30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تواضع ہے ورنہ وہ یقینا ہر گناہ سے معصوم ہیں ) فرمایا : ’’اوروں سے دعا کرا، کہ ان کے منہ سے تو نے گناہ نہ کیا۔‘‘([1])
امیر المؤمنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مدینہ منورہ کے بچوں سے اپنے لئے دعا کراتے کہ دعا کرو عمر بخشا جائے ۔
اور صائم (روزہ دار) وحاجی ومریض ومبتلا سے دعا کرانا اثر تمام رکھتا ہے ۔ ان تین کی حد یثیں تو فصل ہشتم میں آئیں گی اور مبتلا وہ جو کسی دنیوی بلا میں گرفتار ہو یہ مریض سے عام ہو۔
ابو الشیخ نے ’’کتاب الثواب‘‘ میں ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی : حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ((اغتنموا دعوۃ المؤمن المبتلی))
’’مسلمان مبتلاء کی دعا غنیمت جانو۔‘‘ ([2])
فائدہ :
جب مطلب حاصل ہو اسے خدائے تعالیٰ کی عنایت ومہربانی سمجھے ، اپنی چالاکی ودانائی نہ جانے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا٘-ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّاۙ-قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍؕ-}
’’جب آدمی کو تکلیف پہنچتی ہے ہم سے دعا کرتا ہے ۔ پھر جب ہم اسے نعمت دیتے ہیں کہتا ہے یہ مجھے اپنی دانائی سے ملی۔‘‘ (پ۲۴، سورۃ الزمر : ۴۹)
{ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ }
’’بلکہ وہ نعمت آزمائش ہے ۔‘‘ (پ۲۴، الزمر : ۴۹)
کہ دیکھیں ہمارا احسان مانتا ہے یا نہیں ۔
{ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷) }
’’لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ‘‘ (پ۹، الأعراف : ۱۸۷)
اور اس نعمت کو اپنی دانائی کا نتیجہ سمجھتے ہیں ۔ ایسا شخص پھر اگر دعا کرتا ہے قبول نہیں ہوتی۔ جو کریم کا احسان نہیں مانتا لائق عطا نہیں مستوجِبِ (یعنی مستحقِ) سزا ہے ۔
{ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا }
’’جو ہماری یاد سے منہ پھیرے ، اس کے لیے ہے تنگ زندگانی۔‘‘(پ۱۶، طٰہٰ : ۱۲۴)
قال الرضاء : ظاہر ہے کہ جب نعمت ملے شکر واجب ہے کہ قائم رہے اور زیادہ ملے ۔ حدیث شریف میں ہے : ’’نعمتیں وحشی ہوتی ہیں ، انہیں شکر سے مقید کرو۔‘‘([3])
اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ }
’’اور بیشک اگرتم شکر کروگے ، میں تمہیں زیادہ دوں گا۔‘‘ (پ۱۳، إبراہیم : ۷)
فائدہ :
قال الرضاء : حدیث میں قبولِ دعا دیکھنے کے وقت یہ دعا اِرشاد فرمائی :
((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ بِعِزَّتِہٖ وَجَلَالِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ))۔ ([4])
وَبِہٖ تمّ فصل الآداب، واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب۔ ) ([5])
قال الرضاء : وہ اوقات وحالات کہ جن میں بنظر ارشادِ احادیث وائمہ دین، اُمیدِ اِجابت بحمد اللہ قوی ہے ، پینتالیس ۴۵ہیں ۔
ازآں جملہ(ان میں سے ) چھتیس۳۶ حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہٗنے ذکر فرمائے اور نو۹ فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہٗ نے بڑھائے ۔ )
اوّل(۱) : شب ِقدر۔
قال الرضاء : کہ بقولِ اکثر شب بِسْت وہَفتُم ماہِ رمضان ہے ۔) (یعنی رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہے )۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع