دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatwa Naweesi Seekhnay Ke Chand Rehnuma Usool | فتویٰ نویسی سیکھنے کے چند رہنما اُصول

book_icon
فتویٰ نویسی سیکھنے کے چند رہنما اُصول
            
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیۃ کا دارالافتا ءاہلسنت

ہمارامقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے علمی اعتبارسےاُس بلندمقام ومرتبے تک پہنچنا ہےکہ ہم حقیقتاً علمی اعتبار سے لوگوں کو شریعت کے احکام” مفتی “ کے طور پر بتا سکیں۔ کسی کو معلوم مسئلہ بتادینا جدا چیز ہے ،جو ہر امام مسجد یا صاحبِ علم بھی بتا سکتا ہے، جبکہ بطورِ مفتی مسئلہ بتانا جدا چیز ہے اور ہم یہاں دوسری حیثیت کے اعتبار سے کلام کر رہے ہیں۔ اس مقصدکےحصول کے کچھ تقاضے یا چند شرائط ہیں اور دین و دنیاکی کامیابیوں میں عمومی اصول یہی ہے کہ کبھی بھی کوئی چیز اپنے تقاضے یا شرائط پوری کیے بغیر حاصل نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ کسی پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو اور اللہ تعالیٰ اُسے وہ چیز خصوصی طور پر عطا فرما دے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں کامیابی کے حصول کے لیے کچھ اہم نکات پیش کرتا ہوں۔ پہلی اہم بات سعی ، کوشش،محنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) ترجمہ: اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہوگا، جس کی اُس نے کوشش کی۔ (1) ایک مقام پر ارشاد ہے:﴿وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)ترجمہ: اور جو آخرت چاہے اور اُس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔(2) پھر بعض اعمال کو اللہ تعالیٰ نے ایسے انداز میں بجا لانے کا حکم دیا یا تعریف بیان فرمائی ، جس سے اُس عمل کاحق ادا ہو جائے، جیسےارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۱۲۱)ترجمہ :وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے ،تو وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں، جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے،یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔(3) ایک اور جگہ فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنےکاحق ہےاورضرورتمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔(4) ان آیات میں لفظ ﴿حَقَّکے ساتھ اس عمل کو بیان فرمایا کہ تلاوت کرنے والے ﴿ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕکی رعایت کریں اور تقوی ٰ والے ﴿حَقَّ تُقٰتِهٖ کا تقاضا پورا کریں۔ جب کام کرنے میں ایسی کوشش کی جائے،جیسی کوشش کرنے کاحق ہے، توخدا کے فضل و کرم سے نتیجہ مل کر رہتا ہے ، جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے، فرمایا :﴿وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-ترجمہ: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔ (5) ایک اور جگہ فرمایا:﴿وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪(۴۰)ترجمہ : اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جائے گی۔ (6) ان آیات میں ہمارے لیے درس یہ ہے کہ کسی عمل کو ویسا کرناچاہیے ، جیسا اس کا حق ہے ،یہ اُس کام کو کرنے کا حقیقی طریقہ ہے۔اسی سے آپ حصولِ علم میں آگے بڑھنےاور خصوصا ”علم ِفقہ“ میں مہارت حاصل کرنے کا طریقہ سمجھ جائیں کہ فتویٰ نویسی کی دنیا میں تب آگے بڑھیں گے، جب ایسے آگے بڑھیں ، جیسے آگے بڑھنے کا حق ہے،جب ایسے مطالعہ کریں گے، جیسا مطالعہ کا حق ہے ،جب ایسے محنت کریں گے، جیسے محنت کا حق ہے،جب ایسے سیکھیں گے، جیسے سیکھنے کا حق ہے ، جب ایسے علمی اِصلاح قبول کریں گے، جیسے اس کا حق ہے۔

ترقی و کامیابی کے اصول

دینی امور ہوں یا دنیوی معاملات ، اُن میں کامیابی کے لیے بنیادی اصول مشترک ہیں ، جیسے مقصد کا تعین اور جہدِ مسلسل وغیرہ ، اِن اصولوں پر عمل کیے بغیر عموماً کامیابی مشکل سے ملتی ہے ، پھر اِن کے ساتھ مزید بھی چیزیں ہیں ، جن میں کچھ کو بہتر کرنے اور کچھ کو خود سے دور کرنے کی حاجت ہوتی ہے ۔آئیے اس حوالے سے اہم اصول سیکھتے ہیں،لیکن اصولوں سے پہلے ایک بڑا اصول ذہن میں بٹھالیں کہ ”معلوم“ سے کچھ نہیں ہوتا، ”معمول “ سے ہوتا ہے یعنی اصول جاننے، علم میں آجانے سے خود بخود کچھ نہیں ہوگا ،بلکہ ان اصولوں پرعمل کرنے سے فائدہ حاصل ہوگا ۔ کسی چیز کے نسخے ہزارہوتے ہیں، لیکن فائدہ اُسی کو ہوتا ہے، جو نسخہ استعمال کرے ، لہٰذا جو بھی سوچیں ،سنیں، سمجھیں، اُس پر عمل بھی کریں۔اب کامیابی کے اصول بیان کیے جاتے ہیں۔

(1)اپنے حقیقی مقصد کے متعلق سوچنا ،پھر اُسے متعین کرنا اور پھر اُس متعین مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا

ہمارا عمومی مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ ترلوگ مقصد کے بغیر زندگی گزارتے ہیں، جیسے مزدور ہو یا نوکری پیشہ یا ملازم ۔ اکثریت ایک لگے بندھے معمول کے مطابق اپنے کام کی تکمیل میں لگی رہتی ہے۔ اِس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ زندگی میں کسی بلند مقصد کے متعلق سوچتے نہیں یا سوچتے ہیں، لیکن سوچ کر اُسے متعین نہیں کرتے یا متعین کر بھی لیتے ہیں، تو ہمیشہ اُس کو سامنے نہیں رکھتے،جس وجہ سے”بامقصد زندگی “والا طرزِ حیات نظر نہیں آتا۔اسےسمجھنے کے لیے ”گوگل میپ /Google Map“پر غور کرلیں۔مثلاً: ہم سفر سے پہلے اپنی منزل گوگل میپ میں ٹائپ (Type) کرتے ہیں، مثلاً: مجھے یہاں سے حیدر آباد جانا ہے، حیدر آباد میں کس جگہ پر جانا ہے،اُسے لکھتے ہیں ، پھر ہم دورانِ سفر دیکھتے رہتے ہیں ،کہ ہم صحیح سمت جا رہے ہیں یا نہیں؟ یوں ہم آسانی سے منزل تک پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ منزل کے بارے میں سوچنا ،پھر اسے متعین کرنا اور پھر اسے اپنے پیشِ نظر رکھنا ہے اور یہی ترقی اور کامیابی کے لیے پہلا قدم ہے ۔

(2) مقصد کے حصول کا طریقہ کار نہایت واضح ہونا

کامیابی اور ترقی کے لیے دوسری اہم بات یہ ہے کہ مقصد کا تعین کر لینے کے بعد اس کے حصول کا ایسا طریقہ منتخب کیا جائے جو بالکل واضح ہو۔ مثال کے طور پر دار الافتاء اہلسُنَّت کے علمائے کرام پہلی بات یہ سوچ لیں کہ ہمارے دارالافتاء کے کتنے شعبہ جات ہیں؟جیسے فی الوقت ہمارے ہاں تحریری فتاوی لکھے جاتے،ای میل (E-Mail) اور واٹس اپ(WhatsApp) پر موصول ہونے والے سوالوں کے جوابات دئیے جاتےہیں۔ اِسی طرح دار الافتاء میں شرعی مسائل معلوم کرنے کے لیے حاضر ہونے والوں کی رہنمائی ، نیزفون سروس کے ذریعے دنیا بھر سے آنے والی کالز کے جواب دئیےجاتے ہیں۔ اِن تمام شعبوں میں سے ہر ایک کے لیے جداگانہ صلاحیت چاہیے، کیونکہ ہمارے دارالافتاء کے اندرونی نظام کے اعتبار سے جب واٹس اپ یا ای میل پر جواب دیا جاتا ہے،تو تفصیل و اختصار کے اعتبار سے اِس کا انداز جدا ہوتا ہے اورجب دارلافتاء کے باقاعدہ تحریری فتاویٰ لکھے جاتے ہیں ،تو اس میں جواب کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ، لیکن تحریری جوابات میں بہرحال جواب لکھنے والے کے پاس کتب بینی یا مشاورت کرنے کا وقت ہوتا ہے ، لیکن جب آپ فون پر جواب دیتے ہیں ، توعموماً فی البدیہہ یعنی فوراً جواب دینا ہوتا ہے اور ہر مسئلے میں کتب بینی یا مشورے کا وقت بھی نہیں ہوتا، تو اب آپ کا علم جتنا زیادہ ہو گا،آپ اُتنا جلدی، درست اور عمدہ جواب دے سکتے ہیں ،لہٰذا فون پر جواب دینے میں وسعتِ علمی ضروری ہے، پھر بالمشافہ(سامنے بیٹھ کر) سوال پوچھنے والے فرد کو جواب دینے میں مزید خوبیاں ہونا بھی ضروری ہوتی ہیں ، کیونکہ جب آپ سائل کے ساتھ باقاعدہ گفتگو کرتے ہیں، تو بیسیوں چیزیں جیسے نفسیات ،سائل کی سوچ اوراُس کے اندازِ کلام وغیرہا کے اعتبار سے تمام چیزوں کومدِ نظر رکھتے ہوئے جواب دیتے ہیں اور یہ مرحلہ ہمارے دارالافتاء میں کافی آگے جاکر آتا ہے۔ اب اپنی علمی ترقی کے لیے پہلے آپ یہ دیکھ لیں کہ دارالافتاء کے کون کون سے شعبے ہیں اور آپ کہاں کھڑے ہیں؟ جہاں موجود ہیں، اُس میں خود کو بہترین اور کامل بنانے کاکیا طریقہ ہے اور جس اگلے مرحلے کی طرف جانا ہے، وہاں تک جانے کے تقاضے کیا ہیں؟ یہ دارالافتاء اہلسُنَّت کے اعتبار سے ”مقصد کے حصول کے لیے طریقہ متعین کرنے“ کی وضاحت ہے۔ نیزاس کے ساتھ مطلق علمی و فقہی صلاحیت بڑھانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ فقہ کے ابواب کی تقسیم کاری کرلیں ،جیسے کثیر الاستعمال (یعنی جس باب کے متعلق زیادہ مسائل پوچھے جاتے ہیں جیسے نماز، طلاق وغیرہما)،قلیل الاستعمال (یعنی جس کے متعلق پہلی قسم سے کم مسائل پوچھے جاتےہیں ،جیسے کاروبار اور حلال و حرام کے مسائل)اور نادرالاستعمال (یعنی جن کے متعلق بہت ہی کم سوالات کیے جاتے ہیں، جیسے وکالت، گواہی، صلح وغیرہا)۔ ابوابِ فقہیہ کی اس تقسیم کاری کے علاوہ ، خود ہر باب کے مسائل میں بھی یہی تین طرح کی تقسیم ہو سکتی ہے جیسے نماز کے متعلق بہت زیادہ پوچھے جانے والے مسائل،پھر نماز کے متعلق کم پوچھے جانے والے مسائل پھر نماز کے متعلق بہت ہی کم پوچھے جانے والے مسائل۔ عموماً افتاء کے شعبے سے وابستہ علمائے کرام اِن باتوں کواچھی طرح جانتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ ”معلوم ہونا(یعنی مذکورہ اقسام کا علم ہونا)“ اوربات ہے اور ”معمول ہونا(یعنی ان اقسام کے مطابق مسائل کو یاد بھی کرلینا)“ کچھ اور بات ہے۔ معلوم ہونے کا فائدہ 10 فیصد ہے، بقیہ 90 فیصد کا دار و مدار ”معمول ہونے“ پر ہےکہ آپ کا اوپر بیان کردہ طریقے پر عمل بھی ہو ۔ جب آپ یہ تعین کر لیں گے کہ ابواب اور مسائل دونوں میں کثیرالاستعمال اورقلیل الااستعمال اور نادر الاستعمال کون کون سے ابواب اور مسائل ہیں ، تو آپ مطالعے میں اپنی توجہ بھی اسی کے مطابق رکھیں گے، یعنی کثیرالاستعمال پر زیادہ ،قلیل الاستعمال پر اُس سے کم اور نادر الاستعمال پر سب سے کم۔ پھر آپ متعین کر سکیں گے کہ کن ابواب یا مسائل کا مطالعہ آپ نے ماہانہ بنیاد پر کرنا ہے ،اور کن کا ششماہی بنیادوں پر اور کن ابواب و مسائل کو آپ سال میں صرف ایک بار پڑھیں گے۔ اسی اسلوبِ مطالعہ میں ایک اورمفید تر طریقہ یہ ہے کہ جس مہینے میں جس عقیدے یا فقہی باب کے مسائل زیادہ پیش آنے والے ہیں، اُس مہینے کے متعلقہ ایام آنے سے پہلے پہلے اس کا متنوع انداز میں مطالعہ کر لیا جائے،جیسے اتنا تو ہمیں پتہ ہے کہ رمضان کا مہینا آئے گا، تو رمضان کے مسائل پڑھیں گے،حج کا مہینا آئے گا، تو حج کے مسائل پڑھیں گے وغیرہا ،لیکن اس میں مزید وسعت پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر سال بہار شریعت وغیرہ روٹین کی کتابوں سے مسائل پڑھنے کے ساتھ ایک نئی کتاب کا اضافہ کریں ، مثلاً:آپ ایک سال بہار شریعت سے رمضان کے مسائل پڑھیں اور ساتھ ” الہدایۃ “ سے بھی اُن مسائل کو پڑھیں ۔ اگلےسال بہارشریعت کے ساتھ ” الجوھرۃ النیرۃ “ سے بھی مسائلِ رمضان پڑھ لیں،اس سے اگلے سال ” المبسوط “ سے بھی ،اس سے اگلے سال” بدائع الصنائع “ سےبھی ؛ تواِس طریقے سے آپ اپنے مطالعے میں مزید پختگی ، عمدگی اورتازگی محسوس کریں گے ، اگرچہ ایک کتاب سے بھی ہر سال پڑھنے سے مسائل پختہ ہوتے ہیں، لیکن کچھ سالوں کے بعد اکتاہٹ ہو جاتی ہے ، کیونکہ عموماً جب کسی چیز میں یکسانیت آتی ہے ،توطبیعت اکتاہٹ کا شکار ہوجاتی ہے ،لہٰذا دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ ہمارے مطالعے میں بھی تنوُّع ہونا چاہیے۔ یہاں فقہی مطالعے میں ایک اور طریقے کا اضافہ کرتا ہوں اور وہ بہت ہی دلچسپ اور مفید ثابت ہوتا ہے، وہ یہ کہ مسائل شرعیہ کوفقہی کتابوں سے ہٹ کر بھی پڑھیں، جیسے روزوں کے مسائل ہیں ،تو انہیں قرآن مجید سے بھی پڑھیں، مثلاً: روزوں سے متعلق تمام آیات ، جن میں روزوں کے احکام یا روزے داروں کے اَوصاف وغیرہا کا ذکر ہے، اُن کامطالعہ کیا جائے، اِسی طرح روزوں سے متعلقہ احادیث ِمبارکہ کا مطالعہ کیا جائے، جیسے ” مشکاۃ المصابیح “وغیرہ سے روزوں کے متعلق ابواب پڑھ لیں اور ” اشعۃ اللمعات “ یا ” مرقاۃ المفاتیح “ یا ’’ مراٰۃ المناجیح ‘‘وغیرہا شروحات سے اُن کی شرح پڑھ لی جائے، اِس طریقے سے اچھا اور گہرا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے !اس طرح کا مطالعہ کرنے میں برسوں لگیں گے ، کیونکہ شریعت محض دو چار ابواب یا چند مسائل کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ شرعی احکام کے مختلف اور کثیر ابواب اور ہزاروں، بلکہ لاکھوں مسائل و جزئیات ہیں، جیسے طہارت ، نماز ،روزہ، زکوٰۃ ، حج ، طلاق ، وراثت، بُیوع،اِجارہ،ہبہ، وصیت، قضا،وکالت ، شرکت اور مضاربت وغیرہا، تو یوں کثیر اَبواب میں پھیلے ہزاروں مسائل اور اُن کے دلائل ہیں، جن کا مطالعہ اس انداز سے کریں گے، تو زندگی کا ایک حصہ اِس پر صَرْف ہو گا، لیکن پھر وہ مقام آئے گا کہ اس مطالعے کا اظہار آپ کی تقریرو تحریر سے ہو گا اور لوگ خود آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ یہاں ایک بات یاد رکھیں !حقیقت یہ ہے کہ آدمی کو ”مرجع“ بنایا نہیں جاتا ،وہ ”مرجع “ بن جاتا ہے اور عموماً اَن تھک محنت بندے کو اس مقام تک پہنچاتی ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ اس انداز سے مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین جب آپ کو طریقہ معلوم ہو اور پھر اُس کے مطابق اُس پر عمل ہو، تو ان شاء اللہ عزوجل مقصد حاصل ہو جائے گا۔ علم الفقہ اور علم الافتاء میں خصوصی مہارت ایک بلند اور عظیم مقصد ہے ، اس مقصدکے حصول میں ایک منفرد اور نہایت مفید و معاون طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امام اہلسُنَّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جو فقاہت کی تعریف اور فقیہ کے لیے ضروری شرائط و اوصاف بیان فرمائے ہیں، ان کی لسٹ اپنے سامنے رکھیں اور غور کریں کہ آپ میں کتنے اوصاف موجود ہیں اور مزید کن اُمور پر محنت کی حاجت ہے۔اگر اس طریقے پر بھی باقاعدہ عمل کریں ، تو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے واضح طریقہ متعین کرنے میں بہت آسانی ہو گی۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے فقاہت کی جو تعریف بیان کی ہے اور جن اُمور کا ذکر فرمایا ہے، ان میں سے کچھ چیزیں شروع ہی میں ضروری ہیں، کچھ درمیان میں اور کچھ اچھی مہارت کے حصول کے بعد ضروری ہیں۔ ان پر غور کرکے انہیں چند سالوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، مثلا ہر سال تین مہارتوں پر زیادہ توجہ دیں ، تو یوں دس سال میں تیس مہارتیں اور اوصاف حاصل ہوجائیں گے اور بالآخر تمام یا اکثر اوصاف بھی۔ یاد رہے !ہزار میل کا سفر بھی پہلا قدم اٹھانے سے طےہو گا ۔بیٹھے رہنے سے کبھی ایک کلومیٹر بھی طے نہیں ہوتا اور چلنے سے ہزار کلومیٹر کا سفر بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اور یہ یاد رکھیں کہ یہ جتنے طریقے بیان کیے گئے ہیں،حقیقی طور پر اِن سے فائدہ تب ہوگا کہ جب آپ اپنا احتساب بھی کرتے رہیں ، کیونکہ اپنی خامیوں کی اصلاح کے چار طریقے ہوتے ہیں: (1)مرشد کامل کی رہنمائی (2)عَدُوِّ کامل کی تنقید (3)صدیق کامل کی اصلاح (4)احتسابِ نفس۔ فتوی نویسی کی دنیا میں وہ استاذ آپ کا رہنمائے کامل ہے جس کی زیر سرپرستی آپ فتویٰ لکھنا سیکھ رہے ہیں۔ بقیہ دشمن و دوست کا ملنا ذرا مشکل ہے اور چوتھا طریقہ بھی یہاں بہت مفید ہے کہ خود اپنا احتساب کرتے رہیں۔

(3) مواظبت (ہمیشگی)

اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس پر ہمیشگی ہو اور استقامت و تسلسل کے ساتھ محنت کی جائے ، کیونکہ جب تک تسلسل نہیں ہو گا،تب تک کامیابی نہیں ہوگی،لہٰذا ہمیشگی اپنانی چاہیے،اگرچہ تھوڑا عمل ہو،حدیث مبارک میں خوبصورت اصول بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ”ان احب الاعمال الی اللہ ما دام و ان قل“ ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے ، جو ہمیشگی کے ساتھ ہو ، اگرچہ تھوڑا ہو۔ (7) اور یہ عقل،نقل،نفسیات اور روحانیت سب کا مُسَلَّمہ اصول ہے کہ” بہترین عمل وہ ہے، جو ہمیشہ کیا جائے ،اگرچہ تھوڑا ہو۔“زیادہ ہوگا ،تو فائدہ بڑھ جائے گا، مطالعہ کرنا ہمیشہ ہو، مسائل پوچھتے رہنا ہمیشہ ہو،مسائل بتاتے رہنا بھی ہمیشہ ہو ،لہذا تسلسل ہمیشہ برقرار رکھیں۔

(4)وقت کا بہترین استعمال

اِس کا تعلق بھی اوپر والی تینوں چیزوں کے ساتھ ہے۔ اپنے اوقات کوغنیمت سمجھنا چاہیے۔حدیث مبارک میں ہے:”نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحۃ و الفراغ“ترجمہ : صحت اور فراغت دوایسی نعمتیں ہیں ،جن سے کثیر لوگ دھوکا کھاجاتے ہیں ۔(8) ایک بزرگ نے تصوف کا حاصل کلام بیان فرمایا کہ تصوف کا نچوڑ یہ ہے:” استعمال الوقت بما ھو اَوْلی “ترجمہ : وقت کو ایسے کام میں استعمال کرنا ،جو سب سے بہترین ہو ۔سادہ الفاظ میں ”وقت کا بہترین استعمال “تصوُّف کا نچوڑ ہے۔ بہترین چیز کو بہترین وقت میں،بہترین انداز میں کرنا،یہ وقت کا بہترین استعمال ہے۔ کن دنوں میں کیا مطالعہ کرنا ہے؟جو مطالعہ کرنا ہے، اس میں سب سے اہم اور مفید ترین کیا ہے ؟ پھر مطالعہ کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ اِن باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مطالعہ کرنا، مطالعہ کرنے میں وقت کابہترین استعمال کہلائے گا ۔

(5) اصولوں پہ عمل

کامیابی اور ترقی کے لیے یہ اصول بھی نہایت اہم ہے کہ طے شدہ طریقے اور اُصول پر چلیں؛مزاج اور موڈ پر نہ چلیں ۔عموماً موڈ اور مزاج بہت جلد متغیر ہو جاتا ہے، خاص طور پر ہمارے ہاں لوگوں میں بہت زیادہ تنوع مزاجی ہے۔اکثر طبیعت و مزاج ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا،اس پر قابو پانےکے لیے پوری مشق کرنی پڑتی ہے، جبکہ اصول یہ ہے کہ جو طریقہ کار آپ نے اپنے لیے طے کر لیا،اب آپ کا دل کرے یا نہ کرے، طبیعت مانے یا نہ مانے،آپ اُسے بہرصورت پورا کریں ۔ موڈ اور مزاج پر چلیں گے، تو نماز کا بھی موڈ نہیں بنے گا یا وقت پر پڑھنے کے حوالے سے سستی ہو جائے گی، لیکن جب ہم اصول پر چلیں گے کہ موڈ ہو یا نہ ہو، نمازیں پڑھنی ہی ہیں اور اپنے وقت پر ہی پڑھنی ہیں۔ اس کو مزید اس بات سے سمجھ لیں کہ فرض نمازیں ہم پر لازم ہیں، لہٰذا پانچ نمازیں ہمارےمعمول میں داخل ہیں،لیکن نوافل چونکہ ہماری طبیعت و اختیار پر چھوڑے گئے ہیں، لہٰذا نوافل میں سستی ہوجاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ موڈ کی بجائے حتمی فیصلہ کریں ، کیونکہ طے کردہ چیز کو ہم کر ہی لیتے ہیں ، جبکہ موڈ والی چیز کو کبھی کرتے ہیں اور کبھی نہیں کرتے۔ آپ تحصیلِ علم اور مہارتِ افتاء میں بھی یہی طریقہ اختیار کریں کہ موڈ والے انداز پر نہ چلیں ،بلکہ علمی و فقہی چیزوں میں جب آپ کوئی طریقہ کارطے کر لیں، توپھراس کی پابندی کریں ،اسی سے کامیابی کی راہ کھلتی ہے ۔
1۔ (پارہ27، سورۃالنجم، آیت39) 2۔ (پارہ15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت19) 3۔ (پارہ1، سورۃ البقرۃ ، آیت121) 4۔ (پارہ3، سورہ آل عمران ، آیت102) 5۔ (پارہ21، سورۃ العنکبوت، آیت69) 6۔ (پارہ27، سورۃ النجم، آیت40) 7۔ (صحیح بخاری،ج4،ص67،حدیث:5861،دار طوق النجاۃ ، بیروت( 8۔ (صحیح بخاری، ج8، ص88، رقم الحدیث6412، دار طوق النجاۃ ، بیروت)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن