دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fazail e Dua | فضائل دعا

book_icon
فضائل دعا

          ادب ۱۳، ۱۴ :   اعضاء کو خاشع اوردل کو حاضر کرے ۔([1])

            حدیث میں   ہے :  ’’اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا نہیں   سنتا۔‘‘([2])

            اے عزیز! حَیف (افسوس) ہے کہ زبان سے اس کی قدرت وکرم کا اِقرار کیجئے اور دل اوروں   کی عظمت اوربڑائی سے پُر ہو۔ بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر سے شکایت کی کہ ہماری دعا قبول نہیں   ہوتی جواب آیا :  میں   ان کی دعا کس طرح قبول کروں   کہ وہ زبان سے دعا کرتے ہیں   اور دل ان کے غیروں   کی طرف متوجہ رہتے ہیں  ۔([3])

            اے عزیز! جب تک تو دل سے اپنی اور تمام خلق کی ہستی، خدائے تعالیٰ کی ہستی میں   گم نہ کرے ، رحمتِ خاصہ کہ ازل سے مخلصوں   کے لیے مخصوص ہے ، تیری طرف کب متوجہ ہو۔ جو شخص جبار بادشاہ کے حضور اپنی بڑائی اور عظمت کا دعویٰ کرے یابادشاہ اس کی طرف متوجہ ہو اور وہ کسی چُوبدار (نوکر) یا اہلکار کی طرف نظر رکھے سزاوارِ زَجْر ہے (یعنی ملامت کے لائق ہے )، نہ کہ مستحقِ اِنعام (یعنی اِنعام کا مستحق)۔

            ایک دن حضر ت خواجہ سفیان ثوری قدّس سرّہ نماز پڑھاتے تھے ، جب اس آیت پر پہنچے { اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴)} ’’تجھی کو ہم پوجتے ہیں   اورتجھی سے ہم مدد چاہتے ہیں  ‘‘، روتے روتے بے ہوش ہوگئے ، جب ہوش میں   آئے ، لوگوں   نے حال پوچھا فرمایا :  اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ اگر غیب سے ندا ہو :  اے کاذب خموش! کیا ہماری ہی سرکار تجھے جھوٹ بولنے کے لیے رہ گئی، را ت دن رزق کی تلاش میں   کُو بکُو (در بدر) پھرتا ہے اور بیماری کے وقت طبیبوں   سے التجاء کرتا ہے اور ہم سے کہتا ہے :  میں   تجھی کو پوجتا ہوں   اور تجھی سے مدد چاہتا ہوں  ، تو میں   اس بات کا کیا جواب دوں  ؟([4])

            اے عزیز! وہاں   دل پرنظر ہے نہ کہ زبان پر   ؎

ما زباں   را ننگریم وقال را

      ما رواں   را بنگریم وحال را([5])

            چاہیے کہ دل وزبان کو موافق اور ظاہر وباطن کو مطابق اورجمیع ماسوائے اللہ سے رشتۂ امید قطع کرے نہ نفس سے کام ، نہ خلق سے غرض رکھے ، تا شاہد ِمقصود جلوہ گر ہواورگوہر مقصد ہاتھ آئے ۔([6])

          قال الرضاء : نظر بغیر، جب بالذات نظر بغیر ہو نظر بغیر ہے بلکہ حقیقۃً معنی بالذات مقصود ومراد ہوں   تو قطعاً شرک وکفر۔([7])

            محبوبا؎[8] نِ خدا سے توسُّل، نظر بخدا ہے نہ کہ نظر بغیر۔([9])ولہٰذا خود قرآنِ عظیم نے اس کا حکم دیا، جس کا ذکر ادب ۲۲ میں   آتا ہے ۔ اس کی نظیر تَوَاضُع ہے (اس کی مثال بزرگوں   کی تعظیم وتوقیر والا مسئلہ ہے ) علمائے کرام فرماتے ہیں  : غیر خدا کیلئے تَوَاضُع حرام ہے ۔

’ فتاوی ہندیہ‘‘ و’’ملتقط‘‘ وغیرہما میں   ہے :   ’’اَلتَّوَاضُعُ لِغَیْرِ اللّٰہِ حَرَامٌ‘‘۔([10])  حالانکہ مُعظَّمانِ دین کے لیے تواضع قطعاً  مَامُوْر بِہٖ ہے (یعنی دینی پیشواؤں   کی تعظیم کا حکم تو یقینی طور پر دیاگیاہے ) خود یہی علماء اس کا حکم دیتے ہیں  ۔ حدیث میں   ہے :  ((تواضعوا لمن تعلّمون منہ وتواضعوا لمن تعلّمونہ ولا تکونوا جبابرۃ العلماء))۔ ([11])

            ’’اپنے استاد کے لیے تواضع کرو اور اپنے شاگردوں   کیلئے تواضع کرو اور سرکش عالم نہ بنو۔‘‘

 



[1]    یعنی :  ظاہر بدن سے عاجزی وانکساری کا اظہار ہو اور دل حاضر ہو۔

[2]    ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الدعوات، باب في جامع الدعوات   إلخ، الحدیث :  ۳۴۹۰، ج۵، ص۲۹۲۔

[3]    ’’روح البیان‘‘، پ۸، الأعراف، تحت الآیۃ :  ۵۶، ج۳، ص۱۷۸۔

 و’’الرسالۃ القشیریۃ‘‘، باب الدعاء، ص۲۹۹۔

[4]    ’’روح البیان‘‘، پ۱، الفاتحۃ، تحت الآیۃ :  ۵، ج۱، ص۲۰۔

[5]    ع                      زبان وقال کی جانب کبھی ہوتی نہیں   مائل

                                                   مری رحمت دل خستہ تمہاری ہی طرف مائل

[6]    اپنے دل و زبان اور اپنے ظاہر وباطن کو ایک سا کرے کہ جو زبان سے مانگے دل بھی اسی کی طرف متوجہ ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا سب سے امید منقطع کرکے اپنی امیدگاہ صرف اسی کی ذات کو بنائے اور مراد برآنے تک اپنی اسی کیفیت کو برقرار رکھے ۔

[7]    غیر خدا کو مُعِین و مددگار ماننا اس طرح کہ وہی مُعِین و مددگار ہے ’’ نظربغیر ‘‘کہلاتا ہے اور اگر حقیقۃً اُسی غیرِ خدا کو بِالذَّات (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کے بغیر) حقیقی مُراد اورمقصودِ اصلی سمجھ کر اپنا مُعِین و مددگار مانے تو یہ کُھلاکفر وشرک ہے ، یا یوں   سمجھیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا غیروں   سے مددمانگنا ’’ نظر بغیر‘‘ ہے ، چنانچہ اگر یہ عقیدہ رکھے کہ غیر ہی بِالذَّات (یعنی اللہ کی عطا کے بغیر) اَز خوددینے والاہے تو یہ عقیدہ ، یقینی طور پرکفر وشرک ہے ۔ ہاں   البتہ! اللہ کے نیک بندوں   سے تَوَسُّل یعنی ان کو اپنا وسیلہ بنانا یہ ’’نظر بغیر‘‘ ہے ہی نہیں  ،  جس کی تفصیل خود اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمارہے ہیں  ۔

[8]    فائدہ جلیلہ :    استِعانت بالغیر وتوسل بہ محبوبان کا امتیاز۔

[9]    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں   کو اپنی حاجت روائی کیلئے وسیلہ بنانا در حقیقت اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنا ہے نہ کہ کسی اور سے ۔

[10]    ’’الفتاوی الہندیۃ‘‘، کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن والعشرون، ج۵، ص۳۶۸۔

و’’الدر المختار‘‘، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۲۔

[11]    ’’فیض القدیر‘‘، الحدیث :  ۳۳۸۱، ج۳، ص۳۶۰۔

 و’’شعب الإیمان‘‘، الحدیث :  ۱۷۸۹، ج۲، ص۲۸۷۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن