30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے خطا کی اور یہاں خطاز یادہ قبیح واقع ہوئی، پھر فرمایا:
|
وانا متعجب لکونھم تدا ولوا ھذہ العبارات متونا والشروحا وفتاوی ولم ینتہوالما اشتملت علیہ من الخطاء بتغیر الاحکام واﷲ الموفق للصواب وقد یقع کثیرا ان مؤلفا یذکر شیئا خطأفی کتاب فیأتی من بعدہ من المشائخ فینقلون تکل العبارۃ من غیر تغییر ولاتنبیہ فیکثر الناقلون لھاد اصلھا الواحد مخطی کما وقع فی ھذا الموضع ولاعیب بھذا علی المذھب لان مولنا محمد بن الحسن ضابط المذھب لو یذکر علی ھذا الوجہ قد بنھنا علی امثل ذٰلك فی الفوائد الفقیہ فی قول قاضی خاں وغیرہم ثم نبھت علی ان اصل ھذہ العبارۃ للناطفی اخطأ فیہ ثم تداولوھا [1] (ملخصا) |
یعنی مجھے تعجب ہے کیونکہ ان عبارتوں کو متون وشروح و فتاوٰی سب میں ایك دوسرے سے لیتے نقل کرتے چلے آئے اور اس میں خطا پر متنبہ نہ ہوئے کہ احکام بدلے جاتے ہیں اور اﷲ ہی صواب کی توفیق دینے والا ہے اور کھبی بکثرت واقع ہوتاہے کہ ایك مصنف براہ خطا ایك بات اپنی کتاب میں ذکر فرماتاہے پھر بعد کے آنے والے مشائخ اسے ویسے ہی بلا تنبیہ نقل کرتے چلے جاتے ہیں توا س کےناقل بکثرت ہوجاتے ہیں، حالانکہ اصل میں ایك شخص کی غلطی تھی، جیسا یہاں واقع ہوا، اور اس سے مذہب پر کوئی طعن نہیں آتا کہ ہمارے سردار امام محمد محرر مذہب نے اس طورپر ذکر نہ کیا اور اسی طرح ایك واقعے پرہم نے فوائد فقہیہ میں تنبیہ کی کہ امام قاضی خاں وغیرہ یعنی صاحب خلاصہ وصاحب ولوالجیہ وغیرہم نے ایك حصر فرمایا اور وہ غلط تھا پھر میں نے آگاہ کردیا کہ یہ اصل خطا ناطفی سے واقع ہوئی ان کے بعد مشائخ اسے یونہی نقل کرتے رہے۔ |
فقیرکہتا ہے غفراﷲ تعالٰی کہ اس قسم کا ایك واقعہ عظیمہ امام اجل ابوجعفر طحاوی کی طرف ایك ترجیح و افتا کی نسبت واقع ہوا جس میں تداول وتوارد نقول آج تك چلا آیا اور ہمارے زمانے تك کسی نے اس پر متنبہ نہ فرمایا یہاں تك کہ سب میں متاخر محقق مبصر علامہ شامی کوبھی وہی راستہ بھایا مگر فقیر غفراﷲ المولی القدیر نے بدلائل ساطعہ قاطعہ امام طحاوی کا فتوٰی نہ اس پر بلکہ قطعا اس کے برعکس ہونا خود کلام امام ممدوح کے اٹھارہ نصوص ودلائل سے ثابت کردکھا یا اور اس بارے میں محض بغرض ا ظہار حق وحفظ مذہب ودفع تشنیع مخالفین ایك خاص رسالہ الزھر الباسم فی حرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم(١٣٠٧ھ) معرض تصنیف میں لایا وﷲ الحمد حمد اکثیراعلی ماوھب من جزیل العطا یا مانحن فیہ (اور اﷲ ہی کے لیے حمد ہے کثیر حمد اس پر جو اس نے جزیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع