30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان عبارات مشائخ کے جنھیں تم نے روح پر عمل کرکے صریح کتاب اﷲ کے خلاف کردیا۔ سنتِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سنئے تو کیسی صریح وصحیح وجلیل وجزیل حدیثیں سماع موتٰی ثابت فرمارہی ہیں جنھیں سن کر پتھر موم ہوجائے۔ اجماع مانگیے تو اس نقول اوپر منقول، سواد اعظم درکار تو اس کا نمونہ مقصد سوم سے آشکار۔ یارب! پھر خلاف کی طرف راہ کدھر، بھلا یہ تو برزخ ومعاد کا مسئلہ ہے جن کے لیے کوئی فصل وباب کُتب فقہ میں نہ پائے گا کہ وہ بحث فقہ سے یکسر جدا ہیں، کسی قول یافعل کا موجب کفر ہوناتو خود افعالِ مکلفین ہی سے بحث ہے۔ اس کے بیان کو کتب فقہ میں"باب الردۃ"مذکور اور صدہا اقوال وافعال پر انہی مشائخ کے بیشمار فتوائے کفر مسطور، مگر محققین محتاط تارکین تفریط وافراط باآنکہ سچے دل سے حنفی مقلد اور ان مشائخ کرام سے خادم و معتقد ہیں۔ زینہار ان پر فتوٰی نہیں دیتے اور حتی الامکان تکفیر سے احتراز رکھتے بلکہ صاف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روایت ضعیفہ اگر چہ دوسرے ہی مذہب کی دربارہ اسلام مل جائے گی اسی پر عمل کریں گے، اور جب تك تکفیر پر اجماع نہ ہولے کافر نہ کہیں گے، وہی درمختار جس میں اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ [1] الخ اسی میں ہے:
|
الفاظہ تعرف فی الفتاوٰی بل افردت بالتالیف مع انہ لا یفتی بالکفر بشیئ منھا الا فیما اتفق المشائخ علیہ کما سیجیئ قال فی البحر وقد الزمت نفیس ان لا افتی بشیئ منھا [2]۔ |
یعنی الفاظ کفر کتب فتاوٰی میں معروف ہیں بلکہ ان کے بیان میں مستقل کتابیں تصنیف ہوئیں، اس کے ساتھ ہی یہ کہ ان میں سے کسی کی بناء پر فتوٰی کفر نہ دیاجائیگا مگر جہاں مشائخ کا اتفاق ثابت ہو جیسا کہ عنقریب کلام مصنف میں آتا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا: میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ ان میں سے کسی پر فتوٰی نہ دوں۔ |
تنویر الابصارمیں ہے :
|
لایفتی بتکفیر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن اوکان فی کفرہ خلاف ولوروایۃ ضعیفۃ [3]۔ |
کسی مسلمان کے کفر پر فتوٰی نہ دیا جائے جبکہ اس کا کلام اچھے پہلو پر اتار سکیں یا کفر میں خلاف ہو اگر چہ ضعیف ہی روایت سے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع