30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے عزیزو! وہ ارحم الراحمین ہے اس سے نا امید ہونا مسلمان کی شان نہیں جو کافروں کو نعمت سے محروم نہیں رکھتا، تجھے کب محروم کرے گا۔ ؎
اے کریمے کہ از خزانۂ غیب
گبروترساوظیفہ خور داری([1])
دوستاں راکجا کنی محروم
توکہ با دشمناں نظر داری([2])
ادب ۵۰ : تندرسی وخوشی وفراغ دستی کی حالت میں دعا کی کثرت کرے تاکہ سختی ورنج میں بھی دعا قبول ہو۔
حدیث میں ہے : ((من؎[3] سرّہ أن یستجیب اللّٰہ لہ عند الشدائد والکُرَب فلیکثر الدعاء في الرَّخاء))۔
ادب ۵۱ : جس امر کا انجام یقینا نہ معلوم ہو کہ اپنے لئے کیسا ہے بلا شرطِ خیر وصلاح دعا نہ کرے ۔
قال الرضاء : ممکن ہے کہ جسے یہ اپنے حق میں خیر جانتا ہے انجام اس کا بُرا ہو اور بالعکس تو اپنے منہ سے اپنی مُضَرَّت (نقصان کی دعا) مانگنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : {عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠(۲۱۶)}
’’قریب ہے کہ تم کسی چیز کو مکروہ سمجھو گے اور وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور قریب ہے کہ تم کسی چیز کو دوست رکھو گے اور وہ تمہارے لیے بری ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔‘‘(پ۲، البقرۃ : ۲۱۶)
اور فرماتا ہے : {عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا(۱۹)}
’’قریب ہے کہ تم بعض چیزوں کو ناپسند کرو گے اور اللہ تعالیٰ ان میں خیر کثیر رکھے گا۔‘‘(پ۴، النسآء : ۱۹)
لہٰذا دعا یوں چاہئے کہ الٰہی! اگر میرے لیے یہ امر (کام) دین ودنیا وآخرت میں بہتر ہے تو عطافرما۔
جس کی خیر یت و مُضَرَّت یقینی ہے جس میں دوسرا پہلو نہیں وہاں اس شرط واستثناء کی حاجت نہیں ۔ مثلاً : الٰہی! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں ۔ الٰہی! مجھ کو دوزخ سے بچا۔‘‘ آمین۔
یہ وہ اکاو۱ ۵ ؔن آداب ہیں جو حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہٗنے اِفادہ فرمائے اب فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہٗ ۹ ؔنو اور ذکر کرتا ہے کہ سا۶۰ ؔٹھ کا عدد کامل ہو۔ وباللّٰہ التوفیق :
ادب ۵۲ : دعا تنہائی میں کرے ۔
حدیث میں آیا ہے : ’’پوشیدہ کی ایک دعا علانیہ کی ستَّر دعاکے برابر ہے ۔‘‘
رواہ أبو الشیخ والدیلمي عن أنس رضي اللّٰہ تعالی عنہ۔([4])
فائدہ عجیبہ : اَخیر محرم ۱۳۰۴ ھ میں فقیر نے بدایوں مدرسہ طیبہ قادریہ میں خواب دیکھا کہ ’’صحیح بخاری شریف‘‘ نہایت خوش خط ومحشّٰی میرے سامنے ہے ۔ اس کے حاشیے پر غالباً بروایتِ امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ حدیث لکھی ہے کہ الدعاء في الشمس مرّۃ أفضل من الدعاء في الظلّ سبع عشرۃ مرۃ۔
’’یعنی دھوپ میں ایک بار دعا سائے میں ستر ہ بار کی دعا سے بہتر ہے ۔‘‘
اس مضمون کی حدیث فقیر کی نظر سے کہیں نہ گزری حضرت عظیم البرکت مولینا مولوی محمد عبد القادر صاحب قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمْ سے بھی استفسار کیا (یعنی پوچھا) فرمایا : ’’میرے خیال میں بھی نہیں ۔‘‘ واللّٰہ تعالٰی أعلم۔
اسی طرح اب کوئی چند مہینے ہوئے اور سید شاہ فضل حسین صاحب پنجابی فقیر سے ’’صحیح بخاری شریف‘‘ پڑھتے تھے ایک دن فقیر نے اپنے مکان میں خواب دیکھا کہ ’’جامع صحیح‘‘ مطبوع مطبع احمدی پیش نظر ہے اور اس میں جابر بن عبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کی ایک اثرِ موقوف میں کسی مؤذن کی اذان کا ذکر اور اس پر بحث ہے کہ اس کی اذان مطابق سنّت ہے یا نہیں اس پر حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : قد سمعہ أفقہ بلدنا وأعظمھم علماً أبو حنیفۃ۔
یعنی اس کی اذا ن کیونکر صحیح نہ ہو حالانکہ اسے سنا ہے ہمارے شہر کے اکملِ فقہاء واعظم علماء ابو حنیفہ نے ۔
خواب کی باتیں اکثر تاویل طلب ہوتی ہیں تو حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا حضرت امام پر زماناً تَقَدُّم کچھ مضر نہیں ، واللّٰہ تعالی أعلم۔
ادب ۵۳ : جب قصدِ دعا ہو پہلے مسواک کر لے کہ اب اپنے رب سے مناجات کرے گا، ایسی حالت میں رائحۂمتغیّرہ (یعنی منہ کی بدبو) سخت ناپسند ہے خصوصاً حقّہ پینے والے
[1] ع خزانہ غیب کا تیرے کُھلا ہے بت پرستوں پر
تونصرانی، یہودی بھی کبھی محروم نہ چھوڑے
[2] ع جو فرمائے کرم ایسا کہ دشمن بھی رہیں شاداں
ہے تُوتو دوستِ عطاری ؔ !رہے محروم کیونکر تو
[3] جس کو یہ پسند ہو کہ مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے تو اس کو چاہیے کہ آسائش کے وقت دعا کی کثرت کرے ۔ (’’سنن الترمذي‘‘، باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، الحدیث : ۳۳۹۳، ج۵، ص۲۴۸۔)
[4] ’’مسند الفردوس‘‘ للدیلمي، باب الدال، الحدیث : ۲۸۶۹، ج۱، ص۳۸۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع