30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منافی سے ملتصق۔
ثانیًا یوں بھی اعتزال سے مفر کہاں، جب باوصف موت ادراکات امور برزخ علم وسمع وبصر باقی مانے تو اور معتزلہ کا مذہب نہ سہی، طوائف معتزلہ سے فرقہ صالحیہ کا مشرب سہی، جس کا ذکر آپ نے اسی تفہیم المسائل میں بہ شدت سفاہت مقابل اہلسنت کیاتھا کہ:
|
درشرح مواقف نو شتہ کہ تجویز قیام علم وقد رت وارادہ وسمع وبصر میّت مذہب فرقہ صالحیہ از معتزلہ لہ است [1]۔ |
شرح مواقف میں لکھا ہے کہ میّت کے ساتھ علم، قدرت، ارادہ اور سمع وبصرہ قائم ماننا معتزلہ کے فرقہ صالحیہ کا مذہب ہے۔ (ت) |
ذی ہوش کو اتنی نہ سوجھی کہ اہل سنت نے کس دن موصوف بالموت کو بحال موصوفی بالموت موصوف بالادراك مانا تھا، وہ تو جس کے لیے ادراکات مانتے ہیں اسے ہرگز میّت نہیں کہتے ہمیشہ زندہ جانتے ہیں، مگر ہاں اب آپ نے روح کو میّت بھی مانا اور عذاب قبر ٹھیك کرنے کے لیے ادراکاتِ برزخیہ بھی ثابت کیے، یہ عین مذہب صالحیہ سے وہ بھی اسی طور پر قائل عذاب ہوئے ہیں، اسی مستخلص الحقائق مستند مائۃمسائل کی عبارت جواب اول کی دلیل ہفتم میں گزری کہ صالحی کے نزدیك میّت باوصف موت معذب ہوتا ہے، نیز اسی کفایۃکی اسی بحث میں ہے :
|
عن ابی الحسن الصالحی یعذب المیّت من غیر حیاۃ اذالحیاۃ عندہ لیست بشرط لثبوت الالم[2]۔ |
ابوالحسن صالحی سے منقول ہے کہ میّت کو بغیرحیات کے عذاب ہوتاہے اس لیے کہ اسی کے نزدیك ثبوت الم کے لیے حیات شرط نہیں۔ (ت) |
نیز وہی امام عینی عمدۃ القاری میں بعد ذکر مذہب صالحی فر ماتے ہیں :
|
وھذا خروج عن العقول لان الجماد لاحس لہ فکیف یتصور تعذیبہ [3]۔ |
اوریہ معقول سے خروج ہے اس لیے کہ جماد کے پاس حِس نہیں ہوتی توا س کی تعذیب کیونکر متصور ہوگی۔ (ت) |
اگرکہیے ہم یہ ادراکات بعودِ حیات مانتے ہیں بخلاف صالحی اقول ذرا ہوش میں آکر بھلا اس عود حیات پہلے بھی روح کو ادراك امور برزخیہ تھا یا نہیں، اگر نہیں تو حجاب منکشف اور عذر منکسف، ثابت ہواکہ تم نے روح کو وہی موت مانی جو منافی مطلق ادراك ہے۔ اب عام معتزلہ میں جا ملے، اور اگر ہاں تو عود حیات کا حیلہ اٹھ گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع