دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

            نیز حدیث شریف میں   ارشاد ہوا :  ’’جو کسی غنی کے لئے اس کے غنا کے سبب تواضع کرے ، ’’ذَھَبَ ثُلُثَا دِیْنِہٖ‘‘ا س کا دو تہائی دین جاتا رہے ۔‘‘([1])

            تو وجہ وہی ہے کہ مالِ دنیا کے لیے تواضع (عاجزی و انکساری )رُو بخدانہیں   یہ حرام ہوئی اور یہی تَوَاضُع لِغَیرِ اللّٰہہے اور علم دین کے لیے تواضع رُو بخدا ہے ، اس کا حکم آیا، اور یہ عَین تَوَاضُع لِلّٰہ ہے ۔ یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اسی کو بھول کر وہابیہ ومشرکین اِفراط وتفریط میں   پڑے ۔([2]) والعِیاذ باللّٰہ ربّ العالمین۔)

          ادب ۱۵ :   نگاہ نیچی رکھے ، ورنہ مَعاذ اللہ زوالِ بصر کا خوف ہے (یعنی نظر کمزور ہوجانے کا اندیشہ ہے )۔

          قال الرضاء :  یہ اگرچہ حدیث میں   دعائے نماز کے لیے وارد، مگر علماء اسے عام فرماتے ہیں  ۔ )

          ادب ۱۶ :  دعا کے لیے اول وآخر حمدِاِلٰہی بجا لائے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اپنی حمد کو دوست رکھنے والا نہیں  ، تھوڑی حمد پر بہت راضی ہوتا اور بے شمار عطا فرماتا ہے ۔

حمد کا مختصر وجامع کلمہ  :

            ((لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ)) ([3])

            اور (( اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا تَقُوْلُ وَخَیْرًا مِمَّا نَقُوْلُ)) ہے ([4])۔

           قال الرضاء :  یونہی  ((اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمَدًا یُّوَافِيْ نِعَمَکَ وَیُکَافِیُٔ مَزِیْدَ کَرَمِکَ)) ([5])  وغَیر ذالِککہ احادیث میں   وارِد۔ )

          ادب ۱۷ :  اول وآخر نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور ان کے آل واصحاب پر دُرود بھیجئے کہ درود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں   مقبول ہے اور پروردگار کریم اس سے برتر کہ اول وآخر کو قبول فرمائے اور وسط (درمیان) کو رد کردے ۔

            امیرالمؤمنین عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث میں   ہے : ’’دعا زمین وآسمان کے درمیان روکی جاتی ہے جب تک تو اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر درود نہ بھیجے بلند نہیں   ہونے پاتی ‘‘۔([6])

          قال الرضاء :  بلکہ بیہقی وابو الشیخ سیدنا علی کرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ سے راوی حضور سید المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  :  ((الدعاء محجوب عن اللّٰہ حتی یصلّی علی محمّد وأہل بیتہ))۔ ([7])

            ’’دعا اللہ تعالیٰ سے حجاب میں   ہے جب تک محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور ان کے اہل بیت پر دُرود نہ بھیجی جائے ۔‘‘)

            اے عزیز! دعا طائر ہے اور دُرود شہپر، طائر بے پَر کیا اُڑ سکتاہے ! ([8])

          ادب ۱۸ :  اب کہ مانگنے کا وقت آیا، تصورِ عظمت وجلالِ اِلٰہی میں   ڈوب جائے (یعنی :  اللہ تعالیٰ کی عظمت وشان کے تصور میں   گم ہوجائے )۔

 



[1]    ’’شعب الإیمان‘‘، الحدیث :  ۱۰۰۴۳، ج۷، ص۲۱۳۔

[2]    (تو وجہ وہی ہے  ۔۔) سے مراد یہ ہے کہ جس طرح کسی معظم دینی کی تعظیم تواضع لغیر اللہ نہیں   ہے کیونکہ حدیث پاک میں   اس کا حکم دیا گیا ہے تو یہ تواضع خدا کیلئے ہوئی اسی طرح اللہ کے نیک بندوں   سے تَوَ سُّل درحقیقت اللہ ہی سے مانگنا ہے نہ کہ غیر اللہ سے مانگنا کیونکہ قرآن و حدیث میں   کئی جگہ ان بزرگوں  سے تَوَ سُّل کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا یہ حکمِ قرآنی پر عمل ہوا یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اس نکتہ کو وہابیوں   اور مشرکوں   نے بھلا دیا ، چنانچہ نصاریٰ تو اس قدر بڑھے کہ انہوں  نے حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی شان میں   اس قدر غُلُو (مبالغہ)کیا کہ انھیں   اس{ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ}کی شان والی پاک ذات کا بیٹاکہنے لگیاور ادھر وہابیوں  ، دیوبندیوں   نے اس قدر عاجز ولاچار سمجھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں   گستاخیاں   کر بیٹھے ۔

ع              کرے مصطفی کی اہانتیں   کُھلے بندوں   اس پہ یہ جرأتیں

                      کہ میں  کیا نہیں   ہوں   محمدی! ارے ہاں   نہیں  ، ارے ہاں   نہیں 

(’’حدائق بخشش‘‘، ص۸۰، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) 

 ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں   رہے

پھر کہے مَردَک کہ ہوں   امت رسول اللہ کی

(’’حدائق بخشش‘‘، ص۱۱۱، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) 

(مَردَک :   ذلیل وگھٹیا آدمی کو کہتے ہیں   )۔

محفوظ سدا رکھناشہا بے ادبوں   سے    

اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو

(’’ارمغانِ مدینہ‘‘، ص۶۴، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) 

[3]    یعنی میں   تیری حمد وثنا ایسی نہیں   کرسکا جیسی حمد وثنا تو خود اپنے لئے کرتا ہے ۔

(’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود، الحدیث :  ۴۸۶، ص۲۵۲)

[4]    اے اللہ! تیرے ہی لئے حمد وستائش ہے جیسا کہ توخود فرمائے اور اس سے بہتر ہے جو ہم کہیں  ۔ 

(’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب ما جاء في عقد التسبیح،  الحدیث :  ۳۵۳۱، ج۵، ص۳۰۹)

[5]    اے رب ہمارے ! ساری خوبیاں   تجھی کو کہ تیری نعمتوں   کے بدلے اور تیرے مزید انعامات کے مقابلہ میں   ہوں  ۔           (’’الترغیب والترہیب‘‘، الحدیث :  ۲۴۳۶، ج۲، ص۲۸۸، بألفاظ متقاربۃ)

[6]    ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الوتر، باب ما جاء في فضل الصلاۃ علی النبي صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم، الحدیث :  ۴۸۶، ج۲، ص۲۹۔

[7]    ’’کنز العمال‘‘، کتاب الأذکار، الحدیث :  ۳۲۱۲، ج۱، الجزء الثاني، ص۳۵، (بحوالہ ابوالشیخ)۔

و ’’شعب الإیمان‘‘، باب في تعظیم النبيصلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وإجلالہ وتوقیرہ، الحدیث :  ۱۵۷۶، ج۲، ص۲۱۶، بتصرف قلیل۔

[8]    پرندے کے بازو کا سب سے بڑا پَرکہ جس کے بغیر کوئی پرندہ پرواز نہیں   کرسکتااسے شَہپر کہا جاتا ہے ۔ یعنی دعا ایک پرندہ اور درود پاک اسکے شہپر کی مانندہے لہٰذا ایسا پرندہ جس کا شہپر ہی نہ ہو وہ کیا اُڑے گا ایسے ہی وہ دعا جو دُرود پاک سے خالی ہو کیونکر مقبول ہوسکتی ہے !۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن