہ، مکان کی جمع ہے ، اور یہاں مراد یہ ہے کہ وہ مقامات جہاں دعا قبول ہوتی ہے ۔
[4] مُلْحَقات، مُلْحَق کی جمع ہے یعنی وہ چیزیں جو بعد میں ملادی گئی ہوں ۔
[5] یہ بات مُصَنِّف(مولانا نقی علی خان قّدِّسَ سِرُّہٗ) نے اپنی کتاب ’’جَواہِرُ البَیان في أَسْرار الأَرکان‘‘ میں بطورِ اِفادہ بیان فرمائی۔ (’’جواہر البیان‘‘، فصل چہارم، ص ۱۷۵ و ۱۹۳۔)
[6] ملتزم وہ مقام ہے جو کعبۃ اللہ شریف کی مشرقی دیوار کے جنوبی حصہ میں حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان واقع ہے یہی وہ مقام ہے جہاں لوگ لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگتے ہیں ۔
ع ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں
ادب وشوق کا یاں باہم الجھنا دیکھو (’’حدائق بخشش‘‘، ص۹۵)
[7] اے ہر شئے کو اپنی قدرت سے موجود کرنے والے ! اے بزرگی والے !مجھ سے اپنی نعمت کو دور نہ فرمانا، جو تو نے مجھے عطا فرمائی۔
’’تاریخ دمشق‘‘ ، الحدیث : ۶۰۰۵ ، ج۵۱ ، ص ۱۶۴۔
و’’مرقاۃ المفاتیح‘‘، کتاب الدعوات، باب أسماء اللّٰہ تعالی، تحت الحدیث : ۲۲۸۸، ج۵، ص۱۰۶۔
[8] مستجار وہ مقام ہے جو کعبۃ اللہ شریف کی مغربی دیوار کے جنوبی حصہ میں رکنِ یمانی اور درِ مسدودکے درمیان واقع ہے ۔
درِ مَسْدُود کی وضاحت کرتے ہوئے رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان علیہ الرحمہ اپنی کتاب ’’جواہر البیان‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’یہاں دروازہ تھا حجاج (یعنی حجاج بن یوسف)نے بند کردیا۔‘‘ (’’جواہر البیان‘‘، ص۱۷۵)
عاشق اعلیٰ حضرت امیر اہلسنت مدظلہ العالی اپنی مایہ ناز تالیف ’’رفیق الحرمین‘‘ میں مستجار کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’رکن یمانی اور شامی کے بیچ میں مغربی دیوار کا وہ حصہ جو ’’ملتزم‘‘ کے مقابل یعنی عین پیچھے کی سیدھ میں واقع ہے ۔ (’’رفیق الحرمین‘‘، ص۳۷)
[9] امیر اہلسنّت مدظلہ العالی ’’ ارشاد فرماتے ہیں : ’’میزاب رحمت‘‘ : ’’سونے کا پرنالہ یہ رکنِ عراقی وشامی کی شمالی دیوار پر چھت پر نصب ہے ، اس سے بارش کا پانی حطیم میں نچھاور ہوتا ہے ۔‘‘ مزید اس پر بطور حاشیہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’میری ناقص معلومات کے مطابق مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اپنے مزارِ فائز الانوار میں چہرۂ نور بار میزابِ رحمت کی طرف ہے ۔‘‘ (’’رفیق الحرمین‘‘، ص۳۷-۳۸)
ع زیر میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِرحمت کا یہاں زورِ برسنا دیکھو (’’حدائق بخشش‘‘، ص۹۴)
[10] حطیم : ’’کعبۂ معظمہ کی شمالی دیوار کے پاس نصف دائرے کی شکل میں فصیل (یعنی باؤنڈری) کے اندر کا حصہ۔ حطیم کعبہ شریف ہی کا حصہ ہے اور اس میں داخل ہونا عین کعبۃ اللہ شریف میں داخل ہونا ہے ۔‘‘(’’رفیق الحرمین‘‘، ص۳۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع