30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیب پر رجمابا بالغیب حکم لگانا ضلالت وعیب امام الحرمین ارشاد میں ارشاد فرماتے ہیں :
|
لا یتقدر الحکم بثبوت الجائز ثبوتہ فیما غاب عناالا بسمع [1]۔ |
جو چیز یں ہم سے غائب ہیں ان میں کسی ممکن الثبوت امر کے ثابت ہو جانے کا حکم دلیل سمعی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (ت) |
شرح عقائد نسفی میں ہے:
|
القضا یامنھا ماھی ممکنات فلاطریق الی الجزم باحدجانبیھا فکان من فضل اﷲ ورحمتہ ارسال الرسل لبیان ذلك [2]۔ |
قضایامیں سے ممکنات بھی ہیں ان کی دوجانبوں میں سے کسی ایك کے جزم کی کوئی سبیل نہیں تو اﷲ تعالٰی اس کے بیان کے لیے اپنے فضل و رحمت سے رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ (ت) |
تفسیر کبیرمیں ہے :
|
کل ماجاز وجودہ عدمہ عقلا لم یجز المصیر الی الاثبات اوالی النفی الابدلیل ٣[3]۔ |
عقلًاجس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہو اس میں دلیل سمعی کے بغیر اثبات یانفی کی طرف جانے کا جواز نہیں(ت) |
لاجرم اشتغال کے سبب عدم سماع کا شگوفہ مہمل وبیکار ہو کر رہ گیا اور شرع مطہر سے جداگانا دلیل کی حاجت رہی کہ یہ تلذذ وتالم مانع سماع ہیں اگر دلیل نہیں اور بیشك نہیں تو آپ کا خذلان وخسران ظاہر وعیان، ورنہ وہ دلیل ہی نہ دکھائے، عبث وناتمام باتوں میں کیوں وقت گنوائیے۔سابعًا اگر یہ اشتغال مانع سماع ہوتا خواہ تمھاری ہو سات عاطلہ خواہ جہاں فلاسفہ کے مقدمہ باطلہ سے جس کی دھجیاں امام فخرالدین رازی وغیرعلماء اڑا چکے کہ نفس آن واحد میں دو چیزوں کی طرف توجہ نہیں کر سکتا تو واجب کہ اہل برزخ کو کلام ملائك کا بھی سماع نہ ہوتا کہ استغراق مانع کے آگے سماع سماع سب ایك سے حالانکہ تالی قطعًا باطل ہے تو یوں ہی مقدم، غرض استغراق کو امور برزخیہ ودنیویہ میں فارق بنانا چاہا تھا وہ خود محتاج فارق ہے۔ثامنًا العظمۃ ﷲ والضراعۃ الی ا ﷲ (عظمت وبزرگی اﷲ کے لیے ہے اور ضعف وذلالت اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے۔ ت) وہ موت کا تازہ صدمہ اٹھائے ہوئے روح جس کا ادنٰی عــــہ جٹھکا سو ضرب شمشیر کے برابر ،
|
عــــہ: ابن ابی الدنیا عن الضحاك بن حمزۃ مرسلا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱۲ |
اسے ابن ابی الدنیا نے ضحاك بن حمزہ سے مرسلًا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع