30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول: صدر کلام میں واضح ہوچکا کہ یہ کلام ہمارے ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے منقول نہیں، استدلال مسئلہ منصوصہ میں طبع آزمائی مشائخ ہے۔ فقہیات میں ائمہ کرام کے بعد مشائخ اعلام کی تقلید بھی علی الراس والعین کہ:
|
علینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کما لوافتونا فی حیاتھم [1]۔ |
ہمارے ذمہ اسی کا اتباع ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیا،جیسے وہ اپنی زندگی میں ہمیں فتوٰی دیتے توہماری ذمہ داری یہی ہوتی۔ (ت) |
مگر ؎
ہر سخن نکتہ وہر نکتہ مکانے دارد
(ہر بات میں کوئی نکتہ اور ہرنکتہ کا کوئی موقع ہوتا ہے۔ ت)
موافق مخالف سب اہل عقول کا قدیمی معمولی کہ ہر فن کی بات اس کی حدتك محدود مقبول ،تحقیق حلال وحرام میں فقہ کی طرف رجوع ہوگی، اور صحت وضعف حدیث میں تحقیقات فن حدیث کی طرف طبی مسئلہ نحو سے نہ لیں گے، نہ نحو ی طب سے علماء فرماتے ہیں شروحِ حدیث میں جو مسائل فقہیہ کتب فقہ کے خلاف ہوں مستند نہیں بلکہ تصریح فرمائی کہ خود اصولِ فقہ کی کتابوں میں جو مسئلہ خلاف کتب فروع ہومعتمد نہیں، بلکہ فرمایا جو مسئلہ کتب فقہ ہی میں غیر باب میں مذکور ہو مسئلہ مذکور فی الباب کا مقادم نہ ہوگا کہ غیر باب میں کبھی تساہل راہ پاتا ہے۔
|
وقد بینناکل ذلك فی رسالتنا المبارکۃ ان شاء اﷲ تعالٰی فصل القضاء فی رسم الافتاء۔ |
یہ سب ہم نے اپنے رسالہ فصل القضاء فی رسم الافتاء میں میں کیا ہے جو بابرکت ہے اگر اﷲ تعالٰی نے چاہا (ت) |
جو فرق مراتب گماکر خلط مبحث کر ےجاہل ہے یا غافل ذاہل ،برزخ ومعاد امور غیبیہ ہیں جن میں قیاس و اجتہاد کو دخل نہیں، ان کاپتا تو نبی امین الغیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہی کے ارشاد سے چل سکتا ہے نہ مشائخ کی رائے سے۔ بلکہ علمائے کرام کو اس میں اختلاف ہے کہ عقائد میں تقلید مقبول ہے یا نہیں۔ اﷲ تعالٰی کو ایک، رسول کو سچا، جنت ونار کو موجود، سوال و عذاب ونعیم قبرکو حق جاننے میں اس کا کوئی محل نہیں کہ فلاں فلاں مشائخ ایسا فرماتے تھے محض ان کے اعتبار پر مان لیا ہے ۔ ہاں عقائد میں کتاب وسنت واجماعِ اُمت و سواد اعظم اہل سنت کا اتباع ہے۔ اس لیے کہ خدا رسول نے ہمیں بتا دیا کہ اجماعِ ضلالت پر ناممکن اور سوادِ اعظم کا خلاف ا بتداع ہے۔ اب کتاب مجید دیکھئے تو بلاشبہ ثابت فرمارہی ہے کہ روح میّت نہیں، روح بے ادراك نہیں، روح کے ادراك بدن پر موقوف نہیں، روح فناے بدن کے بعد باقی ومدرك رہتی ہے برخلاف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع