دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 9 | فتاوی رضویہ ۹

book_icon
فتاوی رضویہ ۹

اقول :ہاں مگر اس کا اثر ادراکات روح پراصلا نہیں کما مرّمرارًا ( جیساکہ کئی بار گزرا۔ ت) خود ملاجی کی عبارت بیہوشی مظہر حوالہ تفسیر عزیزی ابھی گزری اور تم صراحۃً وہ موت مان رہے ہوجو نافی ومنافی ادراك ہے اسی کو کلام مشائخ سے نقل کرتے اور اسی پر انکار سماع کی بناء رکھتے ہو توقطا موت حقیقی مراد لیتے ہو اور اسے روح کے لیے ماننا ، یہی اعتزال ہے۔ اگر کہئے معتزلہ توروح کے لیے موت منافی مطلق ادراك مانتے ہیں، ولہٰذا عذاب قبر محال جانتے ہیں اور یہاں مراد وہ موت ہے جسے صرف ادراك صور واصوات دنیاوی سے تنافی ہو نہ برزخیہ سے۔

اقول: اولًا یہ تخصیص محض بے دلیل وباطل ہے، موت بھی مانو منافی ادراك بھی جانو، جیسا کہ کلام مشائخ میں مصرح ہے پھر اسے ادراك بعض دون بعض سے خاص کرو، یہ جہل اقبح ہے موت کہ منافی ادراك سے ہر ادراك کے منافی ہے اور نہیں تو کسی کے نہیں، خود اسی تفہیم المسائل میں براہ جہالت اپنی سند سمجھ کر نقل کیا۔

درمدارك نوشتہ توفیھا اماتتھا وھوان یسلب ماھی بہ عــــہ۱ حیۃ حساسۃ دراکۃ[1]۔

مدارك میں لکھا ہے: توفٰی کا معنی انھیں موت دینا وہ یہ کہ جس امر کی وجہ سے یہ زندہ، حساس، با ادراك ہیں اسے سلب کرلیا جائے۔ (ت)

پھر لکھا :

امام راغب درمفردات گفتہ کہ الموت زوال القوۃ الحساسۃ ٢[2]۔

امام راغب نے مفردات میں فرمایا: موت قوت احساس کے زوال کا نام ہے۔ (ت)

کیوں حضرات! جب راسًا حس وادراك کی قوت زائل ہوگئی مدرکہ ہی چل دی تو اب ادراك بعض کا ہے سے ہوگا یارب! یہ موت کون سی کہ آدھی کو شنوا آدھی سے بہری، آدھی سے اندھی، ایك فرد ادراك بھی باقی ہے توحیات ثابت ہے اور موت منتقی کہ حیات باجماع عــــہ۲ عقلًا شرط ادراك ہے اور موت منافی مشروط نہ بے شرط متحقق ہوگا نہ منافی

عــــہ۱: صحیح ہم چناں است ودرتفہیم المسائل ایں را ماھی جثۃ ساختہ ودرغلط نامہ ہم بہ تصحیحش نہ پرداختہ پر غلط است ۱۲منہ (م)

عــــہ۲: ای ومن خالف فقدخرج من المعقول فکان لم یبق من اھل العقول وھم الشرذمۃ الذلیلۃ الصالحیۃ ۱۲ منہ (م)

صحیح بھی اسی طرح ہے (ماھی بہ حیۃ) تفہیم المسائل میں اسے ماھی جثۃ بنادیا اور غلط نامہ میں بھی اس کی تصحیح نہ کی جبکہ یہ بلکل غلط ہے۔ (ت)

یعنی جو بات ہو اوہ معقول سے خارج ہوا توا ہل عقول سے نہ رہا، اوریہ فرقہ ذلیلہ صالحیہ والے چند افراد ہیں۔ (ت)

 


 

 



[1] تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨٢

[2] تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨٢

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن