30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِیصالِ ثواب کا طریقہ
اِیصالِ ثواب (یعنی ثواب پہنچانے) کا طریقہ یہ ہے کہ جس عمل کا ایصالِ ثواب کرنا ہے مثلاً آپ نے کسی کو ایک روپیہ خیرات دیا یا ایک بار دُرُود شریف پڑھا یا کسی کو ایک سنَّت بتائی یا کسی پر اِنفِرادی کوشش کرتے ہوئے نیکی کی دعوت دی یا سنّتوں بھرا بیان کیا۔ اَلغَرَض کوئی بھی نیک کام کیا اس کے بعد اِس طرح دعا کیجئے ، مثلاً “ اے اللہ! ابھی میں نے جو سنت بتائی اس کا ثواب سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پہنچے۔ “ اِن شاءَ اللہ! ثواب پہنچ جائے گا۔ مزید جن جن کا نام لیں گے اُن کو بھی پہنچے گا۔ یاد رہے کہ اِیصالِ ثواب کے لئے صِرْف دل میں نیت کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ دل میں نیت ہونے کے ساتھ ساتھ دعا کرنا بھی ضروری ہے۔ (أ)
اِیصالِ ثواب کا مُرَوَّجہ طریقہ
آج کل مسلمانوں میں خُصُوصاً کھانے پر جو فاتحہ کا طریقہ رائج ہے وہ بھی بَہُت اچّھا ہے۔ جن کھانوں کا اِیصالِ ثواب کرنا ہے وہ سارے یا سب میں سے تھوڑا تھوڑا کھانا نیز ایک گلاس میں پانی بھر کر سب کچھ سامنے رکھ لیجئے۔
اب :
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
پڑھ کر ایک بار :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ(۲) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ(۳) وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ(۴) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ(۵) لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠(۶)
تین بار :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
ایک بار :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ(۲) وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ(۳) وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ(۴) وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵)
ایک بار :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) مَلِكِ النَّاسِۙ(۲) اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴) الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)
ایک بار :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۲) مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ(۳) اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠(۷)
ایک بار :
الٓمّٓۚ(۱) ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴) اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)
پڑھنے کے بعد یہ پانچ آیات پڑھئے :
(1) وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳) (پ2 ، البقرۃ : 163)
(2) اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) (پ8 ، الاعراف : 56)
(3) وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ17 ، الانبیاء : 107)
(4) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)
(پ22 ، الاحزاب : 40)
(5) اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ22 ، الاحزاب : 56)
اب دُرُود شریف پڑھئے :
صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
صَلٰوۃً وَّسَلَامًا عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ
اس کے بعد یہ آیات پڑھئے :
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲)(پ23 ، الصفت : 180-182)
اب فاتحہ پڑھانے والا ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے “ الفاتحہ “ کہے۔ سب لوگ آہستہ سے یعنی اتنی آواز سے کہ صرف خود سنیں سورۃ الفاتحہ پڑھیں۔ اب فاتحہ پڑھانے والا اس طرح اِعْلان کرے : پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے جو کچھ پڑھا ہے اس کا ثواب مجھے دے دیجئے۔ تمام حاضِرین کہہ دیں : آپ کو دیا۔ اب فاتحہ پڑھانے والا ایصال ثواب کر دے۔
اعلیٰ حضرت کا فاتحہ کا طریقہ
ایصالِ ثواب کے الفاظ لکھنے سے قَبْل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فاتِحہ سے قَبل جو سورَتیں وغیرہ پڑھتے تھے وہ بھی تحریر کی جاتی ہیں :
ایک بار :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۲) مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ(۳) اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠(۷)
ایک بار :
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵) (پ3 ، البقرۃ : 255)
تین بار :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
ایصالِ ثواب کے لئے دُعا کا طریقہ
یا اللہ! جو کچھ پڑھا گیا (اگر کھانا وغیرہ ہے تو اس طرح سے بھی کہئے) اور جو کچھ کھانا وغیرہ پیش کیا گیا ہے اس کا ثواب ہمارے ناقِص عمل کے لائق نہیں بلکہ اپنے کرم کے شایانِ شان مرحمت فرما۔ اور اسے ہماری جانب سے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں نذر پہنچا۔ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تَوَسُّط سے تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام تمام صَحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان تمام اولیائے عِظام رحمۃُ اللہِ علیہم کی جناب میں نذر پہنچا۔
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تَوَسُّط سے حضرت آدم علیہ السّلام سے لے کر اب تک جتنے انسان و جِنّات مسلمان ہوئے یا قِیامت تک ہوں گے سب کو پہنچا۔ اس دَوران بہتر یہ ہے کہ جن جن بُزُرْگوں کو خُصُوصاً ایصالِ ثواب کرنا ہے ان کا نام بھی لیتے جائیے۔ اپنے ماں باپ اور دیگر رشتے داروں اور اپنے پیر و مرشِد کو بھی نام بہ نام ایصالِ ثواب کیجئے۔ (فوت شُدَگان میں سے جن جن کا نام لیتے ہیں اُن کو خوشی حاصل ہوتی ہے اگر کسی کا بھی نام نہ لیں صِرْف اتنا ہی کہہ لیں کہ یا اللہ! اس کا ثواب آج تک جتنے بھی اہلِ ایمان ہوئے ان سب کو پہنچا تب بھی ہر ایک کو پہنچ جائے گا۔ اِن شاءَ اللہ) اب حسبِ معمول دُعا خَتْم کر دیجئے۔ (اگر تھوڑا تھوڑا کھانا اور پانی نکالا تھا تو وہ دوسرے کھانوں اور پانی میں ڈال دیجئے)
کھانے کی دعوت کی اَہَم اِحتیاط
جب بھی آپ کے یہاں نیاز یا کسی قسم کی تقریب ہو ، جماعت کا وَقْت ہوتے ہی کوئی مانِع شَرْعی نہ ہو تو اِنفرادی کوشِش کے ذریعے تمام مہمانوں سمیت نَمازِ باجماعت کے لئے مسجِد کا رُخ کیجئے۔ بلکہ ایسے اَوقات میں دعوت ہی مت رکھئے کہ بیچ میں نَماز آئے اور سُستی کے باعث جماعت فوت ہو جائے۔ دوپَہَر کے کھانے کے لیے بعد نَمازِ ظہر اور شام کے کھانے کے لئے بعد نَمازِ عشا مہمانوں کو بُلانے میں غالِباً باجماعت نَمازوں کے لئے آسانی ہے۔ میزبان ، باورچی ، کھانا تقسیم کرنے والے وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ جوں ہی نَماز کا وقت ہو ، سارا کام چھوڑ کر باجماعت نماز کا اِہتمام کریں۔
مَزار پر حاضِری کا طریقہ
بزرگوں کی ظاہِری زندَگی میں بھی قدموں کی طرف سے یعنی چہرے کے سامنےسےحاضِر ہونا چاہئے ، پیچھے سے آنے کی صورت میں انہیں مُڑ کر دیکھنے کی زَحْمت ہوتی ہے۔ لہٰذا بُزُرگانِ دیں کے مزارات پر بھی پائنتی (یعنی قدموں) کی طرف سے حاضِر ہو کر پھر قبلے کو پیٹھ اور صاحِبِ مَزار کے چہرے کی طرف رُخ کر کے کم از کم چار ہاتھ (یعنی تقریبًا دو گز) دُور کھڑا ہو اور اِس طرح سلام عَرْض کرے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدِیْ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ
ایک بار سُورَۃُ الفاتحہ اور11 بار سُورَۃُ الْاِخلاص (اوَّل آخِر ایک یا تین بار دُرُود شریف) پڑھ کر ہاتھ اُٹھا کر اوپر دیئے ہوئے طریقے کے مُطَابِق (صاحِبِ مَزار کا نام لے کر بھی) ایصالِ ثواب کرے اور دُعا مانگے۔ اَحْسَنُ الوِعَاء میں ہے : ولی کے مَزار کے پاس دُعا قَبول ہوتی ہے۔ (ب)
الٰہی واسطہ کل اولیا کا
مِرا ہر ایک پورا مُدَّعا ہو
صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّم
ایک چُپ سو سُکھ
یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے
شادی غمی کی تقریبات ، اجتماعات ، اعراس اور جلوسِ میلاد وغیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کر کے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کے لئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچا کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے۔
أ تحفۃ المحتاج مع حاشیہ شروانی وعبادی ، کتاب الوصایا ، فصل فی احکام معنویۃ للموصی بہ ، 8 / 561۔
ب ذیل المدعاء لاحسن الوعاء ، ص140 ، ماخوذاً ، مکتبۃ المدینہ کراچی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع