دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            بعض کتابوں   میں   ہے :   یہ دعا جامع وکافی ہے :

            ’’ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا ؎[1]حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ‘‘۔

            ’’خدایا! ہمیں   دنیا وآخرت کی بھلائی عنایت فرما اور دوزخ کی آگ سے بچا۔‘‘(پ۲، البقرۃ :   ۲۰۱)۔

            عبداللہ بن مُغفَّل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹے نے دعا کی :  ’’خدا یا مجھے بِہِشت میں   ایک سپید (سفید) محل دے کہ جاتے وقت میرے دہنے ہاتھ پر پڑے فرمایا :  اے بیٹا! خدا سے بہشت کا سوال کر اور دوزخ سے پناہ چاہ‘‘، فضول باتوں   سے کیا فائدہ۔([2])

          ادب ۳۶ :  دعا میں   سَجْع اورتَکلُّف سے بچے کہ باعث شغلِ قلب وزوالِ رِقّت ہے ۔([3])حدیث میں   آیا :   ((إیّاکم والسجعَ في الدعاء))۔ ([4])

          قال الرضاء :  اور حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعاؤں   میں    سجع کا آنا،  سجعکا آنا ہے نہ کہ سجع کا لانا اور محذور مُسَجَّع کرنا ہے نہ کہ مسجّع ہونا کہ مشوِّشِ خاطر وہی ہے نہ کہ یہ، ولہٰذا حضرت مُصَنِّف عَلَّام  قُدِّسَ سِرُّہٗ نے لفظِ ’’تکلُّف‘‘ زیادہ فرمایا۔)([5])

          ادب ۳۷ :  راگ اور زمزمے (ترنُّم) سے احتراز کرے کہ خلافِ ادب ہے ۔

          ادب ۳۸ :  اللہ تعالیٰ سے اپنی کُل حاجتیں   مانگے ۔

            قال الرضاء :  اس کی تحقیق حضرت مُصَنِّف  قُدِّسَ سِرُّہٗ عنقریب اِفادہ فرمائیں   گے ۔ )

          ادب ۳۹ :  بہتر ہے کہ جو دعائیں   حدیثوں   میں   وارد اور اکثر مطا لبِ دنیا وآخرت (یعنی دنیا وآخرت کی مرادوں) کو جامع ہیں   اِنہیں   پر اقتصار (اکتفا) کرے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کوئی حاجتِ نیک دوسرے کے مانگنے کو نہ چھوڑی۔

          قال الرضاء :  مگر کوئی دعائے ماثور(قرآن وحدیث میں   وارد دعائیں  ) مُعیَّن نہ کرے کہ تعیین واِدامت (ہمیشگی)باعث زوالِ رقت وقلتِ حضور ہوتی ہے ۔ )

          ادب ۴۰ :  جب اپنے لیے دعا مانگے تو سب اہلِ اسلام کو اس میں   شریک کرلے ۔

          قال الرضاء : کہ اگریہ خود قابلِ عطا نہیں   کسی بندے کا طُفَیلی ہو کر مراد کو پہنچ جائے گا۔ )

            ابو الشیخ اصبہانی نے ثابت بنانی سے روایت کی :  ’’ہم سے ذکر کیا گیا جو شخص مسلمان مردوں   اور عورتوں   کے لیے دعائے خیر کرتا ہے قیامت کو جب ان کی مجلسوں   پر گزرے گا ایک کہنے والا کہے گا :  یہ وہ ہے کہ تمہارے لیے دنیا میں   دعائے خیر کرتا تھا پس وہ اس کی شفاعت کریں   گے اور جناب اِلٰہی میں   عرض کر کے بہشت میں   لے جائیں   گے ۔‘‘

            یہاں   تک کہ حدیث میں   ہے :  ’’جو شخص نماز میں   مسلمان مردوں   اور عورتوں   کے لئے دعا نہ کرے وہ نماز ناقص ہے ۔‘‘([6])

          قال الرضاء :  یہ بھی ابو الشیخ نے روایت کی اور خود قرآن عظیم میں   ارشاد ہوتا ہے :  { وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ    }

            ’’مغفرت مانگ اپنے گناہوں   کی اور سب مسلمان مردوں   اور مسلمان عورتوں   کے لیے ۔‘‘([7]) (پ۲۶، محمد :  ۱۹)

            حدیث میں   ہے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک شخص کو ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ‘‘ (اے اللہ ! میری مغفرت فرما) کہتے سنا ، فرمایا :  ’’اگر عام کرتا تو تیری دعا مقبول ہوتی۔‘‘([8])

            دوسری حدیث میں   ہے :   ایک نے ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِيْ‘‘ (اے اللہ ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما) کہا۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’اپنی دعا میں   تعمیم کر کہ دعائے خاص وعام میں   وہ فرق ہے جو زمین وآسمان میں  ۔‘‘([9])

 



[1]    فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً اَيْ :  رَحْمَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً  اَيْ :  اَلْجَنَّۃَ۔ ۱۲ منہ قدس سرہ

یعنی دنیا میں   بھلائی سے مراد رحمت اور آخرت میں   بھلائی سے مراد جنت ہے ۔

[2]    ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الدعاء، باب کراہیۃ الاعتداء في الدعاء، الحدیث :  ۳۸۶۴، ج۴، ص۲۸۲۔

[3]    یعنی :  دعا میں   جان بوجھ کر ہم قافیہ وہم وزن جملے استعمال نہ کئے جائیں   کہ اس سے یکسوئی ختم ہوتی ہے اور رِقَّت جاتی رہتی ہے ۔

[4]    ’’دعا میں   سجع سے بچو۔‘‘

  ’’إحیاء علوم الدین‘‘، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۵۔

 و ’’اتحاف السادۃ المتقین‘‘، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۵، ص۲۴۹۔

[5]    یعنی دعا میں   جس سجع سے بچنے کا حکم ہے اس سے مرادقصداً اپنے کلام کو ہم وزن وہم قافیہ کرناہے  کیونکہ ممانعت کی وجہ دھیان بٹنا اوریکسوئی ختم ہونا ہے اور اگر کسی کا کلام بلا تکلُّف مُسَجَّع(یعنی ہم وزن وہم قافیہ )ہوتاہو تو یہ ہرگز منع نہیں  ؛ لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جو مُسَجَّع دعائیں   منقول ہیں   وہ ہرگز ہرگز اس ممانعت کے تحت داخل نہیں   کہ وہ بلا تکلُّف ہیں   اسی وجہ سے مُصنّف مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّان  نے لفظ ِ’’تکلُّف‘‘ کی قید کا اضافہ فرمایا ہے ۔

[6]    ’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث :  ۳۳۷۸، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۹، (بحوالہ ابو الشیخ)۔

[7]    یہاں   ترجمہ میں   خطاب حضور علیہ الصلاۃوالسلامسے نہیں   بلکہ کسی بھی عام مومن کو یہ دعا تعلیم کی جارہی ہے کہ اپنے اورعام مسلمانوں   کے لیے دعائے مغفرت طلب کر جیسا کہ سیاق و سباق سے بھی واضح ہے ۔ اس حوالے سے مکمل وضاحت کے لیے دیکھئے ’’فتاوی رضویہ ‘‘، جلد۲۹، ص ۳۹۴ سے ۴۰۱ تک ، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔

[8]    ’’رد المحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ،  مطلب :  في الدعاء بغیر العربیۃ، ج۲، ص۲۸۶۔

[9]    ’’مراسیل أبي داود‘‘، باب ما جاء في الدعاء، ص۸۔

  و’’رد المحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، آداب الصلاۃ، مطلب :  في الدعاء بغیر العربیۃ، ج۲، ص۲۸۶۔

’’اپنی دعا میں   تعمیم کر ‘‘یعنی کسی مخصوص شخص ہی کیلئے دعا کرنے کے بجائے تمام مسلمانوں   کو اپنی دعا میں   شامل کر کہ کسی خاص شخص کیلئے دعا اور سب مسلمانوں   کیلئے دعا، ثواب اور قبولیت کے اعتبار سے زمین وآسمان کا سا فرق رکھتی ہے ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن