30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے ، کہ میں نے دعا مانگی، اب تک قبول نہ ہوئی ایسا شخص گھبرا کر دعا چھوڑ دیتا ہے اور مطلب سے محروم رہتا ہے ۔([1])
اے عزیز!تیرا پروردگار فرماتاہے :
{ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ-}
’’میں دعا مانگنے والے کی دعا قبو ل کرتا ہوں ، جب مجھ سے دعا مانگے ۔‘‘(پ۲، البقرہ : ۱۸۶)
{ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۴۵)}
’’دعا بہت مانگو اورمجھ کو اپنی مصیبت کے وقت یاد کرو تاکہ بلاء سے نجات پاؤ۔‘‘(پ۱۰، الأنفال : ۴۵)
{ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ(۷۵)}
’’ہم کیا اچھے قبول کرنے والے ہیں ۔‘‘(پ۲۳، الصّٰفّٰت : ۷۵)
{ اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-}
’’مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں ۔‘‘(پ۲۴، المؤمن : ۶۰)
پس یقین سمجھ کہ وہ تجھے اپنے دَر سے محروم نہیں کرے گا اور اپنے وعدے کو وَفا فرمائے گا وہ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرماتاہے :
{ وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ(۱۰)} ’’سائل کو نہ جھڑک۔‘‘(پ۳۰، الضحٰی : ۱۰)۔
آپ کس طرح اپنے خوانِ کرم سے دور کرے گا بلکہ وہ تجھ پر نظرِ کرم رکھتاہے کہ تیری دعاکے قبول کرنے میں دیر کرتاہے ۔
ابن ابی شیبہ وبیہقی وصابونی کی حدیث میں ہے : حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’جب کوئی پیارا خدائے تعالیٰ کا دعا کرتاہے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کہتے ہیں : الٰہی! تیرا بندہ تجھ سے کچھ مانگتاہے ۔ حکم ہوتا ہے ٹھہروف، ابھی نہ دو تاکہ پھر مانگے کہ مجھ کو اس کی آواز پسند ہے ۔‘‘
خوش ہمی آید مرا آواز اُو
واں خدایا گفتن وآں رازِ اُو([2])
اور جب کوئی کافر یا فاسق دعا کرتاہے ، فرماتا ہے : اس کا کام جلدی کر دو تاکہ پھر نہ مانگے کہ مجھ کو اس کی آواز مکروہ (ناپسند) ہے ۔([3])
یحییٰ بن سعید بن قَطَّان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ([4])نے جناب باری کو خواب میں دیکھا عرض کی :
الٰہی! میں اکثر دعا کرتا ہوں اور تو قبول نہیں فرماتا حکم ہوا : اے یحییٰ! میں تیری آواز کو دوست رکھتا ہوں اس واسطے تیری دعا میں تاخیر کرتا ہوں ۔([5])
قال الرضاء : سگانِ دنیا([6])کے اُمیدواروں کو دیکھا جاتا ہے کہ تین تین برس تک اُمیدواری میں گزارتے ہیں صبح وشام ان کے دروازوں پر دوڑتے ہیں اور وہ ہیں کہ رُخ نہیں ملاتے ، بار نہیں دیتے ، جھڑکتے ، دل تنگ ہوتے ، ناک بھَوں چڑھاتے ہیں امیدواری میں لگایا تو بیگار ڈالی، یہ حضرت گرہ (اپنے پَلّے ) سے کھاتے گھر سے منگاتے بیکار بیگار کی بلاء اٹھاتے ہیں اور وہاں برسوں گزریں ہَنوز روزِ اوّل ہے مگر یہ نہ امید توڑیں نہ پیچھا چھوڑیں اور أَحکَمُ الحاکِمِین أَکرَمُ الأَکرَمِین عَزَّ جَلَالُہ کے دروازے پر اوّل تو آتا ہی کون ہے اور آئے بھی تو اُکتاتے ، گھبراتے ، کل کا ہوتا آج ہو جائے ، ایک ہفتہ کچھ پڑھتے گزرا اور شکایت ہونے لگی، صاحب پڑھا تو تھا کچھ اثر نہ ہوا، یہ احمق اپنے لیے اجابت کا دروازہ خود بند کر لیتے ہیں ۔([7])
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ((یستجاب لأحدکم ما لم یعجل یقول : دعوت فلم یستجب لي))۔ ([8])
[1] ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الذکر والدعاء، باب بیان أنہ یستجاب للداعي ما لم یعجل إلخ، الحدیث : ۲۷۳۵، ص۱۴۶۳۔
فـــ : قبول میں دیر سے نہ گھبرانے کے بیان میں ۔
[2] ع پسند آتی ہے مجھ کو تو وہی آواز اے بندے !
تو جس میں راز کہتا ہے مجھے پکار اٹھتا ہے
[3] ’’شعب الإیمان‘‘، فصل في ذکر ما في الأوجاع إلخ، الحدیث : ۱۰۰۳۴، ج۷، ص۲۱۱۔
[4] آپ کا پورا نام ابوسعید یحییٰ بن سعیدبن فرُّوخ قطان تمیمی بصری ہے آپ حدیث کے بہت بڑے امام ہیں ، ابن عمار کہتے ہیں کہ عبد الرحمن بن مہدی نے آپ سے آپکی حیات میں ہی دو ہزار حدیثیں روایت کیں ، ابراہیم بن محمد تیمی فرماتے ہیں : ـ میں نے علم الرجال کا آپ سے زیادہ ماہر نہیں دیکھا، امام خلیلی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری کوآپ کی قوتِ حافظہ پر حیرت ہوتی تھی، آپ کا انتقال صفر ۱۹۸ ھ میں ہوا۔
(ماخوذ من ’’تہذیب التہذیب‘‘ لابن حجر، ج۹، ص۲۳۴-۲۳۷)
[5] ’’الرسالۃ القشیریۃ‘‘، باب الدعاء، ص۲۹۷۔
[6] سگان، سگ کی جمع ہے اور سگ فارسی میں کتے کو کہتے ہیں چونکہ اہل اللہ رحمھم اللّٰہ اربابِ اقتدار سے دور ہی رہتے ہیں اور یہ طبقہ عموما ظلم وستم اور غرور وتکبر سے بچ نہیں سکتا، اقتدار کے نشے میں نہ جانے یہ حکاّم اپنے آپ کو کیا سمجھے ہوتے ہیں ۔ اسی لئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے ان کو سگان ِ دنیا کہہ کر مخاطَب کیا۔
[7] بعض اوقات دنیوی افسران کسی کو آئندہ ملازمت کی امید دلا کر بلا اُجرت کام لیتے اورطرح طرح سے نخرے دکھاتے ہیں مزید یہ کہ اس امیدوار کو اپنے اخراجات وغیرہ بھی اپنے پلے سے دینے پڑتے ہیں ، ان تمام مصیبتوں اوربلاؤں کے باوجود دنیوی لالچ کا حال یہ ہے کہ امید ختم نہیں ہوتی اور سالہا سال اس امید پر لگادیتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی تو نوکری مل ہی جائیگی اور اسی وجہ سے انکے دفاتر کے صبح شام چکر لگاتے ہیں ، اور وہ افسرہیں کہ انھیں منھ تک نہیں ٰلگاتے ، انھیں جھڑکیاں کھلاتے ، اور وہ برسا برس گزرجانے کے باوجود اسے پہلا دن سمجھتے ہیں ۔ دنیا دارافسروں کے بارے میں توان دنیا چاہنے والوں کا یہ طرزِ عمل ! لیکن غیب سے روزی دینے والے احکم الحاکمین جَل جَلَالُہ کی بارگاہ میں !پہلی بات تو کوئی اپنی عرضی دیتا ہی نہیں اور دیتے بھی ہیں تو اُکتاتے ، گھبراتے ہوئے کہ کل کا ہوتا کام آج بلکہ ابھی ہوجائے ، اگر کسی نے حصول مقصد کیلئے کوئی وظیفہ بتایابھی توابھی ہفتہ بھربھی نہ پڑھا تھاکہ شکوہ کرنا شروع کردیا کہ میں نے وظائف بھی کیے لیکن کچھ اثر نہیں ہوا ، اور اتنا بے وقوف ہے کہ یہ نہیں جانتا کہ وہ شکوہ کرکے اپنے لئے دعا کی قبولیت کا دروازہ خود بند کرچکاہے ۔
[8] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، الحدیث : ۳۶۱۹، ج۵، ص۳۴۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع