دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 9 | فتاوی رضویہ ۹

book_icon
فتاوی رضویہ ۹

میں امتحان لینا وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ارحم ضعفنا یا کریم یا جمیل صل وسلم علی نبی الرحمۃ واٰلہ الکرام وسائر الامۃ اٰمین اٰمین یاارحم الراحمین۔ایسے عظیم وقت میں شاید آپ کا استغراقی خیال تو یہی حکم لگائے کہ کھلے میدان میں توپ کی آواز بھی سننے میں نہ آئے مگر مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی صحیح حدیثیں ارشاد فرمارہی ہیں کہ ایسی حالت میں اتنے پردوں میں مردہ ایسی خفی آواز جوتوں کی پہچل سنتا ہے جس کا تمھیں خود اعتراف ہے اور وہی امام عینی مستند مائۃ مسائل شرح صحیح بخاری شریف میں فرماتے ہیں :

فیہ ذھول عماورد فی بعض الاحادیث ان صاحب القبر کان یسأل فلما سمع صریر السبتتین اصغٰی الیہ فکاد یھلك لعدم جواب الملکین فقال لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم القھما لئلا توذی صاحب القبر ذکرہ ابوعبداﷲ الترمذی [1]۔

یعنی اس قائل کو یادنہ رہاوہ جو ایك حدیث میں ایا ہے کہ قبر والے سے سوال ہورہا تھا اتنے میں جوتوں کی پہچل اس نے سنی ادھر کان لگائے جواب میں دیر ہوئی، قریب تھا کہ ہلاك ہوجائے، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس جوتا پہن کر چلنے والے سے فرمایا انھیں اتارڈال کر مردے کوایذا نہ پہنچے۔ یہ حدیث ابوعبداﷲ محمد ترمذی نے ذکر فرمائی۔ (ت)

جس کا ادراك بہ نسبت ادراك روح بہت قاصر ومقصود، تو بداہۃً ثابت کہ احوال برزخ آپ کے اوہام عادیہ سے منزلوں دور، اور عادات معہودہ دار دنیا پر ان کا قیاس باطل و مہجور۔

عائدہ رابعہ: ادراك روح مشروط بجسم ہیں یا نہیں، توضیح مقام یہ کہ وہ جو ملا تفہیمی نے اہل سنت سے نقل کیا کہ ادراك الم ولذت کے لیے وقت تنیعم وتعذیب ( جسے وقت ایلام وتعذیب کہا اور ان کے نصیبوں لذت کے حصے کا بھی الم ہی رہا) ایك نوع حیاتِ میّت آجاتی ہے اور اس سے سماع لازم نہیں (قطع نظر اس سے کہ فقرہ آن مستلزم سماع نیست عبارات مستندہ میں نہیں) یہ قول اہلسنت بھی قطعًا بدن ہی کے حق میں ہے کہ قبر میں عود حیات اسی کےلیے ہوتا ہے، اور اگر حدوث زیادت تعلق بالبدن وقت انعام وایلام وسوال کو روح کے لیے عود حیات سے تعبیربھی کیجئے توا س سے اگر فرق پڑے گا توا دراکات جسمانیہ میں جس کا حاصل تفاوت آلیت بدن کی طرف آئل مگر اہلسنت کے نزدیك ادراکات روح بدن پر موقوف نہیں تو وہ ان تعلقات حادثہ سے پہلے بھی ویسے ہی مدرکہ عالمہ مبصرہ سامعہ تھی جیسی ان کے بعد یہ تفاوت کہ ایك نوع حیات ملتی ہے جس سے ادراك لذت والم تو ہو اور سماع نہ وہ وہاں ماشی نہیں آخر یہاں گھٹا بڑھا کیا یہی بدن سے تعلق، پھر اس سے ادراکاتِ روح کو کیا علاقہ تھا کہ اس کے تفاوت سے وہ متفاوت ہوں بخلاف بدن کہ اس کے ادراکات بنفسہٖ نہیں بلکہ تعلق روح ہی کے باعث ہیں اور تعلقات متفات


 

 



[1] عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری با ب المیّت یسمع خفق النعال ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸/۱۴۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن