دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            ’’جو کسی تکلیف میں   مجھ سے مددمانگے وہ تکلیف دور ہو اور جو کسی سختی میں   میرا نام لے کر پکارے وہ سختی دفع ہو اور جو کسی حاجت میں   مجھے وسیلہ کرے ، وہ حاجت روا ہو۔‘‘

            اور فرماتے ہیں  :  ’’إذا سألتم اللّٰہ فاسئلوا بي۔‘‘([1])

            ’’جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو میرے وسیلے سے مانگو، تمہاری مراد پوری ہوگی۔‘‘

            یہ مضامین باَسانیدِ صحیحہ (یعنی صحیح سندوں   سے ) اس جناب سے ائمہ دین واکابرِ معتمدین نے روایت فرمائے ۔ )

          ادب ۲۳ :   اپنی عمر میں   جو نیک عمل خالصاً لوجہ اللہ  ہوا ہو، اُس سے توسل کرے کہ جالبِ رحمت ہے (یعنی رحمتِ الٰہی کا سبب ہے )۔

          قال الرضاء :   قصۂ اَصحاب الرقیم اس پردلیل کافی۔ ) ([2])

 

          ادب۲۴ :  بہ کمالِ ادب ہاتھ آسما؎ن([3])کی طرف اُٹھا کر سینے یا شانوں   یا چہرے کے مقابل لائے یا پورے اٹھائے یہاں   تک کہ بغل کی سپیدی ظاہر ہو، یہ اِبتہال ہے (یعنی گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرنا ہے )۔

          ادب ۲۵ :  ہتھیلیاں   پھیلی رکھے ۔

          قال الرضاء :  یعنی اُن میں   خَم نہ ہو کہ آسمان قبلۂ دعا ہے ، ساری کفِ دست مواجۂ آسمان رہے ([4])۔ )

          ادب ۲۶ :   ہاتھ کھلے رکھے ، کپڑے وغیرہ سے پوشیدہ نہ ہوں  ۔

          قال الرضاء :  ہاتھ اٹھانا اور کریم کے حضور پھیلانا، اِظہارِ عجز وفقر کیلئے مشروع ہوا (عاجزی اور فقیری ظاہر کرنے کیلئے جائز ہوا)، تو ان کا چھپانا اس کے مُخِل(خلل کا باعث) ہو گا۔ جس طرح عمامے کے پیچ پر سجدہ مکروہ ہوا کہ اصل مقصود ِسجود یعنی اِظہارِ تَذلُّل (عجز واِنکساری) میں   خلل انداز ہے ۔ نماز میں   منہ چھپانا مکروہ ہوا کہ صورت ِتوجہ کے خلاف ہے اگرچہ رب عَزَّ وَجَلَّ  سے کچھ نِہاں   (پوشیدہ) نہیں  ۔

            ھذا ما ظھر لي، واللّٰہ تعالٰی أعلم۔([5]))

          ادب ۲۷ :  دعا نرم وپست آواز سے ہو کہ اللہ تعالیٰ سمیع وقریب ہے جس طرح چلّانے سے سنتا ہے اسی طرح آہستہ۔

          قال الرضاء :  بلکہ وہ اسے بھی سنتا ہے جو ہَنوز(ابھی) زبان تک اصلاً نہ آیا یعنی دلوں   کا اِرادہ، نیت، خطرہ کہ جیسے اس کا علم تمام مَوجُودا ت ومَعْدُومات  کو مُحِیط ( گھیرے ہوئے )ہے یونہی اس کے سمع وبصر جمیع موجودات کو عام وشامل ہیں   اپنی ذات وصفات اور دلوں   کے اِرادات وخطرات اورتمام اَعیان واَعراضِ کائنات ہر شئے کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی نہ اس کا دیکھنا رنگ و ضَوء (رنگ وروشنی)سے خاص نہ اس کا سننا آواز کے ساتھ مخصوص( کسی آواز کا محتاج){ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ(۱۹)([6]))

            { اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-} (پ۸، الأعراف :  ۵۵)۔

 



[1]    ’’بہجۃ الأسرار‘‘، ذکر کلمات أخبربہا عن نفسہ محدثا   إلخ، ص۵۴۔

[2]    ’’صحیح بخاری شریف ‘‘وغیرہ میں   عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی کہتے ہیں  کہ میں   نے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سُنا کہ فرماتے ہیں  : ’’اگلے زمانہ کے تین شخص کہیں   جا رہے تھے سونے کے وقت ایک غار کے پاس پہنچے اُس میں  یہ تینوں   شخص داخل ہوگئے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے گری جس نے غار کو بند کردیا اُنہوں   نے کہا :  اب اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں   بجز اس کے کہ تم نے جوکچھ نیک کام کیا ہو اُس کے ذریعہ سے اﷲ سے دُعا کرو، ایک نے کہا :  اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے جب میں   جنگل سے بکریاں   چَرا کر لاتا تو دودھ دوہ کر سب سے پہلے اُن کو پلاتا اُس سے پہلے نہ اپنے بال بچوں   کوپلاتا نہ لونڈی غلام کو دیتا ایک دن میں   جنگل میں   دور چلا گیا رات میں   جانوروں   کو لے کر ایسے وقت آیا کہ والدین سو گئے تھے میں   دودھ لیکر اُن کے پاس پہنچا تو وہ سو ئے ہوئے تھے بچے بھوک سے چلا رہے تھے مگر میں   نے والدین سے پہلے بچوں   کو پلانا پسند نہ کیا اور یہ بھی پسند نہ کیا کہ انہیں   سوتے سے جگادوں   دودھ کا پیالہ ہاتھ پر رکھے ہوئے ان کے جاگنے کے انتظار میں   رہا یہاں   تک کہ صبح چمک گئی اور وہ جاگے اور دودھ پیا ، اے اﷲ! اگر میں   نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیا ہے تو اس چٹان کو کچھ ہٹا دے اس کا کہنا تھا کہ چٹان کچھ سرک گئی مگر اتنی نہیں   ہٹی کہ یہ لوگ غار سے نکل سکیں  ، دوسرے نے کہا :  اے اﷲ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جس کو میں   بہت محبوب رکھتا تھا میں   نے اُس کے ساتھ بُرے کام کا ارادہ کیا اُس نے انکار کردیا وہ قحط کی مصیبت میں   مبتلا ہوئی میرے پاس کچھ مانگنے کو آئی میں   نے اُسے ایک سو بیس۱۲۰ اشرفیاں   دیں   کہ میرے ساتھ خلوت کرے وہ راضی ہوگئی جب مجھے اُ س پر قابو ملا تو بولی کہ ناجائز طور پر اس مُہر کا توڑنا تیرے لئے حلال نہیں   کرتی۔ اس کام کو گناہ سمجھ کر میں  ہٹ گیا اور اشرفیاں   جو دے چکا تھا وہ بھی چھوڑ دیں  ، الٰہی! اگر یہ کام تیری رضا جوئی کے لئے میں   نے کیاہے تو اس کوہٹا دے اس کے کہتے ہی چٹان کچھ سرک گئی مگر اتنی نہیں   ہٹی کہ نکل سکیں  ، تیسرے نے کہا :  اے اﷲ! میں   نے چند شخصوں   کو مزدوری پر رکھا تھا اُن سب کو مزدوریاں   دیدیں   ایک شخص اپنی مزدوری چھوڑ کرچلاگیا اُس کی مزدوری کو میں   نے بڑھایا یعنی اُس سے تجارت وغیرہ کوئی ایساکام کیا جس سے اُس میں   اضافہ ہوا اُس کو بڑھا کر میں   نے بہت کچھ کرلیا وہ ایک زمانہ کے بعد آیا اور کہنے لگا :  اے خدا کے بندہ! میری مزدوری مجھے دیدے ، میں   نے کہا :  یہ جو کچھ اونٹ، گائے ، بیل بکریاں  ، غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیری ہی مزدوری کا ہے سب لے لے ، بولا :  اے بندۂ خدا! مجھ سے مذاق نہ کر میں   نے کہا :  مذاق نہیں   کرتا ہوں   یہ سب تیر اہی ہے لے جا وہ سب کچھ لے کر چلا گیا، الٰہی! اگر یہ کام میں   نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اسے ہٹا دے وہ پتھر ہٹ گیا یہ تینوں   اُ س غار سے نکل کر چلے گئے ۔(’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الإجارۃ، باب من استأجر أجیرا   إلخ، الحدیث :  ۲۲۷۲، ج۲ ، ص۶۷۔)

    امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بھی مذکورہ قصہ کومختصراً’’فتاویٰ رضویہ‘‘ جلد۲۳کے صفحہ۵۳۹-۵۴۰پر بیان فرمایا ہے ۔

[3]    بعض احادیث سے مستفاد کہ طلب نعمت کی دعا ہو تو کفِ دست (ہتھیلی) سوئے آسمان کرے اورردّ ِ بَلاکی توپشتِ دست۔ مگر ’’ابو داؤد‘‘ وغیرہ کی حدیث میں   ہے کہ پشت دست سے دعا نہ کرو اور بعض اوقات دعا کے وقت صرف انگشتِ شہادت سے اِشارہ بھی آیا اورامام محمد بن حنفیہ سے منقول کہ دعا چار قسم ہے :  

            اوّل :  دعائے رغبت(یعنی کسی چیز کے حصول کی دعا)، اس میں   بطنِ کف (ہتھیلی کا پیٹ) جانبِ آسمان ہو۔

            دوم :  دعائے رَہْبَت(یعنی کسی چیز سے بچنے کی دعا)، اس میں   پشتِ دست اپنے چہرے کی طرف ہو۔

            سوم :  دعائے تَضَرُّع(یعنی گڑگڑانے والی دعا )، اس میں   خِنصر وبِنصر (چھنگلیا اور اس کے برابر والی انگلی) بند اور وُسطی واِبہام (درمیانی انگلی اورانگوٹھا) کا حلقہ کر کے مسبّحۃ (شہادت کی انگلی) سے اشارہ کرے ۔

چہارم : دعائے خفیہ کہ بندہ صرف دل سے عرض کرے ، زبان نہ ہلائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم  ۱۲ منہ قدّس سرّہ۔ (’’البحر الرائق‘‘، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج۲، ص۷۷)۔

[4]    یعنی انگلیوں   سمیت پوری ہتھیلی آسمان کی طرف رہے ۔

[5]    یہ وہ گوہر پارے ہیں   جو میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ پر ظاہر فرمائے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سب سے زیادہ علم والا ہے ۔

[6]    ترجمۂ کنز الایمان :  ’’بے شک وہ سب کچھ دیکھتا ہے ۔‘‘   (پ۲۹، الملک :   ۱۹)۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن