30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر۴: ٢٩ جمادی الآخرہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کو نہلانے کے لئے جو تختے پر لٹائیں تو شرقاً غرباً لٹائیں کہ پاؤں قبلے کو ہوں، یا جنوباً شمالہً کہ دہنی کروٹ قبلہ کو ہو۔بینوا تو جروا۔
الجواب:
سب طرح درست ہے، مذہبِ اصح میں اس باب میں کوئی تعیین وقید نہیں، جو صورت میسر ہو اُس پر عمل کریں۔
|
فی الھندیہ عن الظھیریۃ کیفیۃ الوضع عند بعض اصحابنا الوضع طولاکما فی حالۃ المرض اذا ارادالصلٰوۃ با یماء، ومنھم من اختار الوضع کما یوضع فی القبر والاصح انما یوضع کماتیسر [1]اھ |
ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے: ہمارے بعض علماء کے نزدیك لِٹانے کی صورت یہ ہے کہ طول میں لِٹایا جائے جیسے بیماری کی حالت میں جب اشارے سے نماز پڑھنا چاہے تو یہی صورت ہے، اور بعض حضرات نے عرض میں لٹانا پسند کیا ہے جیسے قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور اصح یہ ہے کہ جیسے میسر ہو لٹایا جائے اھ (ت) |
اس طرح بحرالرائق و درمختار وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۵: ٤صفر ١٣٢٠ھ
کاٹنا مرد کے بال مرنے کے بعد جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
ناجائز ہے،
|
فی الدرلایسرح شعرہ ای یکرہ تحریما ولایقص ظفرہ الاالمکسور ولاشعرہ ولایختن٢[2]،وفی رد المحتار عن النھر |
در مختار میں ہے: میّت کے بالوں میں کنگھا نہ کیا جائے یعنی یہ مکروہِ تحریمی ہے، اور اس کے ناخن نہ تراشے جائیں مگر جو ٹوٹا ہُوا ہے، نہ ہی بال تراشے جائیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع