30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْمُکے وقت سے جاری ۔ اللہ تعالیٰ ان سے حکایت فرماتا ہے : { رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ }۔([1])
قال الرضاء : اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْمُسے حکایت فرمائی :
{ رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱)}([2])
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے : { رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)}۔)([3])
ادب ۴۲ : سنّت یوں ہے کہ پہلے اپنے نفس کے لیے دعا مانگے ، پھر والدین ودیگر اہلِ اسلام کو شریک کرے ۔
قال الرضاء : سعید بن یسار کہتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک شخص کو یاد کر کے میں نے اس کے لئے دعائے رحمت کی حضرت ابن عمر نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ’’پہلے اپنے نفس سے ابتدا کر۔‘‘
رواہ ابن أبي شیبۃ۔([4])
امام نخعی فرماتے ہیں : ’’جب دعا کرے ، اپنے نفس سے ابتدا کرے ، تجھے کیا خبر کہ کونسی دعا قبول ہوجائے ۔‘‘([5])
اورصحاح([6]) میں ثابت کہ حضور سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب کسی کے لیے دعا فرماتے اپنے نفسِ نفیس سے ابتدا فرماتے اور بارہا حضور اقدس سے اس کا خلاف بھی ثابت۔
امام بدر الدین زرکشی ’’حواشي ابن الصلاح‘‘ میں یوں تطبیق دیتے ہیں کہ اگر اپنے اور دوسرے کے لیے ایک ہی بات کی دعا کرے ، تواپنے نفس سے ابتداء کرے مثلاً : اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ (اے اللہ ! میری اور میرے والدین کی بخشش فرما) اور اگر مدعا غیرِ غیر ہو (دوسرے کیلئے کوئی اور دعا کرنی ہو) تو اختیار ہے ۔ جیسے : اَللّٰھُمَّ اشْفِ فُلاناً وَاغْفِرْ لِيْ (اے اللہ ! میرے فلاں بھائی کو شفا دے اور میری بخشش فرما) یا اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِيْ وَاقْضِ دَیْنَ فُلانٍ (اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما اور میرے فلاں بھائی سے قرض کا بوجھ اتار دے )۔
اور’’شرح عقیدہ برہانیہ ‘‘میں ہے کہ دعا میں اپنے نفس پر بھائی مسلمانوں کو مقدم رکھے مگر یہ مرتبہ ایثار([7]) کا ہے ۔ حدیث میں ہے : ’’جب بندہ اپنے بھائی مسلمان کے لئے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لبیک اے میرے بندے ! اور میں پہلے تجھ سے شروع کروں گا۔‘‘([8])اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہو گی کہ اِجابت (قبولیت) میں اس سے بِدایت (ابتداءً)ہوگی تو مقام ایثار مقامِ عالی وشریف ہے ۔‘‘ یہ لکھ کر اخیر میں اختیار دے دیا کہ فإن شاء بدء بنفسہ وإن شاء بدء بغیرہ، انتھی۔([9])
علامہ شہاب خفاجی مصری ’’نسیم الریاض‘‘ میں فرماتے ہیں : ان اقوال میں یوں جمع کر سکتے ہیں کہ ہر امر کے لئے ایک مقام جداگانہ ہے اور ہر شخص کے لیے اس کی نیت، انتہی۔
أقول : ظاہراً یہ ایثار مقامِ خواص ہے اور عوام کو تقدیمِ نفس (پہلے اپنے لئے دعا مانگنا)ہی مناسب۔ ولہٰذا شارع صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہ عام کے لیے تشریع فرماتے ، اکثر یہی منقول بلکہ فقیر کے خیال میں نہیں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دعا میں اپنے نفس اقدس کو اوروں سے مؤخر(یعنی پیچھے )رکھنا ثابت ہو۔ ہاں دعا لِلْغیرپر اقتصار بارہا ہوا ہے (ہاں ! کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ صرف دوسرے کیلئے ہی دعا فرمائی ہے )اور حدیث صحیح : ((ابدأ بنفسک ثم بمن تعول)) ([10])سے بھی اس معنی پر استدلال کر سکتے ہیں ۔ شرع مُطہَّر میں حقِ نفس، حقِ غیر پر بے شک مقدم۔ واللّٰہ سبحانہ وتعالی أعلم۔ )
ادب ۴۳ : حتی الوَسْع اوقات واَماکنِ اِجابت کی رعایت کرے ۔([11])
ادب ۴۴ : آمین پر ختم کرے کہ دعا کی مُہْر ہے ۔
[1] ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو۔‘‘ (پ۲۹، نوح : ۲۸)
[2] ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا۔‘‘(پ۱۳، إبراہیم : ۴۱)
[3] ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے میرے رب! تو ان دنوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن (بچپن) میں پالا۔‘‘ (پ۱۵، بنیٓ إسرآئیل : ۲۴)
[4] اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔
’’المصنَّف‘‘ لابن أبي شیبۃ، کتاب الدعائ، باب من قال : إذا دعوت فابدأ بنفسک، الحدیث : ۴، ج۷، ص۳۳۔
[5] المرجع السابق۔
[6] صِحَاح، یہ لفظِ ’’ صحیح‘‘ کی جمع ہے اور اس سے مراد حدیث کی وہ کتابیں جن میں اکثر صحیح حدیثوں کا اہتمام کیا گیا ہو مثلاً : ’’صحیح البخاری ‘‘، ’’صحیح مسلم‘‘ وغیرہ ۔
[7] دوسروں کی خواہش اورحاجت کو اپنی خواہش و حاجت پر ترجیح دینا ایثار کہلاتا ہے ۔
(’’مدینے کی مچھلی‘‘، ص ۳، مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ ، کراچی)۔
[8] ’’إحیاء علوم الدین‘‘، کتاب آداب الألفۃ إلخ، الباب الثاني، ج۲، ص۲۳۲۔
[9] آخر میں صاحبِ ’’عقیدۂ برہانیہ ‘‘ لکھتے ہیں کہ اب اگر چاہے تو اپنے آپ سے دعامیں پہل کرے اور اگر چاہے تو اپنے دوسرے بھائی کو مقدم کرے ۔
[10] اپنے آپ سے ابتدا کیجئے پھر وہ جو آپ کی کفالت میں ہیں ۔
(’’فتح القدیر‘‘، کتاب أدب القاضي، مسائل منثور من کتاب القضاء، ج۶، ص۴۳۶)
[11] یعنی جن جن اوقات ومقامات سے متعلق احادیث یا اقوال، بزرگانِ دین رحمہم اللہ تعالٰی سے منقول کہ ان اوقات یا مقامات میں مولیٰ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم اپنے بندوں کے شامل حال رہتاہے ان اوقات ومقامات کی رعایت کرتے ہوئے ان میں خاص طورپر اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے حضور دعا کرے ۔
نوٹ : ا ن اوقات ومقامات کو جاننے کیلئے اسی کتاب میں تیسری اورچوتھی فصل کا مطالعہ فرمائیے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع