30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قال الرضاء : اگر اس مبارک تصور نے وہ غلبہ کیا کہ زبان بند ہو گئی تو سبحان اللہ ! یہ خاموشی ہزار عرض سے زیادہ کام دے گی ورنہ اس قدر تو ضرور کہ مُورِثِ حیا واَدب وخضوع وخشوع ہوگا(یعنی یہ زبان کا خاموش ہونا حیا وادب اورظاہر وباطن سے اس کی بارگاہ میں حاضری کا باعث ہوگا)کہ یہی روحِ دُعا ہے دُعا بے اِس کے تنِ بے جان (بے جان جسم) اورتنِ بے جان سے اُمید جہالت۔ )
ادب ۱۹ : اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمتوں کو، جو باوُجود گناہ، اس کے حال پر فرماتا رہا، یاد کر کے شرمندہ ہو۔
قال الرضاء : یہ شرم باعثِ دل شکستگی ہو گی اور اللہ تعالیٰ دلِ شکستہ سے بہت قریب ہے ۔ حدیثِ قُدسی میں ہے : ((أنا عند المنکسرۃ قلوبُھم لأجلي)) ([1]) اور نیز تصورِ رحمت جرأتِ عرض پر باعث ہو گا۔
((ومن فتحت لہ أبواب الدعاء فتحت لہ أبواب الإجابۃ)) ([2])۔
’’جس کے لیے دعا کے دروازے کھلتے ہیں ، اِجابت (قبولیت) کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں ‘‘۔ )
ادب ۲۰ : اللہ جل جلالہٗ کی قدرتِ کاملہ اور اپنے عجز واحتیاج پر نظر کرے کہ موجبِ اِلحاح وزاری ہے (یعنی گریہ وزاری کا باعث ہے )۔
ادب ۲۱ : شروع میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اس کے محبوب ناموں سے پکارے ۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے اسم پاک’ ’أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ‘‘پر ایک فرشتہ مقرر فرمایا ہے کہ جو شخص اسے تین بار کہتا ہے ، فرشتہ ندا کرتا ہے : مانگ کہ ’’أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن‘‘ تیری طرف متوجہ ہوا۔‘‘([3])
اورپانچ بار ’’یَا رَبَّنَا‘‘ کہنا بھی نہایت مؤثر ِاجابت ہے (یعنی دعا کی قبولیت میں بہت اَثر رکھتا ہے )۔ قرآن مجید میں اس لفظ مبارک کو پانچ بار ذکر کر کے اس کے بعد ارشاد فرمایا :
{ فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ } ’’تو ان کی دعا قبول کی اُن کے رب نے ۔‘‘(پ۴، اٰل عمران : ۱۹۵)۔
امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے منقول ہے : ’’جو شخص عجز کے وقت پانچ بار ’’یَا رَبَّنَا‘‘ کہے ، اللہ تعالیٰ اسے اس چیز سے جس کا خوف رکھتا ہے ، امان بخشے اور جو چیز چاہتا ہے ، عطا فرمائے پھر یہ آیتیں تلاوت کیں : {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-} إلی قولہ تعالی : { اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ(۱۹۴)} (پ۴، اٰل عمران : ۱۹۱-۱۹۴)([4]) اور اَسمائے حُسنیٰ کا فضل خود پوشیدہ نہیں ۔‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ کے مبارک ناموں کی فضیلت اور انکی برکت تو ظاہر ہی ہے )۔
ادب ۲۲ : اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور اس کی کتابو ں خصوصاً قرآن اور ملائکہ وانبیائے کرام بالخصوص حضور سیّد الانام عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ اور اس کے اولیاء واصفیاء بالتخصیص (خصوصاً) حضور غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے توسّل اور انہیں اپنے اِنجاحِ حاجات کا ذریعہ کرے (یعنی : ان تمام کواپنی حاجات کے پورا ہونے کے لیے وسیلہ بنائے ) کہ محبوبانِ خدا کے وسیلے سے دعا قبول ہوتی ہے ۔
قال الرضاء : قال اللّٰہ تعالی : { وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ }
’’اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو‘‘۔ (پ۶، المائدۃ : ۳۵)
صحیح حدیث میں نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیم فرمایا کہ یوں دعا کی جائے :
((اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِيِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ تَوَجَّھْتُ بِکَ إِلٰی رَبِّيْ فِي حَاجَتِيْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِيْ))۔ ([5])
’’اِلٰہی میں تجھ سے مانگتا اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وسیلہ سے جو مہربانی کے نبی ہیں ، یا رسول اللہ ! میں نے حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف توجہ کی اپنی اس حاجت میں کہ میرے لیے پوری ہو۔‘‘
’’صحیح بخاری‘‘ میں ہے ، امیر المؤمنین عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دعا کی : إنّا نتوسّل إلیک بعمّ نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاسقنا۔([6])
’’الٰہی! ہم تیری طرف توسل کرتے ہیں ، اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چچا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہ بارانِ رحمت بھیج۔‘‘
حضور غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’من استغاث بي في کربۃ کشفت عنہ ومن نادی باسمي في شدۃ فرجت عنہ ومن توسّل بي في حاجۃ قضیت لہ۔‘‘([7])
[1] یعنی : میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں ۔ (’’فیض القدیر‘‘، حرف الہمزۃ، تحت الحدیث : ۱۰۵۵، ج۱، ص۶۶۳، بألفاظ متقاربۃ)
[2] ’’المصنف‘‘ لابن أبي شیبۃ، کتاب الدعاء، في فضل الدعاء، الحدیث : ۲، ج۷، ص۲۳، بألفاظ متقاربۃ۔
[3] ’’المستدرک‘‘، کتاب الدعاء والتکبیر...إلخ، باب إنّ للّٰہ ملکاً موکلاً إلخ، الحدیث : ۲۰۴۰، ج۲، ص۲۳۹۔
[4] ’’روح المعاني‘‘، پ ۳، آل عمران، تحت الآیۃ : ۱۹۴، ج۲، الجزء۴، ص۵۱۲۔
و’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ للقرطبي، ج۲، الجزء الرابع، ۲۴۴۔
[5] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، الحدیث : ۳۵۸۹، ج۵، ص۳۳۶۔
و’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث : ۱۷۲۴۰، ج۶، ص۱۰۷۔
نوٹ : حدیث پاک میں ’’یا محمد‘‘ ہے ۔ مگر اس کی جگہ ’’یا رسول اللہ‘‘کہنا چاہئے کہ صحیح مذہب میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نام لے کر ندا کرنا ناجائز ہے ۔ علماء فرماتے ہیں : اگر روایت میں وارد ہو جب بھی تبدیل کرلیں ۔ یہ مسئلہ مجدّد ِاَعظم امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے رسالہ : ’’تجلي الیقین بأَنَّ نبینا سید المرسلین‘‘ میں مُفَصَّل ومُشَرَّح مذکور ہے ۔ (انظر للتفصیل ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۳۰، ص۱۵۷۔)
[6] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم، باب ذکر العباس بن عبد المطلب رضي اللّٰہ عنہ، الحدیث : ۳۷۱۰، ج۲، ص۵۳۷۔
[7] ’ ’’بہجۃ الأسرار‘‘، ذکر فضل أصحابہ وبشراہم، ص۱۹۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع