30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہنوز حکمِ زوجیّت باقی ہے۔
|
فی الدرالمختار یمنع زوجھا من غسلہا ومسھا لامن النظر الیھا علی الاصح وھی لاتمنع من ذلك ولو ذمیۃ بشرط بقاء الزوجیۃ والمعتبر فی الزوجیۃ صلاحیتھا لغسلہ حالۃ الغسل لاحالۃ الموت فتمنع من غسلہ لوبانت قبل موتہ او ارتدت بعدہ ثم اسملت اومست ابنہ بشہوت لزوال النکاح وجازلھا غسلہ لو اسلم زوج المجوسیۃ فمات فاسلمت بعدہ فحل مسہا حینئذٍ اعتبارا بحالت الحیٰوۃ [1] اھ مختصراً۔ |
درمختار میں ہے شوہر کے لئے عورت کو غسل دینا اور چھُونا منع ہے، دیکھنا منع نہیں۔ یہی اصح ہے، اور عورت کے لئے یہ سب ممنوع نہیں اگرچہ ذمّیہ ہو بشرطیکہ زوجیت باقی ہو۔ اور اعتبار اس کا ہے غسل دینے کے وقت اس قابل ہو، مرنے کے وقت کا اعتبار نہیں۔ تو اسے شوہر کو غسل دینا منع ہوگا اگر اس کے مرنے سے پہلے بائن ہوگئی یا مرنے کے بعد مرتد ہوگئی پھر اسلام لائی یا اس کے بیٹے کو شہوت سے چُھودیا کیونکہ ان صورتوں میں نکاح باقی نہ رہا۔ اور اگر مجوسیہ کا شوہر مسلمان ہوکر مر گیا اس کے بعد عورت مسلمان ہوئی تو شوہر کو غسل دینا جائز ہے اس وقت اس کو چھونے کا جواز حالتِ حیات کا اعتبار کرکے ہے اھ مختصراً (ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
طلقہا رجعیاثم مات فی عدتھافانھاتغسلہ لانہ لایزل ملك النکاح بدائع٢ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
عورت کو طلاق رجعی دی پھر عدت میں انتقال کرگیا تو عورت اُسے غسل دے سکتی ہے اس لئے کہ اس سے ملك نکاح ختم نہیں ہوتی،بدائع (ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ نمبر ۹ : از سرونج مسئولہ عبدالرشید خاں صاحب ١٩محرم الحرام ١٣٣١ھ
مدرسہ دیوبند سے ایك رسالہ مشہور کیا گیا ہے جس میں یہ مسئلہ تحریر ہے مرد حالتِ جنابت میں یا عورت حیض کی حالت میں مر جائے توا س کے حلق سے کوئی کپڑا تر کرکے تین مرتبہ حلق صاف کیا جائے اور ناک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع